اسلام آباد: (23 اکتوبر 2020) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلیوں پر تشویش ہے۔ پاکستان میں ہر چھوٹی چیز کو بھارت اجاگر کرتا ہے۔ کراچی واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ برطانیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس وطن بھجیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلیوں پر تشویش ہے۔ وہاں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی اصلاحات پر اتفاق کیلئے کوشاں ہیں۔ پاکستان کے دشمن وہاں شورش پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں کوئی عدم استحکام نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر چھوٹی چیز کو بھارت اجاگر کرتا ہے۔ کراچی واقعہ پر تحقیقات جاری ہیں۔ بہت سے لوگ متضاد باتیں کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی نیوز کانفرس اور اسمبلی میں خطاب میں تضادات ہیں۔ بلاول کی تقریر بھی سنی ہے، وہ دباؤ میں نظر آئے۔ انتظار کیجیے، حقائق سامنے آجائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا قانون نہیں۔ نواز شریف صاحب کیوں باہر تشریف لے گئے تھے؟ ان کی صحت اور زندگی کی خاطر انہیں باہر بھجوایا گیا۔ ان کے بھائی شہباز شریف نے نواز شریف کی عدالت کو گارنٹی دی تھی۔ انہیں باہر جانے کی اجازت انسانی بنیادوں پر دی گئی۔ نواز شریف کو اخلاقی و سیاسی طور پر ازخود واپس آنا چاہیے۔
شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی کہ نواز شریف واپس آکر عدالتوں کا سامنا کریں تو اچھا ہوگا۔ وہ مکمل صحتیاب اور سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ برطانیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس وطن بھجیں۔
بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادیو کے بارے میں وزیرخارجہ نے کہا کہ اپوزیشن کلبھوشن کے معاملے پر بھی سیاست کررہی ہے۔ قومی ایشوز پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ آج پاکستان دشمن کی چال کو سمجھ چکا ہے۔ بھارت عالمی عدالت انصاف گیا لیکن ناکام رہا۔ پاکستان نے آئی سی جے کے فیصلے پر عملدرآمد کیا اور کلبھوشن کیلئے بھارت کو قونصلر تک رسائی دی۔ بھارت پاکستان کو دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے مطلع کیا کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھجوانے میں ناکام ہوگا۔ پاکستان نے اس بار ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر قانونی سازی کرچکے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کو پاکستانی کی کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہیے۔
