Input your search keywords and press Enter.

کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 73سال

آزاد کشمیر پر بھارتی گولہ باری کو بھی پاکستان نے درست انداز میں اسلام آباد میں موجود عالمی سفارتکاروں کو سیز فائر لائن اور گولہ باری کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر اکے بے نقاب کیا۔ عالمی میڈیا حقائق بیان کر رہا ہے۔27اکتوبر1947ء کو کشمیر پر بھارتی قبضے سے متعلق غیر جانبدار قلمکاروں نے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ سٹینلے وائپر اور السٹر لیمب نے تو اس پر کھل کر بات کی ہے جبکہ سابق امریکی عہدیدار رابن رائفل نے28اکتوبر 1993ء کو واضح کر دیا کہ امریکہ  مہاراجہ کی دستاویز الحاق کو تسلیم نہیں کرتا اور تمام کشمیر متنازعہ ہے۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ الحاق کی دستاویز پاکستان یا اقوام متحدہ میں پیش نہیں کی گئی۔بعد ازا ں بھارت نے کہا کہ وہ گم ہوگئی ہے۔ جنیوا کی انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے ایک قرار داد کے ذریعے کہا کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز بوگس اور جعلی ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیر پر قبضے کا منصوبہ ستمبر1947ء کو ہی بنا لیا تھا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مکتوبات سے بھی یہ بات ظاہر ہوگئی ہے۔ دوسری طرف جب گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے27 اکتوبر 1947ء کو پاکستانی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انگریز کمانڈ انچیف لیفٹیننٹ جنرل سر ڈگلس گریسی نے اُس حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔گریسی نے سپریم کمانڈر فیلڈ فارشل ایکون لیک سے ہدایات کیلئے رجوع کیا، ایکون لیک 28اکتوبر1947ء کو دہلی سے لاہور پہنچ گئے۔ جس کے بعد محمد علی جناحؒ نے مائونٹ بیٹن اورنہرو کو اگلے روز لاہور بلا لیا۔ اس طرح بھارت نے کشمیر پر جعلی دستاویز کا بہانہ بناکر فوجی قبضہ کرلیا۔2بٹالین فوج ڈیکوٹا جہازوں میں سرینگر پہنچ گئی۔ بھارت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوجی قبضے کو مضبوط کرتا گیا۔ پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کی کوششیں کیں لیکن بھارت کے دبائو پر عالمی برادری نے مداخلت کی اور پاکستان کو ایسے موقع پر سیز فائر کرانے پر مجبور کیا جب پاک فوج جنگ جیت رہی تھی۔ پاکستانی فوج کو محاذ پر واپس بلایا تو وہ رو پڑے کہ اُن کی فتح کو شکست میں بدل دیا گیا۔ آج بھی کشمیری عوام کرفیو اور پابندیوں کے باوجود تاریخ کا منفرد انتفادہ لڑ رہے ہیں، کشمیر ایک انقلاب ہے لیکن اس موقع پر بھی بھارت کے وفود دنیا بھر میں سرگرم ہیں۔

پاکستان، چین کے تعاون سے سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس منعقد کرانے میں کامیاب ہوا۔ترکی، ملائشیاء  جیسے ممالک نے کشمیریوں کے لئے بھارت سے ٹکر لی۔ اقوام متحدہ ،  او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز، اداروں، تھینک ٹیکنس پر کشمیر کا مسئلہ مزید مؤثر انداز میں جارحانہ طور پر اٹھانے میںذرا سی چوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بھارت اپنے عوام میں جنگی ہیجان پیدا کر رہا ہے۔ مگر بھارتی ریاست مہاراشٹر اور ہریانہ سمیت دیگر 18 ریاستوں میں مودی کی جنگی پالیسی کو عوام نے رد کیا ہے۔ کیونکہ آزاد کشمیر پر گولہ باری اور شہریوں کو نشانہ بنانے پر بھارت میں جب  پروپیگنڈہ شروع ہوا اور بھارتی فوجی چیف نے مجاہدین کے ٹریننگ کیمپوں کی تباہی کا دعویٰ کیا۔تو بی جے پی کو انتخابی فائدے کے بجائے نقصان ہوا۔دوسری طرف عمران خان کی حکومت کا عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنے اور کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کے لئے جارحانہ مہم جاری رکھے گی اور بھارت کو کوئی یک طرفہ نرمی نہیں دے گی۔یک طرفہ لچک کی اب ضرورت نہیں۔دو طرفہ مذاکرات سے کنارہ کشی ضروری ہے تا کہ دنیا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے واحد آپشن پر توجہ دے اور بھارت کو مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ قرار دینے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔پاکستان نے غیر ملکی سفارتکاروں کے ایک گروپ کو ایک سال قبل جس طرح سیز فائر لائن کے جورا، نیلم اور دیگر علاقوں کا دورہ کرایا اسی طرح سفارتکاروں کے گروپس کو سیز فائر لائن کے دیگر علاقوں کے دورے کرائے جائیں تا کہ وہ بھی بھارتی جارحیت اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کریں اور آنکھوں دیکھا حال دنیا کو بھی بتا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے