Input your search keywords and press Enter.

جموں و کشمیر کی کہانی ایک کشمیری کی زبانی

قسط نمبر2

کشمیر، ایک بڑا جیل خانہ

5 اگست 2019ء کے بعد سے کشمیر عملی طور ایک پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے۔ زباں بندی کا جو دستور اس دن قائم ہوا تھا، وہ پوری آب و تاب کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔ حکومتی اقدامات کے خلاف بات کرنا اب گناہ اور جرم ٹھہر چکا ہے اور جو بات کرنے کی جرأت کرے، وہ حوالات پہنچ جاتا ہے۔ گھٹن کا ماحول ہے۔ زباں بات کرنے کو ترس رہی ہے۔ دل کا غبار نہیں نکل پارہا ہے۔

خود حکومت مانتی ہے کہ 5 اگست کے بعد کچھ 15 ہزار سے زیادہ لوگوں کو زینت زنداں بنایا گیا جن میں ابھی بھی چند ہزار پابند سلاسل ہی ہیں۔ جو رہا ہوئے ان سے ضمانتی بانڈ لیا گیا کہ وہ بات نہیں کریں گے بلکہ اندھوں، بہروں اور گونگوں کی طرح زندگی گزاریں گے۔ دیکھ کر بھی اَن دیکھی، سن کر بھی اَن سنی کریں گے اور بات کرنے کا موقع آئے تو گونگے بنیں گے۔

اس دوران مغربی اور یورپی ممالک کے سفیروں کو بھی کشمیر لایا گیا تاکہ انہیں یہ دکھایا جاسکے کہ کشمیر پُرسکون ہے لیکن یہ خاموشی کوئی فطری خاموشی نہیں تھی بلکہ جبری خاموشی تھی اور عملی طور کشمیر کو ایک ایسے قبرستان میں تبدیل کردیا گیا ہے جو چلتی پھرتی زندہ لاشوں کا مسکن بن چکا ہے۔

سیاسی منظرنامہ

5 اگست کے اقدامات سے قبل ہی لگ رہا تھا کہ دہلی سرکار کسی بڑے پلاٹ پر کام کر رہی ہے۔ اس پلاٹ کے تحت سیاست کے دونوں پہلوؤں کو ہدف بنایا گیا۔ پہلے قومی تحقیقاتی ایجنسی، جسے عرفِ عام میں این آئی اے کہتے ہیں، کو ایک آلے کے طور استعمال کیا گیا اور آزادی نواز سیاست کو دیوار سے لگایا گیا اور خوف و دہشت کی ایسی فضا قائم کی گئی کہ کوئی بات کرنے سے بھی کترا رہا تھا کیونکہ ہر کسی کو لگ رہا تھا کہ اگر وہ بات کرے گا تو اگلے روز دہلی کے تہاڑ جیل کی کسی تاریک کوٹھری میں سڑ رہا ہوگا۔

یاسین ملک سے لے کر شبیر شاہ سمیت بیسیوں آزادی نواز لیڈران کو این آئی اے کے ذریعے جیل پہنچایا گیا۔

دوسرا تیر ان لوگوں پر چلایا گیا جو خود کے پالے ہوئے تھے۔ جن ہند نواز سیاستدانوں کو دہلی نے 70 برسوں سے پالا پوسا تھا، انہیں بھی این آئی اے کے خوف سے ڈرایا گیا۔ اس ضمن میں حاضر سروس ممبر اسمبلی انجینئر رشید کو دوسروں کے لیے نشانہ عبرت بناکر تہاڑ جیل پہنچایا گیا جو دوسروں کے لیے کھلا پیغام تھا کہ وہ یا تو لام بندھ ہوجائیں یا پھر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

کرپشن کے کیس تیار کیے گئے اور پھر بلیک میلنگ کا ایک طویل سلسلہ چل پڑا جو بڑے بڑوں تک پہنچ گیا اور یوں کسی کو این آئی اے کی لاٹھی سے ڈرایا گیا تو کسی کو حوالہ خوری کے جرم میں ممکنہ سزا کی نوید سنائی گئی۔ پھر ہونا کیا تھا، سب کے سب پیٹ کے بل سوگئے۔ باقی ماندہ دو زانو ہوکر جی حضوری کرنے لگے لیکن جب وقتِ نزاع آیا تو اپنے ہی پالے ہوئے ان سبھی سورماؤں کو بھیڑ بکریوں کی طرح جیلوں میں ہانکا گیا۔

70 سال تک بھارت کا پرچم تھامنے والوں کو جس طرح جیلوں کی ہوا کھلا کر ‘عزت و وقار’ بخشا گیا، وہ اب سب کے سب ظاہر ہوچکے ہیں اور اب سر چھپانے کی جگہ تلاش کررہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اب بیچنے کو کچھ رہا ہی نہیں ہے۔

1947ء سے 2019ء تک کبھی رائے شماری تو کبھی اندرونی خود مختاری کا چورن بیچنے والی نیشنل کانفرنس کی نیم خود مختار سیاست کا جنازہ نکالا جاچکا ہے۔ اپنے قیام سے سال رفتہ تک ‘سیلف رول’ یا خود حکمرانی کے حسین خواب بیچنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس دکھانے کو اس کے سوا کیا ہے کہ جن کو اپنی بیساکھیاں دے کر انہوں نے کشمیر کے اقتدار میں شریک کیا تھا، انہوں نے ہی کشمیریوں کو بے اختیار کرکے رکھ دیا ہے۔

اب حالت یہ ہے کہ مداریوں کا کھیل کھیلنے کے لیے کچھ رہا ہی نہیں ہے۔ نعرے رہے ہیں نہ جذباتی تقرریں۔ لوگوں کو ورغلائیں گے تو کیسے! ایک طرفہ تماشا ہے جو کل تک صاحب مسند تھے، وہ آج مجرموں کی صف میں کھڑے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنے لوگوں کی نظروں میں جرم وار ہیں بلکہ دہلی بھی انہیں قصور وار مانتی ہے اور یوں ان کے لیے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

دہلی کے کچھ گماشتے میدان میں اتارے گئے ہیں لیکن ان کی عوامی قبولیت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سیاسی بے اختیاری ہے اور سیاست کے انسٹی ٹیوشن سے ہی کشمیریوں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔

جموں وکشمیر کو عملی طور ایک بلدیہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کے وسائل پر پکڑ تو حکومت کی ہی ہے لیکن اختیارات کے تعلق سے بے سرو پا ہے۔ فی الوقت کشمیر سیاسی طور بنجر ہوچکا ہے اور آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا کوئی نئی سیاست یہاں پروان چڑھے گی بھی یا نہیں۔

صحافتی منظر نامہ

5 اگست 2019ء کو خصوصی حیثیت کی تنسیخ اور ریاست کو 2 لخت کرنے کے ساتھ ہی کشمیر کی صحافت بھی شکار ہوئی۔ پہلے ٹیلی فون اور موبائل فون بند کردیے گئے اور ساتھ ہی انٹرنیٹ نیٹ ورک کا دم گھونٹ دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اخبارات خبر کو ترسنے لگے۔ اس پر سنسرشپ کی یہ انتہا تھی کہ مقامی اخبارات اپنے گرد ونواح کی خبروں سے انجان بن گئے۔ بس پھر وہی رپورٹ ہونے لگا جو ارباب بست و کشاد چاہتے تھے۔

ایسے میں عالمی میڈیا نے کمال حصہ زمینی حقائق کی رپورٹنگ کی لیکن وہ کام بھی اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ نہ ٹیلی فون تھا اور نہ خبروں و تصاویر کی ترسیل کے لیے انٹرنیٹ۔

لیکن جب دباؤ بڑھتا گیا تو پھر کہیں جاکر محض ساکھ کی بحالی کی خاطر ایک ہائی سیکیورٹی زون میں ایک میڈیا سینٹر کھولا گیا جہاں ایک فون اور انٹرنیٹ کے چند کنکشن دستیاب تھے لیکن وہاں قطاروں میں لگنا پڑتا تھا اور یہ سارا عمل کسی اذیت سے کم نہیں تھا۔

کئی ماہ تک یہی سلسلہ چلا۔ لینڈ لائن اور موبائل فون بند رہے اور انٹرنیٹ غائب رہا۔ پھر جب لینڈ لائن بحال ہوئی اور انٹرنیٹ بحالی کا مرحلہ آیا تو یہ تحریری ضمانت دینا پڑ رہی تھی کہ اس کا غلط استعمال نہیں ہوگا اور یہ کسی بھی طور پر حکومت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔ یعنی یکطرفہ بیانیہ چلتا رہا اور حکومت کے ترجمان جو بتاتے تھے، وہ حرفِ آخر ٹھہرتا تھا۔

کچھ لوگ اس دوران آنسو گیس کے دھویں کی وجہ سے لقمہ اجل بھی بن گئے لیکن حکومت نہ مانی بلکہ صحافی مان گئے کہ ہاں، یہاں کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔

غیر اعلانیہ سنسرشپ کی یہ انتہا تھی کہ مقامی میڈیا تو جیسے حکومت کا اشتہاری پوسٹر بن گیا اور اخبارات میں وہی کچھ شائع ہورہا تھا، جو سرکار چاہتی تھی۔ یکایک اداریے غائب ہوگئے اور ادارتی صفحات کا کہیں دُور تک نام و نشان نہ رہا۔ ایسا نہیں ہے کہ اخبار والے یہ سب جان بوجھ کر کررہے تھے بلکہ ان کی گردنوں پر حکومتی تلوار لٹک رہی تھی۔

2019ء کے اوائل میں جب این آئی اے نے مقامی صحافیوں کی طلبی شروع کی تو بڑا ہنگامہ ہوا۔ کئی صحافی ایک ایک کرکے دہلی بلائے گئے۔ ان سے پوچھ گچھ بھی ہوئی۔ ایک کثیرالاشاعت سرکردہ مقامی میڈیا ہاؤس کے مالک کو جب این آئی اے نے دہلی طلب کیا تو یہ این آئی اے کا سبھی کے لیے پیغام تھا کہ جب اتنے بڑے اخبار کے مالک کو طلب کیا جاسکتا ہے تو آپ کی کیا اوقات ہے۔

سیاحتی منظرنامہ

سیاحت، جس پر کشمیر کی معیشت کافی حد تک منحصر ہے، اگست سال رفتہ سے مکمل ٹھپ ہے۔ اب آنکھیں ترس رہی ہیں کسی سیاح کو دیکھنے کے لیے لیکن سیاح کہیں نہیں ہیں۔ تمام صحت افزا مقامات کے ہوٹل بند پڑے ہیں۔ ہاؤس بوٹ اب گرد آلود ہوچکے ہیں جبکہ شکار والے متبادل روزگار کی تلاش میں ہیں کیونکہ ڈل اور جہلم کے پانیوں پر شکارا کی سیر کرنے کے لیے کوئی دستیاب ہی نہیں ہے۔

کشمیر کی نمائندہ تجارتی انجمن ‘کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے کچھ روز قبل ہی اس ایک سالہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کو 40 ہزار کروڑ روپے نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران نجی سیکٹر میں 3 لاکھ کے قریب لوگ روزگار سے محروم ہوگئے۔ لاکھوں کامگار نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں اور ذریعہ معاش کی عدم موجودگی میں ایک بڑی آبادی کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں۔

مواصلاتی منظرنامہ

گوکہ شدید عالمی دباؤ کی وجہ سے مرحلہ وار بنیادوں پر مواصلاتی سہولیات بحال کی گئیں لیکن یہ سہولیات بحال کرنے میں بھی 6 سے 8 ماہ لگ گئے لیکن شومئی قسمت انٹرنیٹ ابھی بھی ٹو جی (2G) اسپیڈ پر ہی ہے۔

4 اگست کی رات 4 جی انٹرنیٹ کی روح قبض کی گئی ہے اور تاحال اس کی روح قبض ہی ہے اور بحالی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ انٹرنیٹ کی پہلے عدم دستیابی اور اس کے بعد سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے تجارتی اور تعلیمی شعبے کو بھی بے پناہ نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت اس بہانے انٹرنیٹ کی مکمل بحالی سے منکر ہے کہ پاکستان سے دراندازی ہورہی ہے اور پاکستانی حمایت یافتہ عناصر اس کو ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

تعلیمی منظرنامہ

5 اگست کے بعد سے اب تک درس و تدریس کا عمل ٹھپ ہے۔ گزشتہ برس حکومت نے بہت کوشش کی کہ تعلیمی ادراے کھل جائیں لیکن کھول نہ سکے اور بڑی مشکل سے کڑے حفاظتی پہرے میں سالانہ امتحانات منعقد ہوپائے جس کے بعد 3 ماہ تک سرمائی تعطیلات چلیں۔

28 فروری کو اسکول کھل گئے لیکن سرمنڈاتے ہی اولے پڑگئے کے مصداق کورونا لہر کو دیکھتے ہوئے انہیں دوبارہ بند کرنا پڑا اور تب سے اب تک تعلیمی ادارے مسلسل بند پڑے ہیں۔ درسگاہوں پر تالے ہیں۔ بچوں کے نالے ہیں لیکن زباں بندی ہے۔ بات نہیں ہوسکتی۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں بچوں کے جو قیمتی تعلیمی ماہ ضائع ہوئے، اس کا کوئی حساب دینے کو تیار نہیں ہے۔

ویسے بھی یہاں تعلیمی چھٹیاں معمول بن چکی ہے اور ان مخدوش حالات سے اگر کوئی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تو وہ تعلیم ہی ہے۔ یہی حال فی الوقت بھی ہے۔ اگست سے اگست تک تعلیمی اداروں کو بند ہوئے ایک سال ہوچکا ہے لیکن کسی کو فکر نہیں ہے۔

گزشتہ برس کے سیاسی لاک ڈاؤن میں کوئی آن لائن تعلیم نہیں تھی لیکن اب کے طبّی لاک ڈاؤن میں آن لائن کی خوب باتیں ہورہی ہیں لیکن یہ بھی لکھے من اور پڑھے خدا والا ہی معاملہ ہے کیونکہ انٹرنیٹ کی رفتار بہت کم ہے۔ زوم اپلی کیشن پر آن لائن کلاسز کا اہتمام تو ہورہا ہے لیکن ویڈیو بفر ہوجاتی ہے۔ آواز رک رک کر آتی ہے۔ طلبہ کو میوٹ پر ڈالا جاتا ہے۔ پھر کیا ہے، استاد یکطرفہ طور پر آدھے گھنٹے کا لیکچر سنا کر چلا جاتا ہے اور طلبہ سے یہ پوچھا بھی نہیں جاتا ہے کہ ان کے پلے کچھ پڑا بھی کہ نہیں۔ اسے درد و تدریس کے ساتھ مذاق کہیں تو بیجا نہ ہوگا۔۔۔۔جاری ہے

تحریر: ریاض ملک

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے