گریٹر مانچسٹر (محمد فیاض بشیر)27 اکتوبر 1947 کو ڈوگرہ راج کی ملی بھگت سے بھارت نے کشمیر میں رات کی تاریکی میں فوجیں بھیج کر جبر سے غیر قانونی قبضہ کر لیا جو آج تک قائم ۔ اس دن سے انسانی حقوق کو پامال کرنے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج کے جدید دور میں بھی عالمی طاقتوں کی عدم توجہ سے بھارتی سیکورٹی اداروں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز کاروائیوں کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے دیکھنے والوں کے رونگھٹے کھڑے کر دیتا ہے اور اس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں اور اقوام متحدہ کا کردار خاموش تماشائی کا منظر بیان کرتا ہے ۔ برطانیہ بھر میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یوم سیاہ پر سراپائے احتجاج ہے ۔ ادارہ نور السلام فیصل آباد کے سرپرست اعلیٰ پیر ابو احمد محمد مقصود مدنی نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں سے ہمارا ایک عہد ہے کہ ہم ہمہ تن انکے ساتھ ہیں ۔ رب کریم سے فریاد کرتے ہیں کہ ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی حفاظت فرمائے اور کشمیری قوم کو جلد آزادی نصیب فرمائے۔ مسلم کانفرنس تحریک کشمیر بورڈ برطانیہ و یورپ کے چیئرمین چوہدری محمد بشیر رٹوی نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کا آج سیاہ ترین دن ہے بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر میں داخل ہو کر غاصبانہ قبضہ کیا اس پر کشمیری و پاکستانی اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج تک سراپا احتجاج ہیں اسے یوم سیاہ کے طور مناتے ہیں ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے ہم کشمیریوں کے ساتھ آزادی کے لیے جدوجہد کیںعہد تجدید نو کرتے ہیں۔ ڈپٹی مئیر راچڈیل کونسلر عاصم رشید کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بے پناہ مظالم بین الاقوامی طاقتوں کی سرد مہری کے باوجود کشمیری آجتک اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو کشمیریوں کی آزادی کے لیے جنگ لڑ رہا ہے آئے روز پاکستانی افواج کے بہادر سپاہی اور آفیسران جام شہادت نوش کر رہے ہیں ۔ وقت آگیا ہے بین الاقوامی طاقتیں خواب غفلت کی نیند سے جاگ کر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے آواز اٹھائیں اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق خودارادیت دلوائیں۔
پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کامقبوضہ کشمیر کے مظلوموں سے اظہار یکجہتی
