سرینگر/20نومبر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر شاہ نواز حسین نے گپکار اتحاد پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد میں شامل پارٹیوں اور لیڈران نے ہمیشہ ہی جموں کشمیر کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس گینگ نے جموں کشمیر کے لوگوں کے خون کے ساتھ سیاست کرنی شروع کی ہے جبکہ ’بھاجپا‘کنول جموںکشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر مرکزی لیڈر اورسابق وزیر شاہ نواز حسین نے آج سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں گپکار اتحاد پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گینگ میںشامل لیڈران نے ہمیشہ سے ہی لوگوں کو استحصال کا شکار بنادیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ان جماعتوںنے جموں کشمیر کے لوگوں کے خون پر سیات کے محلات کھڑے کئے تھے جو دفعہ 370کی منسوخی سے مسمار ہوئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان اور سینئر لیڈر سید شاہ نواز حسین نے بتایا کہ دفعہ 370اب دوبارہ بحال نہیں ہوگا جس پر گپکار گینگ سیاست کرکے یہاں کے عوام کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ماحول تبدیل ہوا ۔انہوں نے کہا کہ ہم جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ہیں اور اس بات کیلئے وعدہ بند ہے کہ جموں کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوجس پر پہلے ہی کام شروع کیا گیا ہے ۔ شاہ نواز حسین نے کہا کہ جموںکشمیر کے لوگ مودی جی سے الفت رکھتے ہیں جس طرح یہاں کے لوگ اٹل بہارئی واجپائی جی سے پیار کرتے تھے اور وزیر اعظم نریندر مودی بھی یہاں کے لوگوں کو چاہتے ہیں ۔ کشمیر مودی کے دل کے قریب ہے جویہاں پر ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ڈیولپمنٹ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ شاہ نواز حسین وادی کے چا ر روزہ دورے پر ہیں اور جموں کشمیر کیلئے بی ڈی سی انتخابات کے پارٹی انچار ج ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموںکشمیر میں لوگ اب بلا کسی جھجک کے ترنگا ہاتھوں میں لیکر لہرارہے ہیں یہاں کے لوگوں کے دلوںسے اب خوف نکل چکا ہے اسی لئے لوگوںنے گپکار گینگ کو شکست دینے کا فیصلہ کیا ہے جنہوںنے گزشتہ ستر برس سے یہاںکے لوگوںکے حقوق کو دبائے رکھا اور ان کو بہت سارے حقوق سے بھی محروم رکنے میںاپنا رول نبھایا تاہم گزشتہ برس اگست کے فیصلے سے یہاں کے لوگوں کے حقوق بحال ہوئے ہیں۔
جموں کشمیر میں دفعہ 370دوبارہ بحال نہیں ہوگا؛ گپکار’’گینگ‘‘ لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے / شاہ نواز حسین
