سلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 11 اکتوبر2020ء) : پاکستان میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں نے ’’ کشمیر اپ ڈیٹ‘‘ کے نام سے ماہانہ انگریزی جریدے کا اجرائ کردیا۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی، سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سنیٹر مشاہد حسین سید، آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد یعقوب خان، غلام محمد صفی، محمد فاروق رحمانی، پنجاب حکومت کی ترجمان ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور، برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر نفیس ذکریا، کشمیری رہنما پروفیسر نذیر احمد شال، سرکردہ کشمیری دانشور اور صحافی شیخ تجمل الاسلام سمیت دیگر کشمیری رہنما?ں نے تقریب میں شرکت کی۔
آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد یعقوب خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے، تحریک آزادی کے ساتھ طویل وابستگی ہے، تحریک آزادی کی کامیابی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی کی منزل قریب ہے اس لئے کشمیریوںکو مایوس نہیں ہونا چائیے۔کشمیری رہنما پروفیسر نذیر احمد شال نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ عرصہ کے دوران ریاستی دہشت گردی کو تیز کردیا ہے، بڑی تعداد میں نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے جبکہ حریت قیادت سمیت ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا استحکام کشمیریوں کو عزیز ہے اور کشمیری عوام کو پاکستان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے کشمیر پر قبضہ جمارکھا ہے، کشمیری عوام 1947 ئ سے آزادی کے بنیادی حق سے محروم ہیں، بھارت نے حق خودارادیت سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق پامال کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے تاہم وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا مرتکب ہورہا ہے اور اب وہ ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
سابق ہائی کمشنر نفیس ذکریا نے کہا کہ بھارت کا 5 اگست 2019 کا اقدام کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے، اس اقدام سے کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری کئی دہائیوں سے مصائب کا سامنا کررہے ہیں، بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری عوام حق خود ارادیت کے لئے عظیم جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ منظرعام پر لانے کی ضرورت ہے۔
سرکردہ دانشوراورکشمیر میڈیا سروس کے سربراہ شیخ تجمل الاسلام نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ہندو انتہا پسند اور حکمران جماعت ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہے اور نہتے کشمیری نوجوانوں کو فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو کم کرنے کے لئے غیرقانونی اقدامات کررہی ہے۔
تحریک حریت کشمیر کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایجنڈا ’’ہندوتوا ایجنڈا‘‘ ہے جس کو وہ نافذ کرنا چاہتی ہے، بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ تسلط جمارکھا ہے، مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ناجائز فوجی تسلط کو پاکستان اور کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا، اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خود ارادیت پر مبنی ہے۔ سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سنیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حال ہی میں کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے، اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میںکشمیری عوام کو رائے شماری کا موقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بھارت نے کشمیر پر اپنے غاصبانہ تسلط کو نہ صرف برقرار رکھا ہوا ہے بلکہ اس نے مسئلہ کے حل کیلئے ہمیشہ رکاوٹیں پیدا کی ہیں، اقوام عالم کشمیری عوام کے اس بنیادی حق کو مانتی ہے کہ کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کے خود فیصلے کا اختیار ملنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نی5 اگست 2019ئ کو بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت کشمیر کو حاصل محدود خود مختاری کو ختم کیا اور کشمیریوں کے خلاف مظالم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے رہنمائ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ بھارت کا ’’ہندوتوا ایجنڈ‘‘ کا ایجنڈا انسانیت کے لئے کوئی منعی نہیں رکھتا، بھارت کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا ہے، بھارت اپنے ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کیحق خود ارادیت کی جدوجہد کو ختم کرنے میں مکمل ناکام ہوا ہے۔
کشمیری رہنما اشتیاق حمید نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور وہ بھارت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیر کے بارے میں مستقبل کی حکمت عملی طے کرنی چائیے۔ اس موقع پر یورپی اور برطانوی پارلیمٹ کے کئی اراکین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپمنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت جب تک مسئلہ کشمیرکو اس کے حقیقی اور تاریخی پس منظر میں کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کرتا جنوبی ایشیائ میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔
