Input your search keywords and press Enter.

میرے خوابوں کا کشمیر

سپریم ہیڈ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ امان اللہ خان ۔

اوسط درجے کی فہم و فراست اور امنگوں کا حامل ہر انسان اپنی زات ،اپنے خاندان یا اپنی قوم حتیٰ کہ بنی نوع انسان کیلئے ایک درحشاں مستقبل کے خواب دیکھتا ہے۔ان خوابوں کی نوعیت کا دار و مدار اس کے فہم و فراست کی گہرائی، اس کی ہمت اور اردگرد کے حالات پر ہوتا ہے۔معاشرے کے ایک ایسے باشعور اور باہمت فرد کیلئے جسے اس کے اپنے وطن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم بھی رکھا گیا ہو،یہ ایک قدرتی امر ہے کہ وہ شخص ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے خواب دیکھتا ہے جس کی بنیاد اس کی اپنی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق ہو۔۔۔۔

میری پیدائش 24 اگست 1931 کو ریاست جموں کشمیر کے ایک پسماندہ علاقہ استور (گلگت)میں ہوئی لیکن مجھے چند خاندانی مسائل اور بہتر تعلیم کی امید کی وجہ سے 1939 میں اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔میں حصول تعلیم کے لئے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں ہائی ہامہ (کپواڑہ)ہندواڑہ اور سرینگر میں رہائش پزیر رہا اور 4 جنوری 1952 ء کو پاکستان ہجرت کرنے کے بعد کچھ عرصہ راولپنڈی اور پشاور میں قیام پزیر رہنے کے بعد آخر کار 1952ء میں ہی کراچی منتقل ہو گیا ۔جس کے بارے میں سنا تھا کہ یہ زہر خودکفیل طلباء کے لیے ماں باپ کا کردار ادا کرتا ہے۔۔کراچی میں اپنے چوبیس سالہ قیام کے دوران ابتدائی کچھ سال تو نجی معاملات کو سنوارنے میں لگے جس کے بعد ایک متحرک کشمیری طالبعلم،ایک صحافی ،ایک مصنف اور اسی دوران متعدد متحرک کشمیری سیاسی جماعتوں کے اہم عہدوں پر فائز رہنے کی بناء پر نہ صرف یہ کہ مجھے ریاست جموں کشمیر کی تاریخ مسلہ کشمیر کشمیر کے ساتھ ہندوستان و پاکستان کی حکومتوں کے سلوک کی تاریخ بلکہ دنیا بھر میں جاری تحاریک آزادی کا بھی بغور مطالعہ کرنا پڑا ۔۔۔۔

مندرجہ بالا مطالعوں اور مشاہدوں نے میرے زہن میں اس نئے خیال کو بتدریج جنم دیا کہ میری دھرتی ماں کی وحدت کی بحالی اور مکمل خودمختاری ہی واحد راستہ ہے جو ہمیں قومی نجات کی منزل کی طرف لے جا سکتا ہے۔یہ خیال میری ساٹھ سالہ متحرک سیاسی زندگی کے دوران ایک خواب کی شکل اختیار کر گیا۔اس کے علاؤہ اپنے پیدائشی حق کے حصول اور اپنے ساتھی مقبول بٹ (جو کبھی بھارت اور کبھی پاکستان کی جیلوں میں قید رہے تھے حالانکہ وہ صرف اپنے مادر وطن ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی کے علمبردار تھے کی رہائی کیلئے مختلف احتجاجی مظاہروں کے انعقاد ،دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر پر لٹریچر کی تقسیم ،برطانیہ کی جیلوں میں 15 ماہ ،بیلجیم کی جیل میں قید کی صعوبتوں نے میرے اس خواب کو خاصا مضبوط کر دیا تھا۔ان تمام عملی اقدامات اور مسلہ کشمیر اور سے جڑے دیگر معاملات کے بارے میں گہرے مشاہدے اور مطالعے نے میرے زہن میں میرے خوابوں کا کشمیر کی ایک غیر واضح خدوخال والی تصویر بنا ڈالی تھی۔

میرے دس سالہ قیام برطانیہ خاص کر جیل میں گزرے سوا سال کے دوران میری نظر میں گہرائی اور وسعت آ گئی جس کے نتیجے میں ،میں نے اپنے خوابوں کے کشمیر کے موضوع پر بہت سوچا چنانچہ میرے خوابوں کے کشمیر کی ایک واضح تصویر سامنے آ گئی جو یہ تھی کہ پوری ریاست جموں کشمیر کو دوبارہ یکجا کر کے وہاں ایک ایسی فلاحی مملکت کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا طرز حکومت جمہوری ،وفاقی،اور سیکولر ہو اور جس کے دنیا کے تمام دوسرے ممالک کے ساتھ بالعموم اور ہندوستان و پاکستان کے ساتھ بالخصوص قریبی دوستانہ تعلقات ہوں۔”لیکن”میرے خوابوں کے کشمیر "کی مطلوبہ نوعیت کو پوری طرح سمجھنے کیلئے اوپر بیان کی گئی اصطلاحات کا تفصلا احاطہ کرنا ضروری ہے۔۔

جمہوری سے مراد ایک ایسا پارلیمانی نظام حکومت ہے جو دو ایوانوں یعنی قومی اسمبلی (ایوان زیریں ) جس کے ممبران کا انتخاب آبادی کی بنیاد پر ہو اور سینیٹ (ایوان بالا )جو ریاست کے پانچوں صوبوں کے ممبران کی مساوی تعداد پر مشتمل ہو جن کا انتخاب متعلقہ صوبے کی صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کریں۔وفاقی نظام حکومت سے مراد یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر پانچ صوبوں وادی کشمیر،جموں،آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور لداخ پر مشتمل ہو،ریاست کو کسی خطرے سے دو چار کئے بغیر اور اس کی سالمیت اور تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے صوبوں کو ان کے سیاسی ،معاشی اور انتظامی معاملات میں زیادہ سے زیادہ اندرونی خودمختاری حاصل ہوتا کہ کسی بھی صوبے کو دوسرے صوبے پر بالا دستی سے روکا جا سکے،کشمیر کا نظام حکومت ایسا ہو کہ وہ ایک خاص مدت کے اندر اندر صیح معنوں میں ایک فلاحی مملکت کہلائے،یعنی

1۔قدرتی آبی ذرائع ،سیاحت ،جنگلات،معدنیات،قیمتی ہتھر،کوہ پیمائی،دواساز ہودے،گھریلو دستکاریاں،مختلف صنعتوں کے خام مال اور خاص کر لاکھوں کی تعداد میں ہنر مند اور بے ہنر افرادی قوت جو اس وقت بیرونی ممالک میں برسر روزگار ہیں ،کی صورت میں ریاست جموں کشمیر کو ایک ترقی یافتہ ملک (فلاخی مملکت )بنانے کے لیے ضرورت سے زیادہ ہیں ۔ان قدرتی وسائل سے پورا استفادہ کیا جائے ۔

2۔ پورا کشمیر امن کا گہوارہ ہو یعنی ہر مذہب کے پیروکار (مسلمان ،ہندو،سکھ ،عیسائی ،بودھ وغیرہ ہر علاقہ وادی کشمیر ،جموں ،لداخ ،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان،ہر نسل کے لوگ (شین یشکن،پنڈت ،شودر،اچھوت،ڈوگرہ،جاٹ،سدھن،مغل،گجر ، راجپوت وغیرہ کے طبقاتی فرق (امیر اور غریب)کے بغیر باہنی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بھائی چارے کی فضاء میں زندگی بسر کریں۔

3۔کشمیر کا اقتصادی نظام ایسا ہو کہ ایک مقررہ مدت کے بعد غریب کی غربت اور امیر کی امارت کا تناسب "ایک اور پانچ”سے زیادہ نہ رہے۔

4۔ریاست کا ہر فرد کو مزہبی ،علاقائی اور نسلی تفریق کے بغیر ترقی کے برابر مواقع حاصل ہوں ۔

5۔ہر شخص کو مزہبی ،اقتصادی اور سماجی عقائد رکھنے کی پوری  آزادی ہو اور

وادی ء کشمیر کے بارے میں کسی (فارسی شاعر نے کہا ہے ،اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است وہمیں است وہمیں است وہمیں است وہمیں است "یعنی )

یعنی اگر جنت زمین پر ہے تو یہی ہے ،یہی ہے،یہی ہے،

کشمیر اپنی صحت بخش آب و ہوا ،موسم اور خوبصورتی کیلئے ایشیاء کا سوئیٹزر لینڈ بھی کہلاتا ہے اس طرح کشمیر کا دارالحکومت سرینگر بھی نہ صرف ایشیاء ،افریقہ کے جینیوا کا کردار ادا کرے جہاں بہت سارے بین الاقوامی مسائل خوشگوار آب و ہوا،صحت بخش موسم اور دوستانہ ماحول میں حل ہوا کریں۔بلکہ سوئیٹزر لینڈ کی طرح کشمیر بھی اقوام عالم کی نظروں میں قابل احترام بن جائے۔

ان ہی مختلف اقتصادی،سیاسی،سماجی ،اور معاشرتی عوامل کا مجموعہ ہوگا "میرے خوابوں کا کشمیر”یعنی

(میرے حسین سپنوں کی عملی تعبیر)

"جس کا حصول میری زندگی کا اہم ترین نصب العین ہے۔!

جب میں کشمیر کے بارے میں اپنے خواب کی گہرائیوں میں جھانکتا ہوں تو اس میں اپنے دو ہمسائیوں ،بھارت اور پاکستان کی بھلائی بھی صاف نظر آتی ہے بشرطیکہ وہ "میں نہ مانوں "کی رٹ چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔

4۔میری زندگی کا سب سے اہم نصب العین۔۔

مسلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے کشمیر کو اپنی قومی انا کا مسلہ بنا دیا ہے ۔بھارت اپنی سلامتی کو داؤ پر لگا کر بھی کشمیر کو پاکستان کے حوالے نہیں کرے گا اور یہی حال پاکستان کا بھی ہے لیکن مسلہ کشمیر کے ہمارے تجویز کردہ حل کے مطابق بھارت کو اپنے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان کے نہیں بلکہ خطے کے اصل وارثوں یعنی ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کے حوالے کرنا ہے اور نہ ہی ہمارے مجوزہ حل کے مطابق پاکستان کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو بھارت کے حوالے کرنا ہے بلکہ ریاست جموں کشمیر کے تینوں علاقوں کو ریاستی باشندوں کے حوالے کرنا ہے تا کہ ریاست کے ان تینوں حصوں کو ملا کر مجوزہ خودمختار مملکت بنائی جائے ۔

اس طرح بھارت یا پاکستان کی قومی انا کو ٹھیس پہنچائے بغیر،مسلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے پرامن ،منصافنہ،ہر فریق کے لیے آبرومندانہ اور مستقبل طور پر حل کیا جائے تو۔ میرا کشمیر میرے لیے ہی نہیں ،ریاست کےدو کروڑ سے زائد باشندوں کے لیے نہیں بلکہ بیس کڑور پاکستانیوں ،ایک ارب پندرہ کروڑ بھارتیوں حتی کہ پوری بنی نوع انسان کے لیے بھی "ان کے خوابوں کا کشمیر "بن جائے گا۔

اگر مسلہ کشمیر سے وابستہ فریق یعنی بھارت،پاکستان،عالمی برادری اور کشمیری لیڈر اور ان کی حکومتیں تھوڑی سی وسعت قلبی ،انصاف اور وعدہ وفائی کے صحیح جزبے سے کام لیں تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ظاہری طور پر ناممکن دکھائی دینے والا مسلہ کشمیر چشم زدن میں ممکن میں تبدیل ہو کر برصغیر اور اس کے ڈیڑھ ارب انسانوں کو اس مسلسل عزاب سے نجات دلا سکتا ہے جس میں وہ گزشتہ تقریباً ہوں صدی میں مبتلا ہیں ۔لیکن اگر یہ لوگ "میں نہ مانوں "کی رٹ جاری رکھے رہے تو مسلہ کشمیر کا درج بالا حل چاہنے والے ریاستی باشندے دل کی گہرائیوں سے یہ دعا مانگیں گے،

"توڑ اس دست جفا کیش کو یارب جس نے

روح آزادی کشمیر کو پامال کیا،

اور

دل سے جو آہ نکلتی ہے ،اثر رکھتی ہے "

مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے بدخواہوں کی طرف سے "میں نہ مانوں”کی رٹ کے باوجود ایک نہ ایک دن "میرے خوابوں کا کشمیر "بڑے آب و تاب سے اور اپنی مطلوبہ شکل میں پوری طرح معرض وجود میں آئیگا ،انشاءاللہ ایسا ہو گا،ضرور ہو گا،،،

سپریم ہیڈ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ امان اللہ خان ،،،،،

تحریر ۔۔  چوہدری ہارون      کارکن  جموں کشمیر لبریشن فرنٹ۔

 صدائے کشمیر فورم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے