سری نگر:تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں جیل میں قید ہیں محمد اشرف صحرائی کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔
ترجمان تحریک حریت جموں وکشمیر نے محمد اشرف صحرائی کی مسلسل غیر قانونی قید کی شدید مذمت کی ہے۔ محمد اشرف صحرائی کئی عوارض میں مبتلا ہیں لیکن اسکے باوجود وہ 12جولائی 2020 سے قید ہیں ۔ ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے نظر بند چیئرمین کی روز بہ روز گر رہی ہے جبکہ غیر انسانی رویے کی حد یہ ہے کہ قابض انتظامیہ علیل رہنما کے اہلخانہ کو انکے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی ۔
بیان میں کہا گیا کہ غیر انسانی پالیسی کی وجہ سے محمد اشرف صحرائی کی زندگی کی شدید خطرہ لاحق ہے اور ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اسکی تمام تر ذمہ داری قابض انتظامیہ پر عائد ہو گی۔تحریک حریت نے اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی جا رہی ہیں اور کشمیریوں کو قتل، لاپتہ، مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتاراور انہیں تشدد کانشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا کہ تحریک حریت کے کارکنوں کو بغیر کسی جواز کے جیلوں میں پہنچایا جا رہاہے جو ظلم و جبر کے سوا کچھ نہیں ۔بیان میں کہا گیا کہ جبر و استبداد کی پالیسی سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہو گاکیونکہ یہ ایک تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہے کہ مظالم سے محکوم لوگوں کا جذبہ آزادی مزید توانا و مستحکم ہوتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ایک نتیجہ خیز اور بامعنی مذاکراتی عمل شروع کیا جائے۔
