Input your search keywords and press Enter.

یوم سیاہ کشمیر اور شہریار آفریدی

یوں تو شہریار آفریدی کے ساتھ نیاز مندی کا سلسلہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے توسط سے چند بر سوں سے ہے لیکن یوم سیاہ کشمیر کی ایک تقریب میں ان کو کافی قریب سے دیکھاتو کچھ مشاہدات اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ لیکن قبل اس کے کہ میں آج کے موضوع پر آئوںوزیراعظم عمران خان بارے یہ بتاتا چلوں کہ مسئلہ کشمیر حل کرانے سے پہلے جو انہوں نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے وہ یہ ہے کہ کشمیر کمیٹی کو بھارتی ہمدردوں سے خالی کروالیا ہے قارئین کو یاد ہوگا 13برسوں  سے مولانا فضل الرحمٰن پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے۔ لیکن ان 13برسوںمیں شاید وہ تیرہ بار بھی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کی حیثیت سے کشمیر نہیں گئے۔

قارئیں یوم سیاہ کشمیر2020 کی مناسبت سے ’’پکس‘‘کے زیر اہتمام مظفر آباد میں آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے دو تقاریب منعقد کی گئیں۔ ایک ایوان صدر میں جہاں صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان مہمان خصوصی اور چیئر مین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی گیسٹ آف آنر تھے اور دوسری ای پی آئی ہال میں یوتھ لیڈرشپ کانفرنس 2020 کے عنوان سے تقریب منعقد ہوئی جہاں شہریار آفریدی مہمان خصوصی تھے۔

ای پی آئی ہال میں شہریار آفریدی نے نوجوانوں سے خطاب کرنے کی بجائے بات چیت کرنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ جو دل میں آئے جیسا بھی سوال پوچھنا چاہ رہے ہیں کھل کر پوچھیں۔ ہال میں تقریبا ایک سو نوجوان موجود تھے۔ شہریار آفریدی نے ایک ایک سے اس کا تعارف سنا۔ ہر نوجوان سے ذاتی طور پر مخاطب ہوئے۔ ایسا نہیں تھا کہ ایک نوجوان کا تعارف سن کر اگلے کو باری دے دیں بلکہ ہر نوجوان کے ساتھ ذاتی مکالمہ کر رہے تھے اور یوں وہاں موجود ہر  نوجوان کو اہمیت بھی دے رہے تھے اور اس بات کا احساس بھی دلا رہے تھے کہ وہ اس تقریب کا اسی طرح حصہ ہے جس طرح شہر یار آفریدی‘ عبداللہ خان‘ نسیم خالد یا کوئی اور۔ نسیم خالد صاحب کشمیر کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل  ہیں۔ بہت ہی زیرک‘ معاملہ فہم اور دور اندیش بیوروکریٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کمیٹی کے تین چیئرمینوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا لیکن  شہریار آفریدی کو بطور چیئرمین سب سے زیادہ متحرک پایا۔ خیر بات ای پی آئی ہال میں تقریب کی ہو رہی تھی۔ قبل اس کے کہ میں تقریب کا باقی احوال آپ سے شیئر کروں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ اس تقریب کے کامیاب انعقاد میں ٹیم پاکستانیت مظفرآباد کے اراکین عثمان پیرزادہ‘ اویس اعوان ‘ عاصم ملک ‘ عثمان میر‘ عاقب ملک‘ علی جاوید اور دیگر نے اہم کردار ادا کیا ورنہ ایک دن کے نوٹس پر ہال کو حاضرین سے کھچا کھچ بھر دینا کوئی آسان کام نہیںتھا۔

ہال میں ہر نظریے کا کشمیری نوجوان موجود تھا۔ الحاق پاکستان والے بھی تھے‘ خود مختار کشمیر والے بھی‘ تحریک انصاف‘ پیپلز پارٹی ‘ مسلم کانفرنس ‘ جے کے ایل ایف‘ این ایس ایف‘ غرض تقریبا ہر سیاسی نظریے کے نوجوان موجود تھے۔ مجھے لگا کہ شہریار آفریدی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ بہت مسئلہ ہوگا۔ شاید اس کو سوشل میڈیا پر غلط انداز میں بھی چلا دیا جائے۔ لیکن شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ جب تک نوجوانوں کی بات نہ سنی جائے، ان کے ساتھ بیٹھا نہ جائے تب تک ان کے تحفظات کبھی دور نہیں کیے جا سکتے۔ ساڑھے چار بجے سے لیکر پونے نو بجے تک شہریار آفرید ی نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دیتے رہے اور جب نوجوانوں نے سوال وجواب کا سلسلہ خود ہی ختم کرنے کا کہا تو تب تقریب کا اختتام ہوا۔شہر یار آفریدی نے تقریب کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ اگر مجھے ساری رات بھی یہاں رکنا پڑا تو موجود رہوں گا۔

مظفرآباد کے نوجوانوں سے میں نے  تقریب کے بعد پوچھا کہ آپ کے کیا تاثرات ہیں تو کہنے لگے کہ زندگی میں پہلی بار کشمیر کمیٹی کے کسی چیئر مین کو کشمیر کے عام نوجوانوں سے بات کرتے دیکھا۔ مولانا فضل الرحمٰن تو ویسے بھی کشمیر کم ہی آئے تھے جبکہ فخر امام صاحب کا دور ہی بہت مختصر تھا۔ وہ گزشتہ برس ایوان صدر میں آزاد کشمیر بھر سے آئے طلباء سے خطاب کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس تقریب کا اہتمام بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز(پکس) نے کیا تھا۔ تاہم جس انداز سے شہریار آفریدی طلباء میں گھل مل گئے۔ انہیں وقت اور اہمیت دی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

اس سارے عرصے کے دورا ن شہریار آفریدی کی شخصیت بارے کچھ اور چیزیں بھی سامنے آئیں۔ ایوان صدر آزاد کشمیر نے ان کی رہائش کا انتظام پی سی ہوٹل میں کیا تھا جبکہ ان کی ٹیم کے لیے سٹیٹ گیسٹ ہائوس میں کمرے بک کیے گئے تھے۔ شہریار آفریدی نے پی سی میں قیام کرنے سے صاف انکار کر دیا اور مجھے فون کر کے کہا کہ عبداللہ بھائی آئندہ اس بات کا خیال رکھیں کہ جہاں میری ٹیم ہوگی میں اسی جگہ قیام کرتا ہوں کیونکہ میں اپنی ٹیم کو بچوں کی طرح رکھتا ہوں۔ میں ان وزیروں میں سے نہیں جو خود بڑے بڑے ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں جبکہ اپنے سٹاف کو پوچھتے تک نہیں۔ شہریار آفریدی کی شخصیت کا ایک اور پہلو میرے سامنے یہ آیا کہ وہ تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔ اور شاید یہ سطور ان کے اسی رویے کا ردعمل ہے ۔ ایوان صدر اور ای پی آئی ہال میں کچھ امور پر میرے کچھ تنقیدی ملاحظات تھے۔ میں نے اپنی ٹیم سے مشورہ کیا کہ یہ شہریار بھائی کے نوٹس میں لانے چاہیں تو سب نے کہا کہ ایسا نہ کریں وہ ناراض ہو جائیں گے اور ممکن ہے آئندہ ہمارے کسی پروگرام  میں نہ آئیں۔ لیکن میں نے اخلاص نیت کے ساتھ اصلاح کی غرض سے اپنے سب کے سب ملاحظات واٹس ایپ کے ذریعے شہریار بھائی کے سامنے رکھ دیئے اور مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ اتنے سخت تنقیدی ملاحظات کو انہوں نے بہت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے ان کو اپنے ملاحظات سے آگاہ کیا۔ میرا خیا ل ہے کہ جو شخص تنقید سننے اور سہنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اقتدار میں ہو تو وہ  ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کے قابل ضرور ہوتا ہے۔ تنقید سے یاد آیا کہ ای پی آئی ہال میں شہریار آفریدی نے خود پر ہونے والی تضحیک آمیز تنقید کا کھل کر ذکر بھی کیا۔ اور وہ سب برے القابات خود دہرائے جومخالفین ان کے بارے میں کہتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین جو کہتے ہیں کہتے رہیں میں پاکستان اور کشمیر کاز کے لیے جو بہتر سمجھتا ہوں کرتا رہوں گا۔ شہریار آفریدی کا ارادہ ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے ہر شہر میں نوجوانوں سے براہ راست  ملاقاتیں کریں گے۔ اس حوالے سے’’ پکس‘‘ ان شاء اللہ اپنا کردار ادا کرنے کا بھرپور ارادہ رکھتا ہے۔ ایسے سیاستدان جو عام نوجوانوں کو اہمیت دیں وہ قومی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا ہوتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ شہریار آفریدی اسی طرح عوا م کے ساتھ جڑے رہیں اور کوئی بڑا منصب ان کو عوام بالخصوص نوجوانوں سے دور نہ کرسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے