Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر عالمی برادری کی توجہ کا متقاضی!

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بوسنیا کی اخلاقی مدد کو سراہا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں پُرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب صدر مملکت جناب عارف علوی نے بھی عالمی برادری کی توجہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں پر کیے جانے والے مظالم کی طرف دلائی‘ اقوام عالم سے ان مظالم کا نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر اوپن ایئر جیل بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین، افغانستان، انڈونیشیا کے سفرا اور بنگلہ دیش و مالدیپ کے ہائی کمشنرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا‘ جنہوں نے صدر کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔

بھارتی سکیورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں تو وہاں کے باسیوں پر زندگی تنگ کیے ہوئے ہیں ہی‘ لائن آف کنٹرول کے اس پار بلا اشتعال گولہ باری بھی ان کا روز کا معمول بن چکا ہے‘ جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امسال اب تک بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی 2659 خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں ، جس کے نتیجے میں 20 افراد شہید اور 202 بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔ گزشتہ روز بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے ایل او سی پر باگسر سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا، پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کر کے بلا اشتعال فائرنگ کرنے والی بھارتی پوسٹ کو خاموش کرا دیا۔ بلااشتعال فائرنگ پر سینئر بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی المناکی میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران جس تیزی سے اضافہ ہوا‘ اس پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا پاکستان کا بنیادی فرض ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ ریاست میں غیر مقامی افراد کی آباد کاری نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے استصواب رائے کا اصول طے کیا گیا ہے‘ مگر بھارت آبادی کے تناسب کو خراب کر کے اور غیر کشمیری آبادی کو متنازع علاقوں میں بسا کر ریفرنڈم میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی مذموم سازش پر عمل پیرا ہے۔

بھارت کی اپنی مردم شماری رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں کام کرنے والے 28 لاکھ افراد ریاست سے تعلق نہیں رکھتے، ان میں اکثریت بہاریوں کی ہے مگر نئے بھارتی شہریت قانون کی رو سے یہ تمام افراد ریاست کی شہریت کے حق دار بن جائیں گے‘ اس طرح مقبوضہ وادی‘ جو عالمی تنازع کی حیثیت رکھتی ہے‘ میں آبادی کا تناسب بگڑ جائے گا اور یہ صورتحال مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گی۔ عالمی برادری کو ان ڈیموگرافک تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھارت بھی جان چکا ہے کہ اب زیادہ عرصے تک وہ کشمیریوں کو بزورِ جبر غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا اور آج نہیں تو کل‘ کشمیر کے مسئلے کو عالمی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہی پڑے گا، اسی لیے بھارت نے کشمیر میں غیر کشمیریوں کو لا کر آباد کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ جموں و کشمیر سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ خطے میں 24 سیکرٹریوں کی پوسٹوں پر صرف پانچ مسلمان فائز ہیں، اسی طرح 58 اعلیٰ عہدیداران میں مسلمان کا تناسب محض 18 فیصد ہے حالانکہ 2011ء کی بھارتی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کے سوا کروڑ نفوس میں 68.31 فیصد مسلمان ہیں۔ نہ صرف افسر شاہی بلکہ تجارت سے بھی کشمیریوں کو چن چن کر نکالا جا رہا ہے۔

امسال کان کنی کے 52 ٹھیکوں میں سے 40 ٹھیکے غیر ریاستی افراد کو دیے گئے ہیں جبکہ بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج جسٹس مدن بی لوکور کے قیادت میں ایک بھارتی وفد نے دورۂ مقبوضہ کشمیر کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کشمیری تاجروں کو 400 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، اس دوران دو لاکھ سے زائد افراد کی بیروزگاری اس پر مستزاد ہے۔ یہ ساری صورتحال بڑی تباہی کی غمازی کرتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اس معاملے میں خبردار رہتے ہوئے عالمی سطح پر متحرک کردار ادا کرے اور کشمیر پر مواصلات کی بندش اور کرفیو کا نقاب اوڑھ کر فاشسٹ مودی سرکار جو مظالم ڈھا رہی ہے‘ عالمی برادری کو ان سے آگاہ کرے۔ مقبوضہ علاقے کی تشویشناک صورتحال پاکستان کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے‘ ان حالات میں پاکستان کی حکومت اور اداروں کو بھرپور طریقے سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق کا عالمی فورمز پر تحفظ کرنا ہو گا اور اس کے لیے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر زوردار انداز سے اٹھانا ہو گا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اس حوالے سے مناسب کردار ادا کر رہی ہے؛ تاہم اس خطے میں حالات جس تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں‘ ان کا تقاضا ہے کہ جموں و کشمیر پالیسی کو مزید شد و مد کے ساتھ اجاگر کیا جائے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکلنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے