(1)
میاں سبطین انصاری
اس دور میں ہم گوناگون مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ مسائل کی بہتات نے ہمیں اصلی و فرعی مسائل کا فرق بھی بھلا دیا ہے۔عقب ماندگی، برادرکُشی، فرقہ واریت، جنگ، غربت، جہالت، قحط، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور آمریت میں سے وہ کونسا مسئلہ ہے جو ہم پر سوار نہیں۔ایسے میں مسئلہ کشمیر و فلسطین اور یمن کا پسِ پردہ چلے جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
جنگ خود بہت سارے مسائل کی ماں ہے۔ مسلمان حکمران اپنی کم فہمی اور عدم بصیرت کی وجہ سے جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ بہر حال ان مسائل کے حل کی طرف ایک قدم ان مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور آگاہی پھیلاناہے۔ ان مسائل سے آگاہی اور پھر ان کے حل کےلیے غوروفکر کرنے کی خاطر سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم سرگرم ہے۔ اس میں مختلف مکاتب فکر کے مفکرین اور دانشور حضرات کو جہانِ اسلام کے مسائل کے متعلق امکانات و خدشات کے حوالے سے گفتگو کیلئےمدعو کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک آن لائن سیشن ۳ دسمبر کو بھی ہوا۔ سیشن کا مقدمہ بیان کرتے ہوئے سیشن کے منتظم نذر حافی نے کہا کہ دنیا میں مسلمان اپنی تعداد، وسائل ، تہذیب و تمدن، تاریخی ورثے اور صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک مضبوط ملت ہیں۔ لیکن اس کے باجود ہر محاز پر پسپا ہو چکے ہیں۔ ہمیں اپنی پسپائی کے اسباب کو سمجھنے ، ان سے نجات حاصل کرنے اور بہتری کیلئے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کے چوتھے آن لائن سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامک سکالر جناب عزادار حسین صاحب نے اس موضوع پر بڑے بہترین انداز میں گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مسائل کو تو اُن کی جڑ تک جاۓ بغیر ان کو حل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کچھ مسائل اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ جب تک ان کی جڑ تلاش نہ کی جائے تو ان کو حل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی مسائل میں سے ایک مسئلہ کشمیر بھی ہے۔ ہمیں اس کے حل کے لیے پہلے اس مسئلے کی جڑ کو سمجھنا ہو گا۔ یہ بنیادی طور پر برصغیر پاک و ہند کے دو ملکوں کا مسئلہ ہے لہذا ہمیں برِصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ بالخصوص ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس کو پڑھنے سے ہمیں پتہ چلے گا کہ مسئلہ کشمیر کی جڑ کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ Archive.comپر اس کے حوالے سے کافی کتابیں موجود ہیں جن میں سے تقسیم سے پہلے کی کتب کا مطالعہ کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیسے کام کیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کا طریقہ واردات تقسیم کرو اور حکومت کر و تھا۔ جبکہ یہ مکمل طریقہ واردات نہیں تھا۔ کیونکہ تقسیم تو ہر جگہ ہوتی ہے۔ جائیدادیں تقسیم ہوتی ہیں ،علاقے تقسیم ہوتے ہیں لیکن اتنا مسئلہ نہیں بنتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نےجو سب سے بڑی واردات کی وہ یہ تھی کہ تقسیم کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بھی بنا دیا ۔ یعنی تقسیم کرو دشمن بناؤ اور حکومت کرو۔اس طرح ہمارے وسائل بھی لوٹے گئے اور جب وہ یہاں سے گئے تو ایک ایسا نظام دے گئے کہ ہمارے درمیان دشمنیاں مزید بڑھ گئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ موصوف نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ جب ہمارا نعرہ یہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ تو کیوں ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے اسلام کی طرف رجوع نہیں کرتے؟ اسلام نے ہر مسئلے کا حل بتا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو بھی اسلام کے اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔
ہم رسول اللہ ﷺکے پیروکار ہیں، انکی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں زبان، قوم، رنگ اور ملک کے تعصبات سے اپنے آپ کو کو دور کرنا ہو گا۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پاکستان اور انڈیا کے لوگ بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں تو ہمیں انکا درد بھی ہوناچاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے دو کروڑ مسلمانوں کا بھی درد ہونا چاہیے۔ اس کا حل ہماری اپنی حکومتوں اور عوام کے پاس ہے۔ جبکہ ہم حل کے لیے ان کے پاس جا رہے ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو ایجاد کیا ہے۔ کشمیر کی حکایت اس قصاب اور حکیم کی داستان کی طرح ہے۔ جس میں قصاب کا ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے تو وہ حکیم کے ہاس آتا ہے، حکیم دیکھتا ہے کہ اس کے زخم میں ہڈی کا ٹکڑا ہے۔ وہ اسے نہیں نکالتا بس ایسے ہی مرہم پٹی کر دیتا ہے ساتھ میں تاکید بھی کر دیتا ہے کہ بار بار مرہم لگوانے کےلیے آتے رہنا۔ قصاب کا زخم ٹھیک نہیں ہوتا وہ بار بار حکیم کے پاس جاتا ہے اور جب بھی جاتا ہے ساتھ میں حکیم صاحب کےلیے گوشت بھی لے جاتا ہے۔
ایک دن حکیم صاحب کی جگہ ان کا بیٹا مطب میں بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ قصاب کے زخم کا معاینہ کرتا ہے اور ہڈی نکال دیتا ہے۔ اس سے مسئلے کی جڑ نکل جاتی ہے اور قصاب کا ہاتھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ جب حکیم صاحب واپس آتے ہیں تو تو سالن میں گوشت نہیں ہوتا تو ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ اصل مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ لہذا آج کے بعد نہ قصاب آۓ گا اور نہ ہی گوشت۔
اسی طرح سامراجی قوتوں نے بھی پاک و ہند کے درمیان اپنے مفادات کے لئے اس مسئلے کو کھڑا کیا ہے۔ اور ہم اس کے حل کےلیے بھی انہی قوتوں کے پاس جارہے ہیں۔ دشمن اس کو حل نہیں کرے گا بلکہ خود مل بیٹھ کر حل کرنا ہو گا۔ اور اپنی پالیسیوں کو تبدیل کر کے آزاد پالیسی بنانا ہو گی۔ تاکہ کسی کے دباؤ میں آکر اس کو طولانی نہ کریں۔
سیشن کے دوسرے مقرر جمہوری اتحاد پارٹی کے سربراہ جناب ڈاکٹر حفیظ الرحمان صاحب تھے۔ انہوں نے کہا کہ سارک ممالک کو لڑائی ختم کرکے گفتگو اور مکالمے کی طرف آنا ہوگا، اور کشیدگی کو ختم کر کے تعلقات کو بہتر کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کی تقسیم سے مسائل پیدا ہوتے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں جناب نذر حافی صاحب کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جب آپ جب عددی اور قدرتی وسائل و دیگر لحاظ سے طاقتور ہیں تو پھر کیوں آپ مسائل میں گھرے ہوۓ ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے جمہوریت کی طرف توجہ دلائی کہ مسائل اس وجہ سے بھی حل نہیں ہورہے کہ اکثر مسلمان ملکوں میں جمہوریت نہیں ہے۔ وہ ڈکٹیٹر جو اسلامی دنیا کے حکمران ہیں وہ سامراج کے غلام ہیں اور ان مسائل کا حل نہیں چاہتے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مسائل حل ہوں تو جمہوریت کو اس کی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذ کریں۔ آپس کی دشمنی کو ختم کریں۔ اپنی پالیسی کو تبدیل کریں۔ اسلحے کی دوڑ کو ختم کریں۔ جاپان اور چین نے بھی تو اسلحلے کے بغیر ترقی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اگر آپ کے گھر کے آگے برف پڑی ہوئی ہو تو آپ ہمسائے کو نہیں کہیں گے کہ آپ اس کو ہٹائیں بلکہ آپ خود ہٹائیں گے۔ مسلم امہ کو اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو ٹھیک طرح سے نافذ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ بلاول بھٹو صاحب سندھ سے اٹھ کر گلگت بلتستان میں جلسہ کرتے ہیں۔ جب کہ جہاں آمریت ہوگی وہاں ایسا نہیں ہو گا۔ بہت سے اسلامی ممالک کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے کہ وہاں جمہوریت نافذ نہیں ہے جبکہ مغربی ممالک اور اسرائیل میں جمہوریت ہے جسکی وجہ سے وہ ترقی کر رہے ہیں۔
ان شااللہ جلد ہی اگلے سیشن کی رپورٹ کے ساتھ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہونگے۔
