Input your search keywords and press Enter.

  خصوصی پوزیشن کی بحالی کے حق میں جموں میں احتجاج | کشمیر معاملے پر ہندوستان کو پاکستان سے بات چیت کرناچاہئے :شیخ عبدالرحمن

سید امجد شاہ

جموں//جموں و کشمیر یونائیٹڈ پیس موومنٹ کے بینر تلے مختلف تنظیموں کے لیڈران اور کارکنوں نے جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کی واپسی کے حق میں احتجاج کیا۔مظاہرین نے پریس کلب کے قریب نمائش گراؤنڈ پر اکٹھا ہوکربینر اٹھارکھے تھے جن پر’ریاست کا درجہ بحال کرو‘، ’ہندو عیسائی سکھ مسلمان سب سے پہلے ہیں انسان‘، ’فرقہ پرستو خبر دار ہم ہیں امن کے پہرے دار‘ کے نعرے درج تھے۔مظاہرین فرقہ وارانہ بھائی چارہ کے حق میں اور ملازمتوں اور زمین کا تحفظ فراہم کرنے کے نعرے لگارہے تھے۔اس دوران سینئر رہنماشیخ عبدالرحمن نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہندوستان کوتنازعہ کشمیر کے خاتمے اور جموں وکشمیر میں سرحدوں پر امن لانے کے مقصد سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے‘‘۔انہوں نے کہا’’دونوں جوہری ممالک کے مابین کوئی جنگی معاہدہ نہیں ہونا چاہئے، جموں و کشمیر کے رہائشی تنازعہ کے فریق ہیں اور انہیں تنازعہ پر کسی بھی طرح کی بات چیت کا حصہ بننا چاہئے‘‘۔سابق رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ 5 اگست 2019 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کیا جائے۔ان کاکہناتھا’’اگر یہ کام نہیں کیا گیا تو ہم احتجاج کریں گے، جب پنجاب، بہار، اترپردیش، تمل ناڈو اور مغربی بنگال جیسی ریاستیں زیادہ سے زیادہ حقوق اور تحفظ کا مطالبہ کررہی ہیں تو آئینی حقوق چھیننا بلا جواز تھا اور اسے بحال کیا جانا چاہئے‘‘۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت جموں و کشمیر کی ریاست کادرجہ بحال کرے اور ملازمتوں اور زمین کو تحفظ فراہم کرے۔سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا’’5 اگست کے فیصلے سے بی جے پی نے کشمیر میں ملک کے مقصد کو نقصان پہنچایا ہے، انہوں نے بھارت نواز اور مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں سے بھی پوچھ گچھ کی ہے اور یہ بلاجواز ہے، اب انہوں نے ہندوستانی آئین میں ترمیم کرکے جموں و کشمیر کے آئین کو کالعدم قرار دے دیا ہے جبکہ مہاراجہ ہری سنگھ کے ذریعہ تین امور (کرنسی، خارجہ امور اور مواصلات) پر دستخط کئے گئے تھے‘‘۔عبدالرحمٰن کے علاوہ سماجی کارکن آئی ڈی کھجوریہ، سابق وزیر بابو سنگھ، نریندر سنگھ خالصہ و دیگران بھی اس احتجاج میں شامل تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے