سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات میں اسلامو فوبیا مقبوضہ جموںوکشمیر کی صورتحال مسئلہ فلسطین سمیت مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔
وزیر خارجہ نے او آئی سی کو فعال اور مستحکم بنانے کیلئے ڈاکٹر یوسف العثیمین کے بطور سیکرٹری جنرل او آئی سی کی خدمات کو سراہا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان او آئی سی کو مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اسے ایک انتہائی اہم اور واحد فورم گردانتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ کورونا نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ، متعدد مسلم ممالک کورونا کے معاشی مضمرات کا سامنا کررہے ہیں کورونا وباءسے معاشی مضمرات کو کم کرنے اور کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے قرضوں میں سہولت کی تجویز دے رکھی ہے ۔ اسلامو فوبیا کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہاکہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے ۔ چاہتے ہیں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ایک مضبوط قرار داد کے ذریعے دنیا بھر کوایک واضح پیغام دیا جائے تاکہ اسلاموفوبیا کے خلاف رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔
شاہ محمودقریشی نے او آئی سی سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت عالمی قوانین اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت سرکار کی ہندوتوا سوچ نہ صرف ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں بلکہ پورے خطے کے امن و امان کیلئے خطرہ ہیں وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کی جانب سے دی جانے والی مسلسل اور بھرپور حمایت پر سیکرٹری جنرل او آئی سی کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔
