بھارتی حکومت نے جنوبی کشمیر میں گجر بکروال قبائلی خاندانوں کے سینکڑوں گھر مسمار کر کے 25 ہزار کنال اراضی خالی کرانے کا آپریشن شروع کر دیا
سری نگر(کے پی آئی)سینکڑوں گھروں کے منہدم ہونے کے بعد مسلمان گجر بکروال قبائل کے سینکڑوں خاندان سخت سردی میں در در بھٹک رہے ہیں، جنوبی ضلع اننت ناگ کے علاقے پہلگام کے مامل اور لِدرو جنگلات میں یہ قبائل پانچ نسلوں سے آباد ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کرنے کے فیصلے کے بعد مسلسل نئے قوانین نافذ اور نئے اعلانات کیے گئے ،ابھی زمینوں کی ملکیت سے متعلق قانون پر سماجی اور سیاسی حلقے اظہار ناراضی کر رہے تھے کہ حکومت نے جنگلات کی اراضی پر آباد قبائلی خاندانوں کے عارضی گھروں کو مسمار کرنے کی مہم شروع کر دی، بظاہر یہ سب وفاقی قانون فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت کیا جا رہا ہے لیکن کشمیر میں اس حوالے سے کافی ناراضی پائی جاتی ہے ، نسیمہ اختر کہتی ہیں کہ اچانک سینکڑوں گاڑیوں میں انتظامیہ اور پولیس اہلکار پہنچے اور کدالوں سے ہمارے گھر توڑنے لگے ، بچے ڈر گئے ، ہم سب خواتین رو رہی تھیں، حکام کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر ہائیکورٹ کی طرف سے باقاعدہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ جنگلات میں اڑھائی ہزار کنال سے زیادہ اراضی پر قبضے اور تجاوزات کو ہٹایا جائے ۔
