مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل انتخابات نہیں ہیں، بلکہ اس کے لیے پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات ہونے چاہئیں۔
اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیر میں ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات کے نام پر دراصل جمہوریت کا قتل کر رہی ہے، کیونکہ ان کے امیدوار تو گھروں میں محصور ہیں جبکہ مخالفین کو مہم چلانے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دراصل انتخابات مسئلہ کشمیر کا حل ہیں ہی نہیں۔ اصل میں تو پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات ہونے چاہئیں۔ جب ہم چین سے بات کر رہے ہیں حالانکہ اس نے ہمارے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ ایک مسلمان ملک ہے؟ کیونکہ اب ہر معاملے کو مذہب کی نظر سے ہی دیکھا جا رہا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کے 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار کشمیر میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کون سی ریاست ہے کہ جس کے شہری علاقوں میں اتنی سکیورٹی فورس موجود ہے؟ اگر آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بقول ان کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں تو کشمیر میں اتنی فوج کیا کر رہی ہے؟ انہیں سرحد پر ہونا چاہیے، کشمیر میں نہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان انتخابات کے باوجود مسئلہ کشمیر جوں کا توں موجود ہے اور رہے گا، جب تک کہ اس کے لیے پاکستان اور کشمیر کے عوام کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں کہا جاتا ہے کہ آرٹیکل 370 پر بات نہ کریں۔ لیکن بی جے پی کے وزراء جب بھی کشمیر کا دورہ کرتے ہیں، 10 میں سے 9 مرتبہ وہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ جب انہیں یقین ہے کہ آرٹیکل 370 ختم ہو چکا ہے اور بحال نہیں کیا جائے گا تو جب میں بات کرتی ہوں تو اتنا ہنگامہ کیوں مچتا ہے؟ اب تو جو بھی آواز اٹھاتا ہے اسے UAPA یعنی Unlawful Activities (Prevention) Act کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہ مایوس کُن صورت حال ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "اب کشمیر میں حالت یہ ہے کہ افسانوی باتوں کو حقائق بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ سچ سامنے نہیں لیا جا رہا۔ "انہوں نے جمہوریت کا تماشا بنا دیا ہے۔ ملک میں اندھا قانون موجود ہے۔ مسلمانوں کو پاکستانی کہا جا رہا ہے، سکھ خالصتانی، انسانی حقوق کے لیے بات کرنے والے اربن نکسل جبکہ طلبہ اینٹی نیشنل ہیں۔ میں بی جے پی سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جب سارے ہی اینٹی نیشنل اور دہشت گرد ہیں تو پھر اس ملک میں ہندوستانی کون ہے؟ کیا صرف بی جے پی؟”
