Input your search keywords and press Enter.

شہدائے جموں کی قربانیوں کا تقاضہ!

سردار ساجد محمود

کسی بھی ملک،قوم یا خطے کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی بھی ایساخطہ،ملک،ریاست یا قوم نہیں جس کی تاریخ میں رونما ہونے والے حادثات اورو اقعات کے تناظر میں خصوصی اہمیت کے حامل ایام نہ ہوں اور وہ قوم ان ایام کو بھر پور اہتمام اورجوش و خروش سے نہ مناتی ہو۔دنیا بھر میں کچھ ایام کو قومی سطح پر اور کچھ خصوصی ایام کو علاقائی بنیادوں پر منایا جاتا ہے تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ علاقائی بنیادو ں پر منائے جانے والے دنوں کی اہمیت و افادیت کسی بھی اعتبارسے قومی ایام کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ بڑے مقاصد کے حصول کے لئے رونما ہونے والے علاقائی نوعیت کے واقعات و حادثات کو قومی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں ہوتی اور کبھی کبھار چھوٹے مقصد کے لئے رونما ہونے والا حادثہ یا واقعہ قومی سطح پر مقابلتاً زیادہ مقبول ہو جاتا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کی اوراق گردانی کی جائے تو یہ لاتعداد اور ان گنت حادثات،واقعات اور ظلم و جبر کی المناک داستانوں پر محیط دکھائی دیتی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاستی عوام صدیوں سے بیرونی اور اندرونی طاقتوں کے ظلم و تشدد و محکومی کا شکارر ہے۔ صدیوں سے درندگی اور انسانیت سوز مظالم کی شکار قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم بالخصوص زندہ کھالوں کا کھینچ کر درختوں سے لٹکانا،کھالوں میں بھوسہ بھر وانا اور سروں کی فصل کو دھڑ سے جد ا کر کہ تلواروں اور نیزوں کی زینت بنا کر مختلف گاؤں و شہروں میں عبرت کا نشان بنانا،اس کی مثال دنیا کے کسی بھی علاقے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔تاہم تحریک آزادی کشمیر کے با قاعدہ آغاز،13جولائی 1931ء کے المناک واقعہ سے لے کرتاحال ریاست جموں وکشمیر میں پہلے ڈوگرہ مہاراجہ اور بعد ازاں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکومت کے درمیان الحاق کی جعلی دستاویز کے تناظر میں 27اکتوبر 1947کو فوجی مداخلت کے بعد بھارت نے خطہ کشمیر پر اپنا نا جائز تسلط قائم کر کہ ظلم کی نئی داستانیں رقم کیں ہیں۔کشمیری عوام بھارتی ناجائز تسلط،ظلم و جبر،انسانی حقو ق کی پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔تحریک آزادی کی ابتداء سے اندازاً چھ لاکھ سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ دے کر جہاں ایک طرف تحریک آزادی کو جلا بخشی ہے وہاں دوسری طرف بھارت کے سیکولر ازم اور جمہوریت کے جھوٹے دعوں کو دنیا پر آشکا رکیا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ بے شمار اور لا تعداد حادثات پر مشتمل ہے اور ان حادثات اور واقعات کے تناظر میں کچھ ایام کو ساری ریاست جموں وکشمیر میں بھر پور اہتمام سے منا یا جا تا ہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے