لاہور (پ ر) بھارتی حکومت کی طرف سے غیرکشمیری باشندوں کو ریاست باشندہ سرٹیفکیٹ کا اجراء عالمی قوانین اور ماضی میں کشمیر کو دی گئی خصوصی اہمیت جس کے تحت کسی غیر کشمیری کو وادی میں جائیداد کی خریدو فروخت اور شہریت کی اجازت نہ تھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس کی پرزور مذمت کی جاتی ہے۔ اب تک پانچ لاکھ سے زائد ہندوؤں کو سرٹیفکیٹ دیئے جا چکے ہیں اور مزید بارہ لاکھ افراد کو شہریت سرٹیفکیٹ کا اجراء متوقع ہے۔ ایک طرف قابض بھارتی افواج کو وسیع تر اختیارات دے کر معصوم کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھانے‘ دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات لگا کر نوجوانوں کو عقوبت خانوں کی نظر کرنے‘ جھوٹے فوجی آپریشن کے نام پر بے گناہوں کو قتل کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے تو دوسری طرف کشمیری مسلمانوں کی واضح اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے بھارتی ہندوؤں جن کی اکثریت کا تعلق انتہا پسند تنظیموں سے ہونے کے واضح امکانات ہیں وہاں آباد کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر ویلفیئر سوسائٹی لاہور کے صدر راجہ اعجاز نے کیا۔
کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری قابل مذمت ہے: راجہ اعجاز
