پردیش کانگریس کے صدر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی برسی پر ورکروں کی تقریب کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین روز قبل بھارتی حکومت نے جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ایک اور دھوکہ کیا۔
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں کسی بھی شہری کو اراضی خریدنے کی اجازت دینے کا فیصلہ سابق ریاست کے لوگوں کے ساتھ ایک اور دھوکہ ہے۔ کانگریس نے کہا کہ بہار انتخابات کے بعد مرکزی لیڈرشپ کی جانب سے گپکار اتحاد کے حوالے سے ایک جامع اور مستحکم نظریہ پیش کیا جائے گا۔ کانگریس نے کہا کہ گرائمر میں اختلافات ہوسکتا ہے لیکن 5 اگست 2019ء کا فیصلہ ہم سب کو متحد کررہا ہے۔ پارٹی کے صدر غلام احمد میر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی برسی پر ورکروں کی تقریب کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین روز قبل بھارتی حکومت نے جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ایک اور دھوکہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوان میں جب بھارت نے ریاست کا درجہ گرایا، ہماری وفاداریوں کو چھین کر تباہ کردیا، اس وقت وہ لگاتار کہہ رہے تھے کہ جموں کشمیر کی اراضی اور ملازمتوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی، لیکن آج دن کے اجالے میں انہوں نے وعدہخلاف ورزی۔
غلام احمد میر نے مزید کہا کہ انہوں نے ایوان میں کئے گئے اپنے ہی وعدوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے، کانگریس پارٹی اس کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر اور لداخ میں کچھ فیصلوں کے حوالے سے مختلف آراء ہوسکتی ہیں، لیکن اب سبھی تین خطے اراضی معاملے پر متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ سبھی 22 اضلاع میں ایک آواز آرہی ہے کہ نیا قانون منظور نہیں، اس لئے کانگریس اور دیگر ہم خیال پارٹیوں کی جانب سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہوگا تاکہ نئے قانون کو واپس کیا جاسکے۔ غلام احمد میر نے کہا کہ اس کے ساتھ منسلک لوگوں کی مشترکہ خواہشیں ہیں، چاہیے جموں کشمیر اور لداخ کے مسلمان، ہندو، سکھ یا عیسائی ہوں، سبھی یکجا ہوگئے ہیں۔
