جموں:(پاک آنلائن نیوز) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور جموں و کشمیر سوشل پیس فورم کے چیئرمین دیویندر سنگھ بہل نے کہا ہے کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دیویندر سنگھ بہل نے جموں میں پارٹی کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر نہتے کشمیریوں کا قتل عام کیاہے اور بے گناہوں کا ناحق خون بہایا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر رواں سال 18جولائی کو ضلع شوپیاں کے علاقے امشی پورہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک جعلی مقابلے میں تین کشمیری محنت کشوں کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج تک مقبوضہ علاقے میں جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیریوں کے قتل میں ملوث کسی بھی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی فورسز کو کالے قوانین کے ذریعے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ کسی کوجواب دہ نہیں ہیں۔
حریت رہنما نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کیلئے فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہا ہے لیکن شائد وہ بھول گیا ہے کہ کسی بھی قوم کی جدوجہد آزادی کو کبھی دبایا نہیں جاسکتا اور کشمیری اپنے ناقابل تنسیخ حق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جو انہیں عالمی برادری نے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر کی وجہ سے دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں اگر یہ مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو خطہ کسی بھی وقت ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
دیویندر سنگھ بہل نے کہا کہ پاکستان روز او ل سے ہی مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پرامن حل کا خواہاں ہے جبکہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہمیشہ اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی کے قیام کیلئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس دیرینہ تنازعے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔
