Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے جو کر دیا ہے اس کے بعد ہمیں بھارت سے مزید کوئی خطرہ لاحق نہیں

 کشمیر کا مسئلہ لٹک گیا ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو چکا اور کشمیر میں بھارت کا آئینی تبدیلی کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے اورکشمیری آج بھی آزادی کے لیے ترس رہے ہیں۔اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے بدھ کے روز غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے جانے والے انٹرویو کے دوران کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے جو کر دیا ہے اس کے بعد ہمیں بھارت سے مزید کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

وہ اپنی گندگی میں خود ہی دھنستا چلا جا رہا ہے۔لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر کشمیر پر قبضہ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ اس سے زیادہ کچھ کر نہیں سکتا تھا، مگر ہمیں اب اس طرح بھی سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے کہ ہمیں بالاکوٹ جیسے کسی واقعہ کا سامنا کرنا پڑ جائے۔

کیونکہ معیشت کی حالت خراب ہے اور حکومت کی ساکھ بھی اچھی نہیں کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کو لانے میں فوج کا کردار ہے۔انہوں نے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بدامنی کے عنصر پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگ سیاسی طور پر بدامنی کا شکار ہیں کیونکہ وہ خود کو اجنبی اور محروم تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ انہوں نے موروثی اندرونی مسائل کو قرار دیا جو کہ ہمیشہ سے ہی درپیش رہے ہیں۔

اسد درانی نے کہا کہ سیاسی امور میں فوج کی مخالفت ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں مگر اب تک کے تجربے کے مطابق جب بھی فوج نے سیاسی معاملات میں مداخلت کی سیاسی جماعتوں نے فوج کو بے دخل کر دیا ہے۔ عمران خان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تاثر ہے کہ وہ خاکی بوجھ کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کی حیثیت تبدیل کرنا کشمیر کاز کے لئے ایک دھچکا ہوگا۔

انہوں نے کہا “جب میں کشمیر سے متعلق امور کی دیکھ بھال کر رہا تھا تو میرے ایک قریبی دوست یوسف نے مجھے سمجھایا کہ جس دن ہم نے گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی غلطی کی ہے ، یہ ہماری کشمیر کاز کے لئے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ،اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ جی بی کو زیادہ سے زیادہ حقوق دے سکتے ہیں ، لیکن اسے زبردستی پاکستان کا ایک صوبہ نہیں بنانا چاہئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے