سپہ سالار نے 17نومبر کو کوءٹہ میں ;242;نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنے مکروہ عزائم میں ناکامی ہوگی ۔ انہوں نے اس ضمن میں مزید کہا کہ پاکستان کا امن اور خوشحالی جمہوریت کی اقدار سے منسلک ہےں ۔ سبھی جانتے ہےں پاک عسکری ترجمان اور وزیر خارجہ نے مشترکہ کانفرنس کے دوران خبر دار کیا ہے کہ آنے والے چندماہ کے دوران کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں بھارتی سفارت خانہ سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور بھارتی کرنل راجیش نامی سفارتکار پاکستان کے خلاف کروڑوں روپے بانٹ چکا ہے ۔ اس نے دہشت گردوں سے چار ملاقاتیں بھی کی ہیں ،سی پیک کو سبو تاژ کرنے کے لیے700افراد کی ملیشیا بنائی ہوئی ہے ۔ الطاف گروپ،طالبان اور کالعدم بلوچ تنظیموں کو اسلحہ اور رقوم فراہم کی جا رہی ہیں ۔ اسی ضمن میں مزید بتایا گیا کہ بھارت آزاد جموں و کشمیر، گلگت، بلتستان، بلوچستان اور فاٹا میں قوم پرستی کوہوا دے رہا ہے ۔ اس موقع پر دہشت گردوں اور ان کے بھارتی معاونین کی ویڈیوز بھی میڈیا کے نمائندوں کو سنوائی گئیں ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی متعصب ہندو قیادت نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا ۔ اس نے ایک کشمیر اور جونا گڑھ پر بزور طاقت قبضہ کیا ۔ پاکستان کے حصے کی رقم روکی ۔ دوسری جانب پورے ہندوستان اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات کرائے ۔ شائد ہندو قیادت کو یہ خوش فہمی تھی کہ پاکستان کامیاب پروجیکٹ ثابت نہیں ہوگا اور قائد اعظم چند ماہ یا چند سال میں ہندو قیادت سے درخواست کریں گے کہ پاکستان کو انڈین یونین کا حصہ بنالیں ۔ مگر پاکستان بدترین معاشی حالات سے نہ صرف یہ کہ نکل گیا بلکہ اس نے بہت جلد زندگی کے مختلف شعبوں میں بھارت سے بہتر کارکردگی پیش کی ۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کی معیشت کو اُبھرتی ہوئی معیشت سمجھا جاتا تھا اور ہمارے پانچ سالہ منصوبوں کو مثال کے طور پر سامنے رکھا جاتا تھا ۔ لیکن بھارت نے پاکستان کے سلسلے میں اپنے ناپاک عزائم کبھی ترک نہےں کیے ۔ اس نے کراچی کے حالات کو دھماکا خیز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس نے بلوچستان میں مداخلت کی ۔ وہ اب بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کوئی فوجی یا سول حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کی بھرپور کوشش نہ کی ہو ۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات کے نو ادوار ہوئے مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا ۔ جنرل پرویز مشرف نے آگرہ میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کیے اور کشمیر کا ایسا حل تجویز کیا جو کشمیر کو بھارت کے ہاتھ فروخت کرنے کے مترادف تھا، یہ حل اکثر پاکستانی حلقوں کے نزدیک مناسب نہ تھا مگر بھارتی ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو کہ اُس نے یہ فارمولا بھی قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور جنرل پرویز آگرہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹے ۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھارت نے جنرل ضیا الحق کے عہد اور بعد کے زمانوں میں کئی بار پاکستان پر حملے کی کوشش کی مگر پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت سے باز رکھا لیکن بھارت پاکستان کے خلاف ایک خفیہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ وہ لائن آف کنٹرول پر حالات کو مسلسل کشیدہ بنائے ہوئے ہے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو اس نے ختم کردیا ہے اور اہل کشمیر پر اس کے مظالم بڑھ گئے ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستان کا حکمران طبقہ بھارت کی دہشت گردی اور جارحانہ عزائم سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہے ۔ پاکستان کے حکمران طبقے میں بھارت کے حوالے سے پہل کاری یا ;73;NITIATVE کی نفسیات موجود نہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں نمایاں کرنے میں بھی کسی حد تک ناکام ہیں ۔ ہم نے بھارت کے جاسوس کلبھوشن کو پکڑا اور وہ ہماری قید میں ہے ۔ خدانخواستہ بھارت نے ہمارا کوئی جاسوس پکڑ لیا ہوتا تو وہ پاکستان کو اب تک دہشت گرد ریاست باور کراچکا ہوتا، مگر ہم بھارت کے جاسوسوں کو بھی اپنا اثاثہ بنانے میں ناکام رہے ۔ اگرچہ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہم ایٹمی قوت ہیں ۔ چناں چہ بھارت شدید خواہش کے باوجود بھی ہمارا کچھ بگاڑ نہیں پارہا مگر پاکستانی سیاست دان بھارت کے ہاتھ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہےں ۔ سیاسی حکمران صرف بھارت کے خلاف بیانات جاری کرنے میں لگے رہتے ہےں ۔ اس سے ثابت ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے بیانات کو بھارت کے خلاف عمل کا متبادل بنالیا ہے یہ حقیقت عیاں ہے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور کشمیری کسی بھی قیمت پر بھارت کے ساتھ رہنے کےلئے تیار نہیں ۔ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی تک بھارت کےخلاف بیانات داغنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ بھارت میں آزادی کی کئی تحریکیں چل رہی ہیں مگر پاکستان کے سیاسی رہنما کہیں بھی بھارت کی گردن دبوچ نہےں سکے ۔ ایسے میں عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر پاکستان کے سیاسی حکمران کب بھارت کو سبق سکھائیں گے اور کب بھارت سے نمٹنے کی اہلیت کا مظاہرہ کریں گے;238; ۔ امید کی جانی چاہیے کہ قوم کے سبھی طبقات اس جانب خصوصی توجہ دیں گے ۔ البتہ یہ امر خاصی حد تک حوصلہ افزا ہے کہ پاک افواج دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی نہ صرف اہلیت رکھتی ہےں بلکہ حالیہ دنوں میں ایسا کر بھی رہی ہےں ۔ ایسے میں توقع رکھنی چاہیے کہ دہلی کی سازشیں کو خاظر خواہ ڈھنگ سے نکیل ڈالی جائےگی ۔ انشا اللہ
بھارت کو نکیل ڈالنا ۔ وقت کا تقاضا
