مقبوضہ کشمیر کیفوجی محاصرے کو لگ بھگ 15 ماہ مکمل ہو نے کو ہیں ،اس دوران قابض بھارتی فوج نے 253 کشمیریوں کو شہید کیا، 14 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 89، کشمیری خواتین کی عصمت دری کی گئی، اس حوالے کشمیر میڈیا سروس کی جاری رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے غیر انسانی فوجی محاصرے کے دوران قابض بھارتی فورسز نیمظلوم کشمیریوں پرظلم کیپہاڑ توڑے۔ 14 ماہ کے فوجی محاصرے کے دوران بھارتی فوج نے 253 کشمیریوں کو شہید کیا۔ جن میں 9خواتین بھی شامل ہیں ۔اس دوران بھارتی فوج کے مظالم سے 1 ہزار 498 افراد زخمی ہوئے، 14 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیاگیا جبکہ 89 خواتین کی عصمت دری بھی کی گئی۔ انڈین فورسز نے 968 کشمیریوں کے گھر بھی منہدم کئے بھارت میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں اور سماجی کارکن بہت پہلے سے یہ آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ مودی حکومت گزشتہ چند برسوں سے ان تمام آزاد تنظیموں کو بند کرنے کی کوشش میں ہے جو ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتی ہیں۔ معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی کارروائیوں کی وجہ سے انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا سے خاص بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ اب بات صرف غیر سرکاری تنظیموں تک محدود نہیں ہے۔ ”اب تو حال یہ ہے کہ دانشور ہوں یا شاعر، سماجی کارکن ہوں یا پھر ادیب، جو بھی سوال اٹھا رہا ہے، تو اس کے خلاف یا تو غداری کا مقدمہ دائر کیا جاتا ہے یا پھر سیاہ قانون یو اے پی اے کے تحت اسے فوری طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے… تواب یہ ریاست مکمل طور پر آمریت میں بدل چکی ہے۔”کشمیر کے ایڈیٹرز
گلڈ نے بھی حکومت کی جانب اس طرح کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘حکومتی اداروں اور غیر ریاستی ادارے سبھی مقامی میڈیاکو نشانہ بنانے اور بدنام کرنے کے لیے اس پر چھاپہ مارتے رہے ہیں۔”مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی کی حکومت کے آنے کے بعد سے ہی بھارت میں حقوق انسانی کی تنظیموں اور آزاد میڈیا اداروں کے لیے زمین تنگ ہوتی چلی گئی اور نتیجتاً سینکڑوں مقامی تنظیمیں بند پڑی ہیں جبکہ کشمیر میں آئے دن میڈیا اداروں اور صحافیوں کے خلاف کارروائی ہوتی رہتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، گرین پیس اور آکسفیم جیسے متعدد بین الاقوامی ادارے بھی اپنے آپریشنز کو محدود یا پھر مکمل بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے بھارتی حکومت سے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے حقوق کی پاسبانی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائیوں پرگہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو دبانے کے بجائے ان کے تحفظ کو یقینی بنائے تاکہ وہ اپنے فرائض اچھی طرح سے انجام دے سکیں۔
پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد بیرون ملک کشمیریوں کو متحرک تو کیا گیا مگر اس میں بتدریج کمی آنا شروع ہوئی اور کرونا بحران کی وجہ سے اب یہ مسئلہ بین الاقوامی برادری تقریبا بھول ہی گئی ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان حالیہ عسکری تصادم کی وجہ سے کشمیر کے مسئلے نے اب پھر بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے اور ہماری کوشش ہونی چاہیے کے اہم دارالخلافوں میں اس مسئلہ کی سنگینی اور اس خطے میں اس مسئلہ کی وجہ سے امن پر اثرات کا احساس دلایا جائے۔اس سلسلے میں ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جا سکتی ہے جس کے اہم اجزا میں بین الاقوامی سطح پر موثر اطلاعاتی جنگ، بیرون ملک کشمیری برادری کو متحرک رکھنا، کشمیری مزاحمت کی سیاسی مدد کرنا اور
ہمارے منصوبہ سازوں کو بھارت کی اس جارحیت کی قیمت بڑھانے کی سیاسی اور قانونی تدابیر پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کی عالمی طور پر موثر تشہیر اور پذیرائی بھارت میں دیگر علیحدگی پسند تحریکوں کو بھی تقویت دے گی۔ یہ موجودہ حالات میں مودی حکومت کی سیاسی اور عسکری مشکلات میں اضافہ کرے گی جو انہیں اپنے جارحانہ اقدامات واپس لینے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دے۔اس مسئلے پر پاکستان میں قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں جاری نفرت اور تقسیم کی مہم کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ اس کے بغیر ایک متحدہ اور ہم آہنگ قومی ردعمل کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔
