آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے 4 شہریوں کی شہادت اور 22شہریوں کے زخمی کیے جانے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی کھلی درندگی قرار دیا اور خبردار کیا کہ بھارت کے بزدلانہ اقدامات خطہ کو جنگ کے شعلوں میں جھونک سکتے ہیں۔
لائن آف کنٹرول کے پار سے قابض بھارتی فوج کی طرف سے فائر بندی معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی غیر مصلح شہری آبادی کو براہ راست نشانہ بنانے کے واقعہ کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے صدر ریاست نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی کا فی الفور نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو اس طرح کی اشتعال انگیزیوں سے نہ روکا گیا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ پاکستان کی فوج بھارتی گولہ باری کے جواب میں صرف بھارتی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہے کیوں کہ مقبوضہ کشمیر کی شہری آبادی کو پاک فوج کسی صورت میں نشانہ نہیں بنا سکتی لیکن اس کے برعکس بھارتی فوج آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو نشانہ بنا کر اپنے خفت مٹاتی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کی ان تمام کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال سے بنیادی توجہ ہٹانا اور پاکستان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی حمایت کی سزا دینا ہے۔
