ملتان ( لیڈی رپورٹر ) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی اور صدر جنوبی پنجاب تسنیم سرور نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ ’’ 27 اکتوبر 1947 کشمیریوں کی زندگی کا وہ سیاہ دن ہے جب غاصب بھارت نے کشمیر میں غیر قانونی فوج اتار کر کشمیریوں کی آزادی پر شب خون مارا ۔ 73 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اپنی شخصی آزادی اور اجتماعی حقوق سے محروم ہیں۔ ہزاروں سپوت آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر چکے اور سینکڑوں جوان جیلوں میں قید ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب ایک سال سے ان کو اپنے گھروں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔ ان کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں ۔سکول بند ،طلبہ تعلیم سے محروم ہیں ۔ بیمار بچے بھوک سے سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ معصوم بے بس کشمیری اپنے حق خود ارادیت کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں جینے کے حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ دردانہ صدیقی اور تسنیم سرور نے کہا کہ ’’کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،کشمیر کے بغیرپاکستان نامکمل ہے۔مگر بھارت نے گزشتہ73 سال سے کشمیر پرغاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ مگر انسانی حقوق کی اس قدر شدید خلاف ورزی پر عالمی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔جماعت اسلامی روز اول سے ہی مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے خلاف سراپا احتجاج رہی ہے اور ہر فورم پرکشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے آواز بلند کی ہے۔ اقوام متحدہ کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ مجرمانہ خاموشی توڑتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے جاری لاک ڈاؤن اور ظلم وتشدد کا سلسلہ فوری طور پر بند کروائے اور پاکستانی وزارت خارجہ کشمیر یوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے کیلئے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے آواز اٹھائے تاکہ وہ قراردادوں کا پاس رکھتے ہوئے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ شفاف رائے شماری کے ذریعے کروائے ۔‘‘
کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، دردانہ صدیقی
