سرینگر(این این آئی،کے پی آئی)بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر بھارتی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔دوسری طرف فوجیوں نے پلوامہ ، کولگام ، شوپیاں، بارہمولہ ، بانڈی پوراور کپواڑہ کے اضلاع میں بھی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں جاری رکھیں، مقامی افراد نے میڈیا کو بتایا ہے کہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ایک ہزار گھروں پر مشتمل گائوں میں داخل ہو کر گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کی ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجی افغانستان میں آسٹریلیا کے فوجیوں کی نسبت زیادہ سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آسٹریلیا بھارت کیلئے ایک مثال ہونی چا ہئے کیونکہ افغانستان میں آسٹریلیا کے فوجیوں کے مقابلے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجی زیادہ بڑے پیمانے پر قتل عام ، خواتین کی بے حرمتیوں، آتشزدگی اور املاک کی تباہی جیسے گھنائونے جرائم میں ملوث ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ ، عالمی فوجداری عدالت اور عالم عدالت انصاف پر زوردیاکہ کشمیر میں جنگی جرائم میں ملوث بھارتی فوجیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایاجائے ۔بھارتی قابض انتظامیہ نے پلوامہ میں تین کشمیری نوجوانوں کو جاری جدوجہد آزادی کی حمایت پر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا ۔ادھر بھارتی فوجیوں نے ضلع شوپیاں کے علاقے ترکوانگام میں مسلسل تیسرے روز بھی تلاشی اور محاصرے کی کارروائی جاری رکھی۔مقبوضہ کشمیر 6000 ہزار ہیکٹر اراضی بھارتی صنعت کاروں کو فراہم کی جائے گی، بھارتی وزارت خزانہ نے اس کی منظوری دیدی ہے ، اب کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے ۔ شمالی کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے جی او سی میجر جنرل ایچ ایس ساہی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ابھی بھی 200 سے زائدعسکرے ت پسند موجود ہیں۔
مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجیوں پرجنگی جرائم کے مقدمہ کا مطالبہ
