اسلام آباد: دفتر خارجہ نے دہلی کی جانب سے پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں ایک ناکام حملے سے منسلک کرنے کے ‘غیر مصدقہ’ الزام کو مسترد کردیا۔
بھارت کے ناظم المور کو الزامات مسترد کرنے کے لیے دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔
مذکورہ الزام سب سے پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے لگایا تھا جسے بھارتی وزارت خارجہ نے دہلی میں موجود پاکستانی ناظم الامور کو نام نہاد حملے کی منصوبہ بندی پر احتجاج کے لیے طلب کرکے دہرایا۔
دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ بھارت کے الزامات کا مقصد پاکستان کو ‘فتنہ انگیز طور پر’ اس واقعے میں ملوث کرنا ہے جسے مقبوضہ کشمیر کے علاقے نگورٹا میں ایک ‘ناکام بنایا جانے والے حملہ’ کہا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے 19 نومبر کو نگورٹا میں جیش محمد کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنایا۔
بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ناظم الامور کو بھارتی حکومت کی جانب سے جیش محمد کے بھارت کے خلاف جاری حملوں کے حوالے سے ‘سنگین تحفظات’ کا پیغام دیا گیا۔
بھارت کا کہنا تھا کہ حملے کا بظاہر مقصد لوکل ڈسٹرک ڈیولپمنٹ کونسلز کے انتخابات کو نقصان پہنچانا تھا جو مقبوضہ کشمیر میں 28نومبر سے 19 دسمبر تک جاری رہیں گے۔
چناچنہ ناظم الامور کو دیے گئے بیان میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ ‘اپنے زیر کنٹرول سرزمین’ کو بھارت کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے جیش محمد سے تعلق رکھنے والے 4 ‘دہشت گردوں کو قتل’ کر کے دہشت گردی کی کارروائی کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
دوسری جانب دفر خارجہ نے بھارتی الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ‘مکمل طور پر بے بنیاد اور غیر مصدقہ الزامات تھے’ جو کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں اور پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
دفتر خارجہ نے یاددہانی کروائی کے پاکستان نے 14 نومبر کو ایک ڈوزیئر کی صورت میں بھارت کی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں، اس کے فروغ، معاونت، مالی مدد اور فعال منصوبہ بندی’ کے ناقابل تردید دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں۔
منبع: ڈان نیوز
