Input your search keywords and press Enter.

اقوام متحدہ میں وزیر اعظم کی کشمیر پر وکالت

وزیرا عظم نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے وکیل اور سفیر بنیں گے، اس فریضے کی ادائیگی میں انہوںنے سرگرمی دکھائی۔ ابھی پچیس ستمبر کو بھی انہوںنے جنرل اسمبلی اجلاس سے ویڈیو خطاب کیاا ور کشمیر کا مقدمہ بڑی مہارت سے لڑا۔ انہوںنے عالمی ادارے کواسکے قیام کے بنیادی مقاصد یاد دلاتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا سے تنازعات کو ختم کرے گا اس لئے وہ اسے یاد دلا رہے ہیں کہ جس طرح اس نے مشرقی تیمور کا مسئلہ حل کر نے میں غیر معمولی پھرتی کا مظاہرہ کیا اسی طرح وہ کشمیر کا مسئلہ بھی اپنی ہی متعدد قرارداوں کی روشنی میں حل کرائے۔ انہوںنے کہا کہ پچھلے سال ان کی تقریر کے بعد سلامتی کونسل نے تین باراس مسئلے پر غور کیا مگر مسئلے کے حل کے لئے کوئی عملی اقدا م نہیںکیا جس کی وجہ سے وادی کشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بھارت نے ایک سال میں ایک لاکھ مزید فوج وادی میں بھجوا دی ہے اور اب نولاکھ بھارتی فوج کشمیریوںکے سرپہ سنگینیں تانے کھڑی ہے۔ ایک سال میں تیرہ ہزار نوجوانوں کو غائب کر دیا گیا ہے۔ ان گنت لوگوں کو سرچ آپریشن کی آڑ میں شہید کر دیا اور خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی ہے، انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی تفصیل خود اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں درج ہے، بھارت نے پورے کشمیر کو ایک وسیع جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیئے ہیں اور کسی بیرونی ادارے کو کشمیریوں کے مصائب کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی

وزیرا عظم نے کہا کہ کرونا نے پوری دنیا کو متحد کیا اور یہ احساس اجاگرہوا کہ کسی ایک انسان کی بیماری کی صورت میں دنیا کے سب انسان اس بیماری سے غیر محفوظ رہیں گے مگر اس مو قع پر بھی بھارتی حکومت نے سنگدلی کی انتہا کر دی اور جنیوا کنونشن جو منع کرتا ہے کہ کسی کو اس کے رنگ نسل یا مذہب کی بنا پر ٹارگٹ نہ کیا جائے، بھارت نے اس اصول کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ کروناپھیلانے کے مجرم ہیں، بھارت نے شہریت کے قانون کے تحت لاکھوں آسامی مسلمانوں کو اپنی شہریت سے محروم کر دیااور اب وہ خیمہ بستیوں میں گل سڑ رہے ہیں،بھارت کی یہ سوچ آر ایس ایس کے فلسفے کی غمازی کرتی ہے کہ ہندو قوم باقی اقوام سے برتر ہے اورا ٓر ایس ایس نے یہ نظریہ ہٹلر کے نازی ازم سے مستعار لیا تھا جس کے تحت نازی جرمنی کو زعم ہو گیا کہ وہ باقی انسانوں پر برتر حیثیت کے حامل ہیں اور اقوام عالم پر فوقیت رکھتے ہیں،۔نازی ازم کی اس سوچ نے دنیا میں دو بڑی جنگوں کاآغاز کیااور اب بھارت کی آر ایس ایس ذہنیت بھی عالمی امن کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے۔ بھارت نے بر بریت اوروحشت پن کا کھیل ایک ایسے خطے میں رچا رکھا ہے جو ایٹمی اسلحے ا ور دور مار میزائلوں سے بھرا ہوا ہے اور ذرا سی چنگاری نہ صرف خطے کو بلکہ امن وعالم کو خطرے میںمبتلا کر سکتی ہے،۔ بھارت جان بوجھ کر روزانہ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر کشمیریوں اور پاکستانیوںکو شہید کر رہاہے وہ پاکستان کو اشتعال دلانا چاہتا ہے مگر ہم نے تحمل اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے مگر کب تک ہم اپنے پیاروں کے خون کی ہولی کا تماشہ دیکھتے رہیں گے،۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ ایک بار پھر پاکستان پر کوئی سرجیکل اسٹرائیک کرے اور میںواضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بھارت کی اس جارحیت کو ہر گز برداشت نہ کیا جائے گاا ور ہم آخری سانس تک اپنے دفاع کا حق استعمال کریںگے جو یہی عالمی ادارہ ہمیں عطاکرتا ہے۔

مہذب دنیا اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی ملک اندھی طاقت کے بل بوتے پر یا عوام کی امنگوں کے برعکس کسی علاقے کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کر سکے مگر بھارت نے اپنے ہی آئین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بر عکس کشمیر کو پچھلے سال پانچ اگست کو ہڑپ کر لیا ۔ یہ تو جنگل کا قانون ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ یہی ا صول فلسطین پر اسرائیل نے رائج کر رکھا ہے ۔ وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں استصواب کے ذریعے اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے اور فلسطین میں سرسٹھ سے قبل کی سرحدوں کو بحال کیا جائے ا ور القدس شریف کو آزاد فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے۔ اقوام متحدہ کے اپنے فیصلوں کی روشنی میںان دنوںمسائل کا یہی حل ہے اور اگر ان مسائل کو کسی نے بھی یک طرفہ طور پر اپنی مرضی سے حل کرناچاہا تو ایک طرف بر صغیر میں اور دوسری طرف عالم عرب میں سنگین صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ذاتی طورپر تمام مسائل کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میںہیں اور طاقت سے مسائل حل کرنے کے خلاف ہیں، اسی لئے پاکستان نے افغان،مسئلے کے حل کے لئے امریکہ ا ور طالبان کو ایک میز پر بیٹھانے میں سہولت کار کردارا دا کیا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ افغانستان میںمستقبل کی حکومت کسی بیرونی دبائو اورمداخلت کے بغیر قائم ہو جائے گی تاکہ یہاں مستقل امن قائم ہو سکے۔ اسی طرح ہم کشمیر کا مسئلہ بھی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں ۔ اس ضمن میں سلامتی کونسل کی قراردادیں ہماری راہنمائی کر سکتی ہیں اور ایک آزادانہ غیرجانبدارانہ استصواب کے ذریعے کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، یہی امن کا راستہ ہے مگر بھارت اسے اختیار نہیں کرنا چاہتا اور وہ خطے اور دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کو اپنا فرض اداکرنا چاہیے اور بھارت کو لگام ڈالنی چایئے تاکہ کشمیر کا منصفانہ اور دیر پا حل تلاش کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے