ریاض ملک
قسط نمبر1
سقوطِ کشمیر کو ایک سال ہوچکا لیکن اس ایک سال میں کشمیریوں کے ہاتھ ناکامیوں، مایوسیوں اور نامرادیوں کے سوا کچھ نہیں لگا۔
یاس، ناامیدی، نامرادی، ناکامی، ظلم وجبر، زباں بندی، جبری خاموشی، معاشی تنگدستی، تعلیمی تعطل، تجارتی جمود، سیاسی بے اختیاری، آئینی پامالی، حقوق کی نیلامی۔
اگر بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے گزشتہ ایک سال کے سفر کو مختصراً بیان کرنا ہو تو یہ الفاظ کافی ہیں۔
وہ کہتے ہیں نا کہ آنے والے واقعات اپنی آمد کا اعلان پہلے ہی کردیتے ہیں، تو جموں وکشمیر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ دراصل دائیں بازو کی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جتنا پارٹی (بی جے پی) جب 2014ء میں برسرِ اقتدار آئی تب سے ہی کشمیر میں یہ وسوسے غالب ہونے لگے تھے کہ بچی کھچی نام نہاد اندرونی خود مختاری کا جنازہ نکالنے کے جتن بھی کیے جائیں گے کیونکہ بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سنگھ (آر ایس ایس) کا 1947ء سے ہی یہ نعرہ تھا کہ ایک ملک میں 2 آئین اور 2 پرچم نہیں رہ سکتے ہیں، لیکن چونکہ بھارتیہ جتنا پارٹی بیشتر عرصہ اقتدار سے باہر ہی رہی اس لیے انہیں اپنے خاکوں میں رنگ بھرنے کا موقع میسر نہ ہوا۔
اٹل بہاری واجپائی کی صورت میں ایک دفعہ اقتدار ملا بھی تو وہ لولی لنگڑی سرکار تھی اور اتحادیوں کی بیساکھیوں کے سہارے اپنا وقت نکال گئی تاہم اس دفعہ معاملہ بالکل مختلف تھا۔
نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے کشمیر، پاکستان اور مسلم معاملات کو لے کر انتخابی مہم چلائی اور ماحول کو کچھ ایسا بنادیا کہ ملک کی ہندو اکثریتی آبادی کو مودی اور اس کی جماعت بی جے پی نجات دہندہ نظر آنے لگی۔
پھر کیا تھا، ووٹوں کی برسات ہوئی اور ہر سو کنول ہی کنول کھلنے لگے اور اپوزیشن کے طویل سوکھے پر اقتدار کی برسات ہوئی اور ان علاقوں سے بھی کنول کھل اُٹھے جو صدا بھاجپا کے لیے بنجر ہی رہے تھے۔ یوں ہوا یہ کہ بھگوا جھنڈے کی جے جے کار ہوئی اور ہندتوا کے رتھ پر سوار ایک ایسی سرکار معرضِ وجود میں آئی جس کا اوڑھنا بچھونا پاکستان کو نابود کرنا اور کشمیر کو گھٹنوں پر لانا تھا۔
کشمیر چونکہ ہمیشہ تجربہ گاہ کے طور استعمال ہوتا رہا ہے تو اس بار بھی یہ تجربہ کشمیر میں ہی دہرایا گیا۔ پولرائزیشن کی ہوا کچھ ایسی چلی کہ ہندو جموں میں بی جے پی اور مودی ازم کے طوفان کے سامنے کانگریس خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کل تک چند اسمبلی نشستوں تک محدود رہنے والی بی جے پی جموں میں 25 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی بلکہ ریاستی سطح پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے بعد دوسری بڑی پارٹی کے طور ابھر کر سامنے آئی۔
دامِ فریب میں لانے کا سلسلہ شروع ہوا اور بالآخر ایک کم سے کم مشترکہ پروگرام کے تحت مفتی محمد سعید کی گردن میں کانٹوں سے بھرے اقتدار کا طوق ڈالا گیا۔ یوں بی جے پی کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کا وہ خواب بھی پورا ہونے کی راہ ہموار ہونے لگی جو انہوں نے 1947ء میں کانگریس میں بھارتی وفاق میں مکمل طور پر ضم ہونے سے متعلق دیکھا تھا۔
پی ڈی پی کے ذریعے بی جے پی کو کشمیر میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا اور 3 سال تک سول سیکریٹریٹ میں سرکاری فائلوں کی چھان پھٹک کرنے کے بعد جب بی جے پی کو لگا کہ خوابوں میں رنگ بھرنے کا وقت آچکا ہے اور پی ڈی پی اس میں رکاوٹ بن رہی ہے تو حمایت واپس لے کر مفتی محمد سعید کی لاڈلی محبوبہ مفتی کو عین اس وقت اقتدار سے الگ کردیا گیا جب وہ بحیثیت وزیراعلیٰ سرکاری میٹنگ میں تھیں۔
مفتی محمد سعید کی لاڈلی محبوبہ مفتی کو عین اس وقت اقتدار سے الگ کردیا گیا جب وہ بحیثیت وزیراعلیٰ سرکاری میٹنگ میں تھیں—
پھر کیا تھا۔ اُدھر دہلی تھا اور اِدھر دہلی کا نمائندہ۔ پھر اس مشن پر گورنر سے مل کر کام شروع ہوا جس کا ڈراپ سین 5 اگست 2019ء تھا۔
خصوصی حیثیت کو بھارتی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا۔ جموں وکشمیر کے اقامتی قوانین پر بحث شروع ہوئی اور ایک بیانیہ تیار کیا گیا جس میں بادی النظر میں ہر مرض کی دوا جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ ہی نظر آرہی تھی۔
اگست 2019ء کے آتے آتے افواہ گرم تھی کہ دہلی میں مودی حکومت جموں وکشمیر کے پشتینی باشندگی قوانین کو تحفظ فراہم کرنے والے آئین ہند کی دفعہ 35 ‘اے’ کو ختم کرنے والی ہے۔ آناً فاناً ہندو امر ناتھ یاترا اس بہانے بیچ میں ہی ختم کردی گئی کہ اس پر حملہ ہونے والا ہے۔
سیاحوں اور کشمیر میں کام کررہے باہری مزدوروں کے لیے ایڈوائزری جاری کردی گئی کہ وہ فوراً کشمیر چھوڑ دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کشمیر کے سیاحتی مقامات پر ویرانی چھاگئی۔ ہوٹل خالی ہوگئی۔ جھیل ڈل کے خاموش پانیوں پر ٹھہرے ہاؤس بوٹ اداسیوں کی علامت بن گئے۔ راشن ذخیرہ کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔ مختصراً ایک ایسا ماحول بنایا گیا جہاں لوگوں کو یہ لگنے لگا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے لیکن 3 اگست کی شام کو گورنر ستیہ پال ملک نے عوامی اضطراب کو یہ کہہ کر قرار بخشنے کی کوشش کی کہ کچھ ہونے والا نہیں ہے لیکن جیسا کہتے ہیں کہ کشمیر میں افواہیں ایسے ہی نہیں اڑتی ہیں بلکہ وہ جان بوجھ کر اڑائی جاتی ہیں اور یہ افواہیں بیشتر اوقات سچ ہوتی ہیں۔ ویسا ہی اس دفعہ بھی ہوا۔
تذبذب کے عالم میں جب 4 اگست اتوار کی رات کو لوگ اپنی خواب گاہوں کا رخ کرنے لگے تو بے چین کردینے والی خبریں سامنے آنے لگیں۔ نیم شب سے پہلے پہلے موبائل فون کی دھڑکنیں مدہم مدہم چل رہی تھیں۔ گوکہ انٹرنیٹ بند ہوچکا تھا لیکن کمزور نیٹ ورک کے سہارے ابھی ایس ایم ایس اور صوتی کال چل رہے تھے اور خبریں آئیں کہ ہند نواز لیڈران کی گرفتاری کا شبانہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔
مواصلاتی نظام کی جان کنی طویل ثابت نہ ہوسکی اور کچھ ہی دیر میں نصف شب ہوتے ہوتے مواصلاتی نظام کی دھڑکیں رُک چکی تھیں اور رابطوں کے تمام ذرائع مکمل طور پر سلائے جاچکے تھے۔
5 اگست کی صبح بھیانک منظر کشی کے ساتھ طلوع ہوئی۔ پورا کشمیر محصور ہوچکا تھا۔ راتو رات کرفیو لگ چکا تھا۔ پرندوں کو پر ہلانے کی اجازت نہ تھی۔ پُو پھٹتے ہی جس جس کی آنکھ کھلی، اس پر یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے۔
رات کی ظلمتوں سے ایک نئی صبح کا سورج طلوع ضرور ہوا لیکن یہ اپنے ساتھ کوئی نئی نوید لے کر نہیں آرہا تھا بلکہ اس کے بطن میں بدخبروں کا ایک طوفان امڈ رہا تھا۔ جوں جوں سورج کی تمازت بڑھنے لگی، کشمیر سے سیکڑوں کلو میٹر دُور دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس میں کشمیریوں کے لیے ایک نئے سیاہ باب کو رقم کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
سورج جب عین شباب پر بالکل سروں کے اوپر تھا تو یہ اپنے ساتھ ایک قیامت بھی لے آیا اور یہ قیامت پارلیمنٹ کی وہ ہنگامی قانون سازی تھی جو ساری پارلیمانی روایات کو پھلانگتے ہوئے انجام دی جارہی تھی۔
1947ء سے بھارت کے آئین میں شامل دفعہ 370 کا جنازہ نکالا گیا اور اس کے ذریعے دفعہ 35 ‘اے’ بھی چلی گئی کیونکہ ایسے کئی قوانین دفعہ 370 کے راستے ہی کشمیر میں نافذ ہوئے تھے۔ دفعہ 370 گیا تو کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی گئی۔ اسی پر اکتفا نہ کیا گیا بلکہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی ریاست کو ڈاؤن گریڈ کرکے مرکز کے زیرِ انتظام دے دیا گیا۔
جموں وکشمیر 2 لخت کیا گیا اور اس کے بطن سے لداخ کی صورت میں ایک اور مرکزی زیرِ انتظام علاقے کو جنم دیا گیا۔
اگرچہ اس عمل سے بی جے پی کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی روح کو شانتی ملی ہوگی لیکن وہ لاکھوں روحیں بے چین ہوئیں جو کشمیر کی خود مختاری کا حسین خواب لیے آنکھیں موندے چلے گئے تھے۔ یہاں سے تاریکیوں کا ایک ایسا سفر شروع ہوا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سقوطِ کشمیر کا ایک سال ہوچکا لیکن اس ایک سال میں کشمیریوں کے ہاتھ ناکامیوں، مایوسیوں اور نامرادیوں کے سوا کچھ نہیں لگا۔
5 اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت پر شب خون مارتے وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ محرومیوں کی طویل سیاہ رات ختم ہوگئی اور اب ایک خوشگوار صبح کشمیریوں کی منتظر ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اب کشمیر میں پیسوں کی ریل پیل ہوگی، تعمیر و ترقی کا دور دورہ ہوگا، غربت بھولی بسری کہانی ہوگی، بے روزگاری ایک بُرے سپنے کی طرح ختم ہوجائے گی، محروم طبقوں کو انصاف ملے گا، عسکریت ختم ہوگی اور آزادی پسند جذبہ منوں من مٹی تلے دفن ہوجائے گا۔
سرجیکل اسٹرائیک کے بعد 5 اگست کے اقدام کو آئینی اسٹرائیک قرار دینے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ تاریخی غلطیوں کو سدھارا گیا اور کشمیر کو بھارت کے مین اسٹریم میں ضم کردیا گیا، لیکن ایک سال ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔
بھارتی وزیر داخلہ نے پارلیمان میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا—تصویر: ٹوئٹر
بھارتی وزیر داخلہ نے پارلیمان میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا—تصویر: ٹوئٹر
بندۂ مزدور کے اوقات بدلے نہ عام لوگوں کے حالات بلکہ الٹا یاس اور ناامیدی کے گھنگور بادل اس قدر گھنے ہوچکے ہیں کہ اب پورا کشمیر ہی ڈپریشن کا شکار ہوچکا ہے۔
سینہ ٹھونک کر جس عسکریت کو ختم کرنے کی باتیں کی گئی تھیں، وہ عسکریت تاحال زندہ ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کشمیری نوجوان بیابانوں کی راہ لیتے ہیں۔ آزادی کا جذبہ بھلے ہی لاٹھی کے زور پر دب چکا ہو لیکن ختم نہ ہوسکا۔
اس ایک سال میں اگر کچھ ختم ہوا تو وہ ہند نواز سیاست ہے کیونکہ ان کو اس قدر بے نیل مرام کردیا گیا کہ وہ اب اپنے لوگوں کو منہ دکھانے کے لائق بھی نہیں رکھے گئے ہیں۔ 5 اگست کا زخم اتنا گہرا ہے کہ اس کا ایک ساتھ علاج یا احاطہ ممکن نہیں ہے اور اگر اس زخم کی تہیں کھول دی جائیں تو شاید مشاہدین اور طبیبوں کو اندازہ ہو کہ یہ زخم کس قدر ناسور بن چکا ہے۔۔۔ جاری ہے
