برمنگھم(پ ر) تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا ہے کہ بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اورعالمی برادری کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کیلئے تمام جمہوری اور پُرامن راستے بند ہوتے جارہے ہیں، بھارت نے تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ظلم اور دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے، اس سے کشمیریوں کا بڑا نقصان ہوا ہے، اس کے باوجود آزادی کی جدوجہد جاری ہے، مشکل اور نامساعد حالات میں بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے اندر جذبہ آزادی کو ختم کرنے میں بھارت کامیاب نہیں ہوسکا، حکومت پاکستان نے بھی 70 سال سے یہی کوشش کی ہے کہ بھارت جس نے کشمیریوں سے وعدے کر رکھے ہیں، میز پر آکر مذاکرات کرے، مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے پیش رفت کرے اور بار بار دنیا کو توجہ دلانے کے باوجود اس میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حالات میں کشمیری عوام پاکستان سے جو خواہشات رکھتے ہیں اس پر پورا اترنے کے لیے کشمیر پالیسی پر نظر ثانی اور سنجیدگی سے غور کیا جائے، مظلوم اور محکوم کشمیر عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور نو لاکھ بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار اور ڈٹے ہوئے ہیں انہیں مایوس نہ کیا جائے ۔ محمد غالب نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے بار بار
مذاکرات کی پیش کش پر بھارت ایک قدم بڑھے اور پاکستان دو قدم بڑھنے کے تیار ہے ، گذشتہ سال پانچ اگست کو بھارت نے جو راستہ اختیار کیا آئین کو تبدیل کر کے مقبوضہ کشمیر میں جس طرح مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کیلئے جو سازشیں کر رہا ہے یہ کشمیریوں اور پاکستان کے حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔ سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ٹھوس اور عملی اقدامت کرنے پر غور کرے، کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور بھارت کے ناپاک عزائم کو روکا جائے اور دنیا کو یہ نظر آئے کہ پاکستان اب مسئلہ کشمیر حل کرنے میں پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہے تو پھر دنیا بھی بھارت کو مذاکرات کیلئے مجبور کرے گی ۔
