وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین اور تازہ صورتحال سے آگاہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل کو خط بھیج دیا ، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں سمیت مقبوضہ کشمیر کی سنگین اور تازہ صورتحال سے آگاہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل کو ایک خط بھیج دیا ہے۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے خط میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ہے جس سے ہندوستان کی جانب سے امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ خط میں خاص طور پر مقبوضہ علاقے میں ہونے والی غیرقانونی آبادیاتی تبدیلیوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔خط میں وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کو بھارتی فوجی قبضے ، زمین ضبط کرنے ، غیر کشمیریوں کی آباد کاری اور غیر قانونی بستیوں کے قیام کی ایک وسیع حکمت عملی کے نفاذ سے آگاہ کیا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بھارتی ایجنڈے کے نتیجے میں ، مقامی کشمیری اپنی سیاسی اور ثقافتی شناخت اورحق ملکیت کھو رہے ہیں۔خط میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے بلا اشتعال سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور شہری آبادی والے علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ رواں سال بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی 2،700 سے زائد خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 25 بے گناہ افراد شہید اور 200 سے زائد بے گناہ شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی براہ راست ذمہ داریوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھارت کو متنازعہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی خلاف ورزیوں سے روکےجن میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے جائز حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ کا یہ خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکر ٹری جنرل کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال سے باقاعدگی سے آگاہ کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے حل کے لئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا حصہ
