Input your search keywords and press Enter.

کشمیر اور دیگر ریاستی مظالم کے ضمن میں بھارت کو انسانی حقوق کا احترام کرنا پڑے گا، ندیم قریشی

ملتان میں این جی او کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے کشمیری جدوجہد آزادی کو نیا ولولہ و جوش دیا ہے، وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں بھی انسانی حقوق میسر ہوں گے اور آزادی کا پرچم سربلند ہوگا۔

اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، بھارت کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اقوام متحدہ اور اقوام عالم پر کسی طمانچے سے کم نہیں، دنیا کو کشمیر کے حوالے سے اپنا دوہرا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ تاکہ انسانیت کی عملی توقیر ممکن ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار ممبر صوبائی اسمبلی، ترجمان پنجاب حکومت، پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ونشریات اور رکن کشمیر کمیٹی پنجاب محمد ندیم قریشی نے ملتان میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور ادارہ استحکام شرکتی ترقی ملتان کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب میں ممبر صوبائی اسمبلی سبین گل خان نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے۔ رواداری اور انسانی حقوق میسر ہیں، کشمیر اور دیگر ریاستی مظالم کے ضمن میں بھارت کو انسانی حقوق کا احترام کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے کشمیری جدوجہد آزادی کو نیا ولولہ و جوش دیا ہے، وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں بھی انسانی حقوق میسر ہوں گے اور آزادی کو پرچم سربلند ہوگا۔

تقریب سے اپنے خطاب میں ایس پی او پنجاب کے ریجنل ہیڈ شاہنواز خان نے کہا کہ عالمی اداروں کو بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ پاکستان حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ اقلیتی محفوظ ہیں اور ملک میں رواداری قائم ہے، اقلیتی کو تعلیمی اداروں میں کوٹہ دیا گیا ہے، انسانی حقوق کا محکمہ کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایکشن لے رہا ہے، اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سماجی رہنماں شاہد محمود انصاری چئیر پرسن شلٹر ہومز ملتان، ڈاکٹر فاروق لنگاہ، خالد محمود قریشی، احمد چشتی، زہرہ سجاد زیدی، جواد امین قریشی، فرخ خان، ریحان خالد، زاہدہ حمید قریشی اور گلشن وڑائچ نے کہا کہ انسانی حقوق کے ضمن میں ہمارے خطہ میں خواتین کی حالت زار قابل تحسین نہیں۔ زمانہ جاہلیت سے حوا کی بیٹی پر ظلم و تشدد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اسلام نے خواتین کو ان کے حقوق دئیے لیکن ہم نے رسم و رواج کی آڑ میں ذاتی مفاد کو تحفظ دیا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے اس خلاف ورزی پر سماجی کارکنوں کی جدوجہد لائق تحسین ہے کہ جن کی بدولت اب صورتحال میں مثبت و نمایاں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے کے تمام محروم طبقات کو ان کے حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں عملی جدوجہد کا حصہ بنیں اور معاشرتی سطح پر انسان کی عزت و احترام کا سبب ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے