Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر کے لوگ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں، حنیف راجہ

گلاسگو (طاہر انعام شیخ) اسکاٹ لینڈ میں یوم سیاہ کشمیر پرجوش اندازسے منایا گیا، کورونا کی پابندیوں کے باعث اس سال ماضی کی طرح بھارتی قونصلیٹ کے سامنے یا کسی ایک مقام پر کثیر تعداد میں لوگ جمع نہیں ہوسکتے تھے، چنانچہ مختلف شہروں میں تقریباً 15 مقامات پر لوگوں نے محدود تعداد میں جمع ہوکر اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ ان تمام پروگرامز کو تحریک کشمیر اسکاٹ لینڈ کے صدر محمد حنیف راجہ ایم بی ای نے زوم پر کنڈکٹ کیا۔ ایڈنبرا میں اسکاٹش پارلیمنٹ کے باہر راجہ عابد حسین کی سربراہی میں زبردست مظاہرہ کیا گیا جب کہ ڈنڈئی سٹی سنٹر میں چوہدری فخر اقبال کی قیادت میں لوگ اکھٹے ہوئے۔ گلاسگو میں مختلف مقامات پر سید خورشید بخاری، حق نواز غنی، چوہدری ندیم عظمت اور عامر بٹ کی قیادت میں مظاہرے کئے گئے۔ محمد حنیف راجہ، سید خورشید بخاری، چوہدری فخر اقبال، راجہ عابد حسین، چوہدری ندیم عظمت، عامر بٹ، حق نواز غنی اور دیگر کئی مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر میں لاک ڈائون کو ایک سال سے زائدکا عرصہ ہونے کو ہے، وہاں کے عوام کو بنیادی انسانی ضرورت خوراک اور ادویات کے حصول میں زبردست دشواریوں کا سامنا ہے، نو لاکھ بھارتی افواج نے وہاں کے شہریوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے لیکن ایسے ممالک اور تنظیمیں جو بنیادی

انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم پر سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی موثر کارروائی نہیں کرتیں۔ صرف اقوام متحدہ ہی نہیں مسلم ممالک کی تنظیم OIC کا رویہ بھی افسوسناک ہے۔ مقررین نے کہا کہ کشمیر کے تنازع کے دونوں ممالک ایٹمی قوتیں ہیں جن کے درمیان مودی کے جنونی دور میں تصادم کا خطرہ ایک دم پھر انتہا تک آن پہنچا ہے۔ بھارتی حکومت کے توسیع پسندانہ عزائم نے پورے خطے کے امن و سلامتی کے لئے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ مقررین نے اقوام متحدہ اور دیگر بری طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو راہ راست پر لانے کے لئے اس پر اقتصادی پابندیاں لگائیں اور اس کا بائیکاٹ کریں، اس کو مجبور کیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کرائے۔ گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کے اقدامات واپس لے۔ ان اقدامات کے ذریعے وہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مسلمان اکثریت کو اقلیت بنانے کی سازش کررہا ہے۔ تمام مقررین نے مظلوم کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ وہ دامے، درمے نسخے اور سفارتی سطح پر ہر مقام پر ان کے حقوق کے حصول تک ان کے ساتھ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے