Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں بھارتی سفاکانہ کھیل نئی امریکی قیادت کیلئے چیلنج

(تجزیہ: سلمان غنی) امریکا میں منتخب ہونے والی نئی قیادت کے کشمیر میں ظلم و تشدد، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور خصوصاً5 اگست کے اقدام کے خلاف آنے والے ردعمل پر یہ کہا جا سکتا ہے ڈیمو کریٹس اپنی روایات پر کاربند رہتے ہوئے جہاں دنیا بھر میں جمہوریتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے وہاں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر معاملات کو صرف تشویش تک محدود کرنے کے بجائے اس کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات بروئے کار لائیں گے ،کشمیر میں جاری بھارتی سفاکانہ کھیل کو روکنا نئی امریکی قیادت کیلئے چیلنج ہوگا۔ اس وقت کشمیر سب سے زیادہ سلگتا مسئلہ ہے ، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف مقامات پر نہتے مظلوم کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہ ہوں،اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کیا امریکا کی نئی قیادت کشمیر میں پیدا شدہ حالات پر اپنے تحفظات کے سدباب کیلئے کوئی اقدام کر سکے گی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر بھارت کا ہاتھ پکڑ پائے گی؟ اب کی بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگانے والی مودی سرکار پر کس طرح کا امریکی دباؤ کارگر ہوگا، کیا خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے پیش رفت ہو پائے گی۔ امریکی الیکشن میں اب کی بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگانے والے نریندرا مودی کو مایوسی سے دوچار ہونا پڑا، یہ جوبائیڈن ہی تھے جنہوں نے 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد کھلے طور پر اس کی مذمت کی تھی۔نئی منتخب نائب صدر کملا ہیرس جو بھارتی نژاد ہیں انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کشمیر کی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتی اور اس حوالے سے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہئے لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے نئی امریکی قیادت بھارت پر دباؤ رکھے گی، اب ضرورت اس امر کی ہے کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال پر عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے کیلئے منظم اور مربوط کوششیں کی جائیں، اس میں کشمیریوں کے بنیادی حلیف اور وکیل پاکستان کا کردار اہم ہوگا، خصوصاً وزیراعظم عمران خان جو خود کو کشمیر کا سفیر قرار دیتے ہیں ان کی کوششوں کا عمل تقاریر اور ٹویٹس سے بڑھ کر عملاً بیرونی محاذ پر نظر آنا چاہئے ۔ یہ خوش آئند امر ہے نئی امریکی قیادت کشمیر کے مسئلہ سے بھی آگاہی رکھتی ہے اور کشمیر کے اندر پیدا شدہ صورتحال پر بھی اس کی نظر ہے ، یہی موقع ہے کہ پاکستان امریکا کو بھارت اور خصوصاً نریندرا مودی کے اصل چہرے اور اس کے مائنڈسیٹ سے آگاہ کرے جس کی وجہ سے دنیا کی نام نہاد بڑی جمہوریت اور ’’سکیولر‘‘ بھارت آج کشمیر اور اقلیتوں کے حوالے سے جلتا نظر آ رہا ہے ، خود وزیراعظم مودی انتہا پسندانہ طرزعمل اختیار کرتے ہوئے انسانی اقدار و روایات کو روندتے چلے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے