Input your search keywords and press Enter.

اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے

گزشتہ روز یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے باور کرایا کہ سلامتی کونسل نے گزشتہ سال تین بار کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔جبکہ دوسری طرف انہوں نے مودی سرکار کو پیغام دیتے ہوئے باور کرایا کہ اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی تو قوم اسے بھرپور جواب دیگی۔ انہوں نے کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج بلائی گئی‘ بین الاقوامی برادری لازمی طور پر کشمیر میں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے‘ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا اور مودی کے اقدامات قابل مذمت ہیں۔ کشمیر میں مظالم نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کایو این اجلاس میں مسئلہ کشمیرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل اور ہندوستانی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا بیان بلاشبہ قابل تحسین ہے کیونکہ گذشتہ 7 دہائیوں سے یہ مسئلہ حل طلب ہے اور اس پر عملی اقدام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ دو ایٹمی طاقتوں کے بیچ خطرے کی گھنٹی بنا ہوا ہے۔متعدد بار پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کی پیشکش کی گئی لیکن ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خطے کے امن کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے ۔

ماضی قریب میں وزیراعظم عمران خان نے تو گزشتہ سال بھی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر مستقل تسلط کے حوالے سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرات کا باعث بننے والے بھارتی عزائم دلائل کے ساتھ اور ٹھوس بنیادوں پر بے نقاب کئے تھے اور عالمی قیادتوں کو باور کرایا تھا کہ اگر مودی سرکار کے جنونی ہاتھ نہ روکے گئے تو وہ علاقائی اور عالمی امن بھسم کرکے رکھ دیگی اس لئے اب عالمی قیادتوں اور نمائندہ اداروں کو مصلحتوں کے لبادوں سے باہر نکلنا ہوگا تاہم عالمی قیادتوں کی جانب سے کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی شرانگیزیوں اور مظالم پر محض رسمی احتجاج اور مذمتی قراردادوں پر ہی صاد کیا گیا اور سلامتی کونسل کی تیسری ہنگامی نشست میں بھی کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے سے گریز کیا گیا چنانچہ مودی سرکار کے توسیع پسندانہ عزائم پھیلتے پھیلتے چین کی سرحد سے بھی آگے نکل گئے اور اسکی فوجوں نے چین کی پیپلز لبریشن فورس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ شروع کر دیا۔

مودی سرکار اپاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں سے باز نہیں آئی اور نہ آئے گی اور اس نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی بنیاد پر گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی آئین کی دفعات 370‘ اور 35اے حذف کراکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور اس پر عملاً اپنا تسلط جمالیا اور لداخ کو کشمیر سے الگ کرکے اسے بھارتی یونین کا حصہ بنادیا جس کا مقصد پاکستان کے علاوہ چین کی سلامتی کیخلاف بھی سازشوں کا جال پھیلانا تھا۔ چین نے اسی بنیاد پر بھارت کے 5 اگست کے اقدام کیخلاف عالمی رائے عامہ ہموار کی اور سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرکے مذمتی قرارداد منظور کرائی اور مسئلہ کشمیر کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کا تقاضا کیاجبکہ یواین سلامتی کونسل سمیت نمائندہ عالمی اداروں نے بھی اپنے ہنگامی اجلاسوں میں بھارت کی اس حرکت کا سخت نوٹس لیا۔

پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بھارتی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر پانچ اگست کو یوم استحصال کشمیر منایا تو دنیا بھر نے پاکستان کی اس کال کا ساتھ دیا جبکہ کشمیری عوام بھی یوم استحصال کے حوالے سے پاکستان کے ہم آہنگ ہوگئے۔ یہ حقیقت ہے کہ تسلسل کے ساتھ جاری بھارتی مظالم سے کشمیریوں کا کیس مزید مضبوط ہوا ہے مگر مودی سرکار آج بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صورتحال میں عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو مودی جنونیت کے آگے بند باندھنے کیلئے رسمی احتجاج سے آگے بڑھ کر موثر عملی اقدامات اٹھانا چاہئیں تاکہ کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی مل سکے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے