Input your search keywords and press Enter.

جہاں بات کشمیر اور کشمیریوں کی ہو تو ہر انڈین صحافی ارنب گوسوامی ہے‘

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے مسئلہ کشمیر کے کسی بھی حل میں کشمیریوں کی شرکت پر زور دیا

اچھا آپ خود سوچیں، انڈین میڈیا پر ایک پاکستانی اہلکار کا انٹرویو۔ وہ بھی پچھلے سال اگست میں انڈیا کی طرف سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد۔ اور پھر موضوع گفتگو کشمیر، انڈیا پاک تعلقات اور گلگت بلتستان۔ اب ایسا ہوگا تو بات انٹرویو کے ساتھ ہی ختم تو ہو گی نہیں۔ ہے ناں؟

تو ہوا یوں کہ انڈین صحافی کرن تھاپر نے انڈین میڈیا ہاؤس دی وائیر کے لیے پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا انٹرویو کیا۔

اب تھا تو انٹرویو لیکن دیکھنے والوں کو اس میں بھی ہار جیت نظر آ گئی۔ پاکستانی ٹوئیٹر صارفین نے معید یوسف کے جوابات اور ان کے پراعتماد انداز بیان کو سراہا، تو انڈین ٹوئیٹر کو ان کے جواب غلط بیانی پر مبنی نظر آئے۔

دی وائیر کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے اس انٹرویو کے بارے میں اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’بہت ہی جھگڑالو۔ کرن تھاپر اور پاکستانی قومی سلامتی مشیر آمنے سامنے۔ یوسف اہم سوالوں کا جواب نہ دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور کرن اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ وہ جواب نہیں دے رہے، اور یہی ہوتا رہا۔ 75 منٹ لیکن انتہائی دلچسپ۔‘

– سدھارتھ (بمقابلہ ورادارن) 13 اکتوبر 2020

Twitter پوسٹ کا اختتام, 1

معید یوسف کی طرف سے سوالات کے جواب نہ دینے کے بارے میں کئی لوگوں نے تبصرہ کیا۔

تنج سبھروال نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’وہ سوالوں کے جواب نہیں دے رہے، اور عمراں خان کی ہی طرح بس بولے جا رہے ہیں۔ اگر مہمان ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے تو کرن کو ٹوکنا تو پڑے گا۔ ان کے جوابات میں عقل اور حقائق کہاں ہیں؟ ہر سوال پر ڈگمگائے ہیں۔‘

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 2

وہ سوالوں کے جواب نہیں دے رہا ہے اور عمران جیسی ایکسیسی زبان میں جارہا ہے۔ اگر انٹرویو کرنے والے کی اہلیت ختم ہوجاتی ہے تو کرن بہت زیادہ مداخلت کرے گی۔ اس کے جوابات میں منطق اور حقائق کہاں تھے؟ ایک بتاؤ؟ وہ ہر سوال سے گھوم گیا

– صبروال تنجو (b sabherwal1008) 14 اکتوبر 2020

Twitter پوسٹ کا اختتام, 2

لیکن تنقید صرف معید یوسف پر ہی نہیں ہوئی۔

جے این یو ہردے سمراٹ نامی یوزر ہینڈل نے ٹویٹ کیا، ’مجموعی طور پر تھاپر کے جارحانہ انداز سے ان کی عزت افزائی نہیں ہوئی۔ یوسف بازی مار گئے، کیونکہ کشمیر اور انڈیا کی طرف سے دہشتگردی کی باتیں کرنے کے باوجود انھوں نے مستقبل میں تعلقات استوار کرنے کے لیے پاکستان کو تیار اور بڑے دل والے ملک کے طور پر کامیابی سے پیش کیا۔’

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 3

لیکن ، مجموعی طور پر ، تھاپر کے جھگڑے کو چلانے کی وجہ سے اس کو قدر نہیں ملی۔ یوسف نے نچلی خط کی وضاحت کے باوجود یوم بکوز لیا – کشمیر اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی – 4 مستقبل کی مصروفیت وہ پاک کو زیادہ فیاض اور آنے والی جماعت کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

– جے این یو اسٹوڈن❤💕💔 @ (@ جنہ ہریڈ سمسرت) 13 اکتوبر ، 2020

Twitter پوسٹ کا اختتام, 3

دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے ٹوئیٹر پر اس انٹرویو کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھا، ’ظاہر ہے معید یوسف پاکستانی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ وہاں ذاتی حیثیت سے بات نہیں کر رہے مگر وہ کرن تھاپر کے مقابلے میں زیادہ پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔‘

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 4

یقینا ، وہ پاکستان حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں موڈ ذاتی صلاحیت میں نہیں ہے لیکن وہ کرن تھاپر سے بہتر کنٹرول میں نظر آتے ہیں

– عائشہ صدیقہ (amiamtedrifter) 13

Twitter پوسٹ کا اختتام, 4

اور کشمیری؟ ٹوئیٹر پر زیادہ تر کشمیری اس بات سے مطمئن نظر آئے کہ ڈاکٹر معید یوسف نے مسئلہ کشمیر کے کسی بھی حل میں کشمیریوں کی شرکت پر زور دیا۔ اور کرن تھاپر کے سوالات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

کشمیری صحافی ثاقب مغلو نے سخت گیر دائیں بازو کے نیوز اینکر سمجھے جانے والی ارنب گوسوامی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’جہاں بات کشمیر اور کشمیریوں کی ہو تو ہر انڈین صحافی ارنب گوسوامی ہے۔‘

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 5

جب بات کشمیریوں اور کشمیریوں کی ہو تو ، ہر ہندوستانی صحافی ارنب گوسوامی ہوتا ہے۔ # کرنتھاپر

– ثاقب مغلو (@ صقیبمغلو) Twitter پوسٹ کا اختتام, 5

کشمیر انٹیل کے نام سے ٹوئیٹر اکاونٹ نے بھی اسی طرح کی بات کرتے ہوئے لکھا، ’میں نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ اس انٹرویو کے کچھ حصے دیکھے۔ انھوں نے جو کہا میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ وہ اپنی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے اور اسی زاویے سے بات کر رہے تھے۔ لیکن کرن تھاپر جیسے انڈین صحافی کی باتیں سن کر یہ کیوں لگ رہا تھ کہ وہ کوئی انڈین اہلکار ہیں نہ کہ صحافی؟ یہ اچھا نہیں ہے!‘

 

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 6

میں نے theire_in پر پاکستان NSA کے انٹرویو کی جھلکیاں دیکھیں ۔ اس کی بات پر میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ انہوں نے اپنی حکومت کی نمائندگی کی اور اس کے نقطہ نظر سے بات کی۔ تاہم ، کیوں ہندوستانی صحافی کرن تھاپر ایک صحافی کی طرح نہیں ، ایک ہندوستانی اہلکار کی طرح زیادہ آواز لگاتے ہیں؟ ناقص کام!

– کشمیر انٹیل (@ اشکرموزینٹ) 14 اکتوبر 2020

Twitter پوسٹ کا اختتام, 6

صرف میزبان اور مہمان کے انداز بیاں تک ہی بات محدود نہیں رہی۔ ڈاکٹر معید یوسف نے انڈیا کی طرف سے پاکستان کے ساتھ بات کرنے کی خواہش اور پاکستان کی طرف سے تحفظات کا ذکر بھی کیا، جس پر کافی شدید ردعمل آیا۔

انڈین اخبار دی ہندو کی ایڈیٹر سہاسینی حیدر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’ویسے تو اس دعوی پر سرے سے ہی یقین کرنا مشکل ہے۔ تاہم اگر واقعی نئی دلی نے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا بھی تھا، تو پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر کی طرف سے اس طرح میڈیا پر اس بات کو ظاہر کرنا مذاکرات کے امکان کو جان بوجھ کر ختم کرنے کے مترادف ہے۔‘

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 7

دعوی آغاز کے لئے ناقابل فہم لگتا ہے۔

لیکن اگر حقیقت میں ، نئی دہلی نے کسی بھی "گفتگو کی خواہش” کا اظہار کیا تھا ، تو پاکستان این ایس اے کی میڈیا پر گفتگو کے کسی بھی امکان کو روکنے کی دانستہ کوشش ہوگی۔ https://t.co/9D37nb6YmA

 

– سوہاسینی حیدر (سوحسینیہ) 14 اکتوبر 2020

Twitter پوسٹ کا اختتام, 7

ساتھ ہی انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انڈین اہلکار اس دعوی کی تردید کر چکے ہیں۔

 

اب تک تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ یہ بحث آسانی سے ختم ہونے والی ہے نہیں۔

 

لیکن اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کی طرف پاکستانی صحافی حامد میر نے توجہ دلائی۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’پیمرا نے پاکستانی چینلوں پر انڈین مواد دکھانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ پاکستانی چینلز اپنے شوز پر انڈین تجزیہ کاروں یا سیاستدانوں کو مدعو نہیں کر سکتے، لیکن معید یوسف کرن تھاپر کو انٹرویو دے سکتے ہیں اور پاکستانی میڈیا فخر سے اسے دکھا سکتا ہے۔‘

 

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 8

پیمرا خبر reports.Pakistani چینلز ان شوز پر بھارتی تجزیہ کاروں یا سیاستدانوں کو مدعو نہیں کر سکتے ہیں لیکن سمیت پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد پابندی لگا YusufMoeed کرن تھاپر کو انٹرویو دے سکتے ہیں اور پاکستانی میڈیا کو یہ ظاہر ہوا ہے فخر کے https://t.co/YJGXjSgI1x

 

– حامد میر (@ حمید میرپاک) 14 اکتوبر 2020

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے