Input your search keywords and press Enter.

9اگست کے بعد نئی داستان شروع ،محبوبہ مفتی کی خانہ نظربندی قابل مذمت

نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر کہا ہے کہ 9اگست 2019 کے یکطرفہ، غیر جمہوری اور غیر آئینی فیصلوں سے جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی نئی داستان شروع کی گئی۔ اس سیاہ دن کے بعد جس طرح سے لوگوںکو کئی ماہ تک اپنے گھروں میں محصور کیاگیا ، تمام قسم کا مواصلاتی نظام بند کرکے رکھا گیا اورہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائیں گئیں ، انسانی حقوق کی ایسی بدترین پامالیوں کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کاسلسلہ آج بھی برابر جاری ہے۔ سینکڑوں سال سے جنگلوں میں قیام پذیرگوجر اور بکروال طبقے کے لوگوں کے آشیانے زمین بوس کرکے انہیں بے گھر کیا جارہا ہے، ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے، اظہارِ رائے کی آزادی مکمل طور پر سلب کر کے رکھ دی گئی ہے، 4جی انٹرنیٹ ہنوز بند ہے، جس کا اثر نہ صرف اس سے منسلک افراد کے روزگار پر پڑ رہا ہے بلکہ کورونا وائرس کے دوران بچوں کو اپنے گھروں سے تعلیم جاری رکھنے میں بھی دقتیں پیش آرہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہاکہ جموں و کشمیر میں جمہوری حقوق بھی تار تار کئے جارہے ہیں۔ انتظامیہ منظورِ نظر اُمیدواروں کو سیکورٹی  فراہم کررہی ہے جبکہ گپکار الائنس کے اُمیدواروں کو سیکورٹی کے نام پر قید و بند کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگائی جارہی ہے اور انہیں آئے روز گھر میں نظربند رکھا جارہا ہے اور اس کیلئے بھی سیکورٹی کا بہانہ بنایا جارہا ہے جبکہ موصوفہ کو اعلیٰ پائے کی سیکورٹی حاصل ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہماری مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے، ہمیں نمازِ جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے،ہمارے گھروں کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے باہر نکلنے نہیں دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی سینکڑوں افراد جیلوں میں نظربند ہیں اور ان سے زندگی جینے کا حق چھینا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے