Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموں کشمیر میں نیا سیاسی اتحاد، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ساتھ دیگر بھی شامل

جموں کشمیر کے خصوصی اختیار ختم کئے جانے کے بعد تقریباً ۱۵؍ ماہ بعد ریاست میں ایک بڑا سیاسی اتحاد سامنے آیا ہے

جموں کشمیر کے خصوصی اختیار ختم کئے جانے کے بعد تقریباً ۱۵؍ ماہ بعد ریاست میں ایک بڑا سیاسی اتحاد سامنے آیا ہے جس میں  فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ساتھ بایاں محاذ بھی شامل ہے۔سابق وزیراعلیٰ اور مرکزی وزیر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ہونے والی اس میٹنگ میں دیگر جماعتوں کے اراکین بھی شامل تھے۔ گپ کار اعلامیے کے دستخط کنندگان نے’پیپلز الائنس فار گپ کار ڈکلریشن‘ نامی پلیٹ فارم تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے تحت ۴؍ اگست۲۰۱۹ء کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کام کریںگے۔ قریب ڈیڑھ گھنٹے تک چلنے والی اس میٹنگ کے بعد فاروق عبداللہ نے سبھی دستخط کنندگان کی موجودگی میں میڈیاکو میٹنگ میں ہونے والی باتوں کی جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ الائنس کی بہت جلد ایک اور میٹنگ ہوگی اور سابقہ ریاست جموں کشمیر کے سبھی خطوں کے عوامی نمائندوں تک پہنچنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

 فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’ہم نے گپ کار ڈکلریشن کا نام بدل کر ’پیپلز الائنس فار گپ کار ڈکلریشن‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہماری جنگ ایک قانونی جنگ ہے۔ ہمارا مقصد اور مطالبہ ہے کہ حکومت جموںکشمیر کی ۵؍ اگست سے پہلے کی پوزیشن بحال کرے۔ ہماری جدوجہد جموں کشمیر اور لداخ کے حقوق کی بحالی کیلئے ہے۔ یہ وہ حقوق ہیں جو ہم سے چھینے گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ابھی بھی حل طلب ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔اعلامیے کے دستخط کنندگان میں نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، جموں کشمیر پردیش کانگریس صدر غلام احمد میر، سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی، جموںکشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، جموں  کشمیر  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے