سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انتظامیہ پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے باز رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں موجودہ انتظامیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب جموں و کشمیر کی حکومتیں انتخابات میں اچھی شرح ووٹنگ پر فخر کرتی تھیں، لیکن آج یہی حکومتیں لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روک رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کے’نیا کشمیر‘ تعمیر کرنے کے طور طریقے کچھ عجیب وغریب ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے ان باتوں کا اظہار اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا: ’ایک وقت ایسا تھا جب جموں و کشمیر میں حکومتیں انتخابات میں اچھی شرح ووٹنگ پر فخر محسوس کرتی تھیں، لیکن آج یہی حکومتیں یہاں انتخابات میں بائیکاٹ کرا رہی ہیں اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روک رہی ہیں۔ ’نیا کشمیر‘ تعمیر کرنے کے طور طریقے ہی انوکھے ہیں‘۔
ایک وقت تھا جب جموں و کشمیر میں انتظامیہ نے انتخابات میں فخر اور اطمینان کا مظاہرہ کیا تھا جس میں قابل احترام ٹرن آؤٹ تھا اب وہ رائے دہندگی کا بائیکاٹ نافذ کرنے اور لوگوں کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ عجیب و غریب انداز میں نیا کشمیر کے اس ورژن کے طریقے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات میں دھاندلیاں کرنے کے لئے مسلح فوج کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا اپنے ایک ٹویٹ میں کہنا تھا: ’ سیکورٹی فورسز نے ضلع شوپیاں کے متری بگ علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے اور جنگجوؤں کی موجودگی کے بہانے پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے باہر آنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلیاں کرنے کے لئے مسلح افواج کو استعمال کیا جارہا ہے اور ایک مخصوص جماعت کو سپورٹ کیا جا رہا ہے‘۔
