مصنف – بادشاہ خان
دو خبریں سامنے ہیں ، پہلی خبر مقبوضہ وادی کشمیر سے حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کا شاعر مشرق اور عظیم مفکر علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر پیغام میں کہنا ہے کہ علامہ اقبال کا خودی کا فلسفہ پہلے سے کہیں زیادہ ہمارے آج کی ضرورت ہے۔سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے ہی مسلم امہ کی تکالیف اور ان کے سدباب کی نشاندہی کردی تھی،انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی بصیرت اور ان کا خود آگہی، عزت نفس اور خود اعتمادی کا پیغام آج بھی تر و تازہ اور ہمارے آج کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔دوسری خبر دبئی کی ایک ایئرلائن کی پہلی پرواز اسرائیلی سیاحوں کو لےکر گزشتہ روز دبئی پہنچی۔ فلائی دبئی نے ایک بوئنگ 737 طیارے کو سیاحوں کو لانے کے لیے تل ابیب ائیر پورٹ روانہ کیا تھا۔امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق فلائی دبئی اس روٹ پر ہفتہ وار 14 پروازیں چلائے گی۔
سیدعلی شاہ گیلانی صاحب شاعر مشرق علامہ اقبال کی خود ی امت مسلمہ کے حکمران بھول چکے ہیں ، امت مسلمہ عیاشی اور سستی کا شکار ہے،
چند برس قبل مندر کی تعمیر کے بعد متحدہ عرب امارات نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ،مغرب کے چہیتے اور فلسطینیوںکے قاتل اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرلیا ،یہی وہ ڈیل تھی جس کوڈیل آف سینچری کانام دیا گیا،گریٹر اسرائیل کی تکمیل کے لئے اس سال کرونا وبا کی آڑ میں وہ فیصلے کئے گئے ، جس کی جانب دنیا سمیت امت مسلمہ کی توجہ نہیں تھی ، اور اب دیگر عرب ممالک کے بارے میں پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اپنی بادشاہت بچانے کے لئے تیار ہیں ، سوال مظلوم فلسطینی اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کے مستقبل کا ہے ، سوال قبلہ اول کی آزادی اور بچاو¾ کا ہے ۔ اور دوسری جانب ایک اور اسلامی بلاک کے قیام کا شوشا ہے ،جس سے امت مسلمہ مزید تقسیم ہوجائے گی۔
کشمیر و فلسطین کا مسئلہ ہو یا شام کی سنگین،یہ بات طے ہے کہ یہ جنگیں صرف معاشی اور فرقہ وارنہ جنگیں نہیں ہیں بلکہ اس میں مغرب اور اسلام دشمن قوتوں کا کردار موجود ہے،جدیددنیا آج بھی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہے ، آرمیگڈون کی تیاری ہے ،بلکہ اپنے مذہبی مفادات کے تحفظ کے لئے مغرب سے مشرق تک ایک ہے،دوسری جانب عرب ممالک کے حکمران فلسطین سے زیادہ ذاتی مفادات کو ترجیع دے رہے ہیں،تباہ حال غزہ کی صورت حال پر کسی کو فکر نہیں ،فلسطین وغزہ کے مظلوم مسلمان امداد کے منتظر ہیں،اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی مسلمان شہید ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہیں،غزہ کا پورا علاقہ تباہی کا منظر پیش کررہا ہے ،اسرائیلی طیارے اور ہیلی کاپٹرز نہتے فلسطینیوں پر گولیاں اور میزائیل برستے اور کوئی مسلم حکمران اور ادارہ ان کی صیح ترجمانی نہیں کررہا جبکہ دوسری طرف یورپ سے لیکر روس تک سب اپنے مفادات اور اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم ہیں، جبکہ ایک حدیث میں مسلمان جسے ایک جسم کے مانند کہا گیااور کفر کو ملت واحد کہاگیا ،آج عالم کفر تو ایک ہوچکا ہے ،چاہے وہ مغرب میں ہو ،یورپ میں ہو یا ایشیائ میں سب ایک ہیں مگر مسلمان ایک جسم کے مانند نہ بن سکے اپنوں کو تباہ ہوتا دیکھ کر بھی ان کو اکھٹے ہونے کی فکرنہیں،، البتہ چند ممالک صرف بیانات جاری کرنے پر اکتفا کررہے ہیں اور دوسری طرف فرانس سے لیکر برطانیہ،امریکہ تک اپنے ہم مذہب افراد کےلئے عملی اقدامات کررہے ہیں،آخر کیا وجہ ہے۔ کہ مسلمان آج ہر جگہ مار کھارہے ہیں؟آج کوئی بھی اللہ کےلئے نہیں مرنا چاہتا، ہر کوئی لسانیات ،قوم علاقے کےلئے تو جان دینے کو تیا ر ہیں مگر اللہ کے راہ میں شہادت سے بھاگتا ہے جس کی وجہ سے آج ہر قسم کا کافر ہم پر مسلط ہے۔ مسلم دشمنی نمایاں ہوگئی ہے کوئی روزے اور داڑھی پر پابندی لگا رہا ہے تو کوئی حجاب پر؟کہیں نماز پر پابندی تو کہیںبرقعے پر پابندی؟فرانس کا صدرگستاخانہ خاکوں کو آزادی رائے کہہ کر دفاع کررہا ہے،اور دنیا خاموش ہے۔
دنیا کے اختتام سے قبل یہ واقعات ہونے ہیں ، خوش نصیب اور کامیاب وہ ہیں اور ہونگے جو اس جنگ میں کفر سے برسرپیکار رہےنگے،دنیا کی تیسری مقدس مسجد اقصئی یہودیوں کے قبضے میں ہے اس کے حساب کو چکتا کرنے کا وقت آگیا ہے،مسجداقصَی اپنی مظلومیت کا حساب مانگ رہی ہے،شام کی مقدس سرزمین لاشوں سے بھر چکی ہے ، اور مسلمان مغرب کی غلامی میںجکڑے ہوئے ہیںاور بے بسی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں،اس وقت سوال امت مسلمہ کے بقا و تحفظ کا سوال ہے وہ بیت المقدس جسے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبوں سے آزاد کرایا تھا آج صہونیت کے پنجے میں ہے ، اگر ان کا بس چلے تو اس کو شہیدکرنے میں دیر نہ لگائیں اور اگر ہماری یہی حالت رہی تو اسرائیل اسے گرانے میں دیر نہیں کرے گا کیونکہ ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ اس جگہ ہیکل سیلمانی تعمیر کرنا لازمی ہے اس کے بعدہی دنیا میں یہودیوں کو طاقت اور عزت ملے گی ،گریٹر اسرائیل یا آزاد فلسطین فیصلہ ہم نے کرنا ہے،وقت آچکا ہے کہ مسلمان جسم واحد بن کر سامنے آئیں اور اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑے،اس وقت فلسطین کے مسلمانوں کو ہر قسم کے امداد کی ضرورت ہے صرف پیسوں کی نہیں؟ بقا کی جنگ ہے دیر بڑے نقصان سے دوچار کرسکتی ہے آگے بڑھو اور الکفر ملت واحد کو منہ توڑ جواب دو اور ثابت کرو کہ ہم جسم واحد کی طرح ہیں ہمارے جس حصے میں بھی تکلیف ہوگی پورے جسم کو ہوگی پھر دیکھو یہ کفر کے بادل کیسے غائب ہوتے ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا ان حکمرانوں میں کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں؟ اب تو یہ لکھتے بھی تھک گیا ہوں کہ اقوام متحدہ سے امید مت رکھیں، مسلم حکمران اس میں بنیادی رول ادا کرسکتے ہیں ، خودی ،اتحاد اور مقابلہ ہی مسائل سے نجات کا واحد راستہ ہے۔سوال وہی ہے کیا خودی ہے؟ کیا مسلمان نیل سے کاشغر تک ایک ہیں؟
