Input your search keywords and press Enter.

جموں کشمیر سے متعلق چند معلومات

ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق جموں کشمیر 10 ہزار سال قبل معرضِ وجود میں آئی،کشمیرکی پہلی باقاعدہ حکومت 6ہزار سال تک رہی۔کشمیر پر 21 غیر مسلم خاندانوں نے حکومت کی،کشمیر کا پہلا مسلمان بادشاہ سلطان صدر الدین تھا،کشمیر میں دین اسلام کی تبلیغ کا کام 14ویں عیسوی صدی میں شروع ہوا،کشمیر میں پہلا مبلغ اسلام سید شرف الدین بلبل شاہ تھا،مارکو پولو 1277ء میں کشمیر آیا،برنئیر پہلا یورپی سیاح تھا جو 1564ءمیں کشمیر آیآ،کشمیر پر شاہ میری نے 216ء(1338/1555) برس حکومت کی،

کشمیر پر چک خاندان نے 31ءبرس (1555/1586)حکومت کی،کشمیر پر مغل خاندانوں نے 166ء(1586/1752)برس حکومت کی؛کشمیر پر افغانوں نے 66ء(1752/1819)برس حکومت کی،کشمیر پر سیکھوں نے 27ء(1819/1846)برس حکومت کی،کشمیر پر ڈوگرہ خاندانوں نے 101ءبرس (1846/1947)حکومت کی،

ریاست جموں کشمیر کا کل رقبہ 84471مربع میل ہےریاست جموں کشمیر کے چار صوبے ہیں،ریاست جموں کشمیر پر اس وقت دنیا کے تین ممالک کا قبضہ ہے،

ریاست جموں کشمیر کے 41342ءمربع میل، پر بھارت کا قبضہ ہے،ریاست کشمیر کے 33958ء مربع میل پر پاکستان کا قبضہ ہے،ریاست جموں کشمیر کے 9171ء مربع میل پر چاینہ کا قبضہ ہے، یاد رہے کہ منافکستان نے کشمیر کا ایک صوبہ چاینہ کو تحفے میں دیا ہے،چین نے اس پر 1962ء میں قبضہ کیا،ریاست جموں کشمیر رقبے کے لحاظ سے 111 ممالک سے بڑا ہے،اور آبادی کے لحاظ سے 135ممالک بڑی ریاست ہے،ریاست جموں کشمیر کا اپنا سکہ 1899ء تک رائج رہا،،۔میرے سب کشمیری بھائیوں سے یہ سوال ہے؟ کہ دنیا کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں خود  آزاد اور خود مختار بن گئی اور اب تک ریاست جموں کشمیر کیوں نہیں الگ ریاست بنی ،کیا وجہ ہے آخر،جو بھی ریاست کی بات کرتا ہے اس کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتاہے، ہم کو بکریوں بکریوں کا ریوڑ سمجھا جا رہا ہے کب تک ایسے چلے گا خداراہ کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دے گا آزادی اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں،کسی کی امید پر جینا چھوڑ دو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو ،

کیا ہمارا حق نہیں ہے،آزاد خود مختار،مقبوضہ کشمیر میں 1 سال سے زائد  عرصہ ہو گیا کرفیو لگایا گیا کس کو نہی علم کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور اب وہی حال آزاد کشمیر میں بھی شروع ہو گیا ہے گلگت کوصوبہ بنانے کے چکر میں ہیں،یہ کون سا قانون ہے،اس کا صرف کشمیریوں کو ہے اور رہے گا کسی منافق کو نہیں ملے گا،انشاءاللہ،اندھے کو بھی اگر بتاؤ کہ اب کی یہ پوزیشن ہے تو وہ۔ جی سمجھ جائے گا کہ بعد میں کیا ہونے والا ہے، خدارا ریاست کے ساتھ غداری نہ کرو،، سب ایک ہو جاؤ اور ریاست بچاؤ،،

بقول مقبول بٹ شہید ہے کہتم یہ مت سمجھنا کہ میرے مرنے سے آزادی کی جد و جہد ختم ہو جائے گی بلکہ اصل جدو جہد میرے مرنے کے بعد شروع ہو گی،

یوں۔ کب تک ہم جیلوں میں بند رہینگے ایک دن ضرور آئےگا کہ یہ ریاست آزاد ہوگی، انشاءاللہ ریاست جموں کشمیر بنے گا خود مختار، ریاست جموں کشمیر پائندہ باد ان شاءاللہ

آج سے 1 سال قبل مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ریاست کشمیر کیا ہے کونسی ہے اور کہاں ہے الحمدللہ،اب میری ہر ایک سانس ریاست جموں کشمیر کی آزادی کے لیے قربان ہے،

 ازقلم شفاقت حسین کشمیری،،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے