واشنگٹن (92 نیوز) بھارت دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد ملک قرار دیا گیا۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھارت کو بے نقاب کر دیا۔ داعش اور بھارتی روابط دُنیا کے سامنے رکھ دئیے۔
جریدے کی رپورٹ کے مطابق بھارت اور داعش کا گٹھ جوڑ عالمی اورعلاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ داعش کے جلال آباد اور افغانستان میں جیل پر حملے نے اس ابھرتے خطرے کو بڑھاوا دیا۔ بھارت داعش کے ذریعے مذہبی گروہوں بالخصوص نوجوانوں کا استعمال ، دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشتگرد نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور داعش گٹھ جوڑ کے نتیجے میں دہشتگرد کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا۔ بھارتی دہشت گردوں نے افغانستان اور شام کو بیس بنا کر کارروائیوں میں حصہ لیا۔ داعش نے بھارت میں موجود اپنے دہشتگرد گروپس کا باضابطہ اعلان بھی کیا۔ داعش کا یہی گروپ کشمیر میں بھی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ داعش نے کشمیر میں مرنے والے اپنے 3 ساتھیوں کا ذکر اپنے جریدے میں بھی کیا۔
فارن پالیسی جریدے نے لکھا ہے کہ بھارت پاکستان اور افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے بھارتی دہشتگردوں کے روابط کے واضح ثبوت ہیں۔ اقوام متحدہ کیرالہ اور کرناٹکا میں دہشتگرد گروپس کی موجودگی کا انکشاف کر چکا ہے۔ ایک ہندو کے نائن الیون حملے میں ملوث خالد شیخ سے روابط بھی سامنے آئے ہیں۔ اس سے پہلے بھارت صرف خطے میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے لیکن اب یہ تبدیل ہو رہا ہے۔ حملوں کی پلاننگ میں بھارتی ہاتھ انتہائی پریشان کن ہے۔ بھارتی دہشتگردی کی خبر تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔
جریدے نے لکھا ہے کہ بھارت کی مانتہا پسندی تباہ کن خطرہ ہے۔ اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔
