Input your search keywords and press Enter.

بھارت میں مفادات : عالمی برادری بھی مسئلہ کشمیر پر خاموش

 (تجزیہ:سلمان غنی) بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ عروج پر ہے ، کوئی دن ایسا نہیں جا رہا کہ گھر گھر تلاشی کے عمل کے دوران کشمیریوں، خصوصاً نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہ ہوتے ہوں لیکن نہ جانے کیوں انسانی حقوق کے حوالے سے حساس عالمی برادری کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و تشدد اور بربریت پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی سے صرف نظر برتتی نظر آ رہی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کشمیر میں روا رکھے جانے والے اس غیر انسانی عمل پر عالمی برداری خاموش ہے ، دنیا بھر میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور ادارے کشمیر میں روا رکھے جانے والی بربریت اور فسطائیت پر رپورٹس کے اجرا سے آگے نہیں بڑھ پائیں،جہاں تک عالمی برادری کی مجرمانہ غفلت اور خاموشی کا سوال ہے تو اس کی بڑی وجہ ان کے بھارت میں معاشی اور اقتصادی مفادات ہیں جس بنا پر وہ اس انسانی مسئلے پر آواز اٹھانے سے گریزاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و تشدد اور بربریت پر احتجاج اور آواز اٹھانے کے عمل سے ان کے مالی اور معاشی مفادات کو گزند پہنچ سکتی ہے ،اشیائے خورو نوش کی قلت ،بیماروں کیلئے ادویات کی عدم فراہمی، بجلی ، گیس کی بندش اور مواصلاتی رابطوں کے فقدان کے باعث کشمیر کی وادی آتش فشاں کا روپ دھار چکی ہے ، دوسری جانب اگر پاکستان کا کردار دیکھیں تو پاکستان کی حکومتیں کشمیر کو کور ایشو تو قرار دیتی رہیں اور کشمیر میں روا رکھے جانے والے ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاجی بیانات، قراردادیں اور ٹویٹس تو جاری کرتی رہیں مگر عملاً کشمیریوں کی آواز بننے اور عالمی محاذ کو اس حوالے سے سرگرم کرنے میں سستی اور کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ ایک تو بھارت جیسی نام نہاد لبرل طاقت کا اصل چہرہ دنیا کو نہ دکھایا جا سکا، دوسرا مودی سرکار پر اتنا دباؤ نہ ڈالا جا سکا جو اسے اس فسطائی طرز عمل سے باز رکھ سکے ، کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رہا تو اس میں اتنا خطرہ موجود ہے کہ یہ پورے برصغیر کو ہلا کر رکھ سکتا ہے ، انسانیت کی بقا اور کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کوامن دینے کیلئے اس دیرینہ تنازع کے حل کے سوا کوئی چارہ نہیں، یہ جتنا جلد ہو گا اس خطہ کیلئے بہتر ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے