ابو آیت
کشمیر کے حسن کے چرچے دنیا میں ہیں۔کشمیر جتنا حسین ہے اتنا ہی غمگین بھی۔ مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیلئے ایک بین الاقوامی آن لائن پروگرام میں شرکت کا موقع ملا ۔ آن لائن سیشن کا اہتمام سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم نے کیا تھا۔ نذر حافی صاحب اسے ہفتہ وار منعقد کرواتے ہیں۔ سیشن کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر مرتبہ مسئلہ عالمی و سیاسی تناظر میں گہری نظر رکھنے والے دو معزز سپیکرز کو 20 ، 20 منٹ میں اپنی نظر دینی ہوتی ہے ۔
یہ سیشن اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں مختلف ممالک میں مقیم اردو زبان دانشمند تبادلہ خیال اور شرکت کرتے ہیں۔ اس سیشن کے آغاز میں محترم نذر حافی نے اپنا مائیک آن کر کے انتہائی مختصر وقت میں بتایا کہ دنیا میں السلام کو آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا دین کہا جاتا ہے۔ یورپ میں جہاں مسلمان مہاجر ہیں وہاں مقامی مسلمانوں کی بھی کثیر تعداد آباد ہے ۔ فقط افریقہ میں اڑھائی ملین مسلمان ہیں، ٢١ عرب ممالک ہیں، اس کے علاوہ روس، چین اور بھارت میں بھی مسلمانوں کی کثیر تعداد ہے۔ دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کے ہونے کے باوجود مسئلہ فلسطین مسلمان ریاستوں کے وسط اور قلب میں ناسور بنا ہوا ہے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر بھی پاکستان جیسی عظیم مملکت خدا داد کا لاحق ہے۔ دنیا میں عدد کے لحاظ سے مسلمان کم نہیں ہیں۔ بہر حال ان مسائل کی ایک وجہ اجتماعی شعور اور اجتماعی تربیت کی کمی ہے ۔مسلمانوں کے ہاں اجتماعی تربیت کا فقدان ہے۔
اس موقع پر مہمان سپیکر جناب عزادار حسین ، جن کا تعلق المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی ایران سے ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر کو تاریخ کے آئینے میں ، اور انڈیا وپاکستان نیز ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہداف کو دیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔ انگریز کی ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی کو سمجھے بغیر یہ مسئلہ سمجھ میں آنے والا نہیں۔ ہمیں اپنے گزشتہ 250 سالوں پر نظر دوڑانی ہوگی۔اپنے اصلی دشمن کو پہچاننا ہوگا۔ ماضی میں برصغیر کے اس منطقے میں مسلمان ہندووں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ انگریز نے آکر دشمنی کا بیج بویا ۔ خود ایک طرف ہو گیا ۔خطے میں رہنے والے ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ دو قومی نظریہ جس کی بنیاد اسلام کے اصلی ترین رکن لا الہ الا اللہ پے ہے اسے مد نظر رکھنا ہو گا پھر معلوم ہو گا کہ بر صغیر کا اصلی دشمن کون ہے۔
پروگرام کے دوسرے معزز مہمان سپیکر جناب ڈاکٹر حفیظ الرحمن صاحب تھے۔ وہ پاکستان جمہوری اتحاد پارٹی کے سربراہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سارک ممالک اپنی کی سرحدیں ختم کریں ۔ جب سرحدیں ہی ختم ہو جائیں گی تو کشمیر کی بھی کوئی سرحد نہیں رہے گی۔ کشمیر میں فساد کی جڑ ہی ختم ہو جائے گی۔ جمہوریت ہوگی ۔ پس اس مسئلے کا حل جمہوریت سے ہوگا۔ مسلم امہ کے درمیان جمہوریت نہیں ہے۔ دنیا پر کون حکومت کر رہا ہے جنکے پاس جمہوریت ہے ۔ جو عرب ممالک اسرائیل کے اتحادی بنے ہیں ان کے پاس خود جمہوریت نہیں ہے۔ مسئلہ فلسطین، اسرائیل کے ساتھ مربوط ہے اور اسرائیل کے پاس جمہوریت ہے۔
مسلم امہ اپنے گھر کو ٹھیک کرے ۔ جمہوریت لائے۔ دوسرے کے گھر کی شکایت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہم 200 سال کا جمہوری وقت لیں۔ یورپ و غرب کو یہ شعور دیں کہ وہ ہمارے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ خود علم حاصل کریں ، علم دوسروں کو دیں.پاکستان کے حکمران انفرادی سوچ کے حامل ہیں۔ جمہوری سوچ کے حامل نہیں ہیں۔
بہر حال ان آرا کی روشنی میں میری رائے یہ ہے کہ جب تک ہر طرح کے دباو سے آزاد ،خالص اور دورس سوچ نہیں بنے گی ، اس وقت تک مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید بگاڑ و فساد کی طرف جائے گا۔ لہذا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی ایسی آزاد اور خالص فکر کو جنم دیا جائے اور اسے پروان چڑھایا جائے جو سارے برصغیر کے انسانوں کے دل کی آواز ہو۔ اس فکر کے مطابق عوام کی اجتماعی تربیت کی جائے۔ جب عوامی فکر تیار ہو جائے گی تو رائے عامہ بھی اس کے مطابق بنے گی۔ ایک خالص عوامی فکر ہی جبرو استبداد اور جارحیت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
