اسلام ٹائمز: حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے ادارے، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایف اے ٹی ایف وغیرہ فقط کمزور اور بے بس مسلمان ممالک کو زیر دام رکھنے کیلئے موجود ہیں۔ اگر انکا کوئی اثر و رسوخ اسرائیل یا بھارت پر ہوتا تو اور کچھ نہیں تو کھلے عام مظالم اور انسانی حقوق کی بر سرعام پائمالی کا کوئی نوٹس لیا جاتا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا، جبکہ کشمیری و فلسطینیوں کو ستر ستر سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے کہ انکی صورتحال تبدیل نہیں ہو رہی، انکے رات اور دن آگ و خون اور تاریکی میں غرق ہیں، نام نہاد مہذب دنیا بس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
کشمیر اور فلسطین امت مسلمہ کے دو پرانے اور سلگتے ہوئے مسائل کہے جا سکتے ہیں۔ لگ بھگ دونوں مسائل کی عمر ایک جیسی ہی ہے اور عملی صورتحال بھی ایک سی ہے۔ کشمیر میں ہندو بنیا ظلم ڈھاتا ہے، ہندوستانی فوج اور ایجنسیاں یہاں کی مقامی اور اصل آبادی کو بے دخل کرتی ہیں۔ ان کے آبائی گھر، مکانات، کھڑی فصلیں اور کھیت کھلیان، کاروبار، ذرائع آمدن کو برباد کرتے ہیں، جوانوں اور بوڑھوں کو اذیت ناک موت سے ہمکنار کرتے ہیں، خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ بارود کے ڈھیر سے بستیاں جلا دی جاتی ہیں، تلاشی کے نام پر آبادیاں اور گائوں کے گائوں کرب ناک صورتحال سے دوچار کئے جاتے ہیں۔ کرفیو لگا کر جینا دو بھر کیا جاتا ہے اور اب تو ہندوستانی پارلیمان سے نام نہاد قانون منظور کروا کر اقوام متحدہ اور انسانی و اخلاقی قوانین کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں، جس کے بعد سے مسلسل کرفیو لگایا گیا ہے اور جنت نظیر وادی میں اہل کشمیر کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔
اسی طرح فلسطین کا بھی یہی حال ہے، جہاں صیہونسٹ ایک عرصہ سے مقامی آبادی سے ان کے گھر بار، زمین اور کاروبار چھین رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، ان کی کھڑی فصلیں نذر آتش کرکے انہیں کھلے آسمان تلے پھینک دیا جاتا ہے۔ کم سن بچوں کیساتھ نام نہاد غاصب اسرائیلی سکیورٹی اہلکار جو ظلم کرتے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بے شمار ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور بارہا ایسے مظالم لائیو نشر ہوئے ہیں۔ ناجائز ریاست کی جیلیں فلسطینیوں کے جوانوں اور بچوں سے بھری پڑی ہیں، کشمیر کی طرح یہاں کی مسلمان عرب بہنیں اور مائیں بھی اسرائیلیوں کی درندگی کا نشانہ بنتی ہیں اور ان کی عزتیں تار تار کی جاتی ہیں۔ اسرائیلی بدمعاشی کی انتہا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر سے یہود کو سنہرے خواب دکھا کر فلسطین میں لا کر آباد کیا ہے اور یہاں کے اصلی باشندوں کو در بدر کر دیا ہے۔
جس کا سلسلہ آئے روز نئی بستیاں بنا کر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ نئی بستیاں خالی زمینوں پہ نہیں بلکہ فلسطینی مسلمانوں کے جسموں کو ٹکڑے کرکے ہی بنتی ہیں اور اس میں سیمنٹ یا گارا نہیں مسلمانوں کا لہو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اسرائیل کی وجہ سے ہی پورا مشرق وسطیٰ آگ و خون اور بارود کے ڈھیر پہ کھڑا ہے۔ اس لئے کہ اسرائیل نے اپنے مظالم کیساتھ ساتھ اپنی فوجی طاقت و قوت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اور اس کے پاس سینکڑوں ایٹم بم موجود ہیں۔ اس کی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کا یہ عالم ہے کہ یہ اپنے کسی بھی ہمسائے ملک پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اس نے ماضی میں لبنان، شام، عراق، مصر سب ہی کیساتھ جنگیں کی ہیں اور اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ اس کی سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں۔ اسی لئے اسرائیل ہی واحد ریاست ہے، جس کی کوئی متعین سرحد نہیں، وہ ہر دن اپنی سرحد میں اضافہ کرتا ہے، اپنے قبضے کو پھیلاتا ہے۔
افسوس ہے کہ اقوام متحدہ نامی ایک عالمی فورم جو مسلمانوں کیلئے ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی حیثیت اسرائیل اور امریکہ کے سامنے ایک کمی کمین سی ہے، ہماری مسلمان حکومتیں اپنے ان دیرینہ مسائل کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی طرف دیکھتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں آج تک اسرائیل کے خلاف جتنی بھی قراردادیں منظور کی گئی ہیں، ان کو امریکہ نے ویٹو کر دیا ہے۔ اس کے باوجود بھی کئی ایک بار امریکہ نے اس معاملہ میں شکست بھی کھائی ہے جبکہ یہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسرائیل نے اپنے خلاف منظور ہونے والی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا ہے اور اس کا کسی نے بال بھی بیکا نہیں کیا۔ دوسرا پلیٹ فارم دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر این جی اوز ہیں، جن کی رپورٹس آئے روز کمزور بالخصوص مسلمان ممالک کے خلاف سامنے آتی رہتی ہیں اور ان ممالک پر ایسی ہی جھوٹی رپورٹس کو بنیاد بنا کر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔
ان کے اثاثے منجمد کر لئے جاتے ہیں، ان کے اکائونٹ منجمد ہو جاتے ہیں، ان کی سرگرمیاں محدود کر دی جاتی ہیں اور پاکستان کی طرح انہیں ایف اے ٹی ایف کا پابند کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے ادارے، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایف اے ٹی ایف وغیرہ فقط کمزور اور بے بس مسلمان ممالک کو زیر دام رکھنے کیلئے موجود ہیں۔ اگر ان کا کوئی اثر و رسوخ اسرائیل یا بھارت پر ہوتا تو اور کچھ نہیں تو کھلے عام مظالم اور انسانی حقوق کی بر سرعام پائمالی کا کوئی نوٹس لیا جاتا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا، جبکہ کشمیری و فلسطینیوں کو ستر ستر سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے کہ ان کی صورتحال تبدیل نہیں ہو رہی، ان کے رات اور دن آگ و خون اور تاریکی میں غرق ہیں، نام نہاد مہذب دنیا بس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
بستیوں کے اجڑنے اور خون کے دریا بہنے پر ان انسانی حقوق کے نام نہاد عویداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، وگرنہ یہ مسائل اب تک حل ہوچکے ہوتے اور بے گناہ و معصوم انسانی جانوں کا ضیاع رک چکا ہوتا۔ ہم جب بھی امت مسلمہ کے ان دیرینہ سلگتے مسائل کی بات کرتے ہیں تو جہاں عالمی استعماری اور تسلط پسند طاقتوں کی منافقت اور انسانی حقوق کے اداروں کی دوغلی پالیسی کا ذکر کرنا پڑتا ہے، وہیں ہمیں امت مسلمہ کے نام پر دھبہ نام نہاد مسلمان ممالک کی بے حمیتی کا رونا اور ان کا نوحہ بھی پڑھنا پڑتا ہے۔ اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے، جس کا وجود قطعی ناجائز ہے، مگر اس نے عربوں پر اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے۔ اس نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تسلسل سے عرب علاقوں پر قبضہ اور فلسطینیوں کو بے دخل کرکے دنیا بھر سے لائے ہوئے یہودیوں کو ان کی زمینوں پر آباد کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
مگر اسی اسرائیل کو 2006ء میں لبنان کی ایک مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دھول چٹائی تھی اور لبنان ہی واحد ملک ہے، جس کے قبضہ شدہ کئی بارڈر علاقے اسرائیل کو مزاحمت کے باعث خالی کرنے پڑے تھے۔ جس کا واضح نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اسرائیل کا علاج مذاکرات اور منتیں ترلے نہیں بلکہ مزاحمت ہے، اگر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جاتا تو اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے کمزور ثابت ہوتا، مگر اسلامی و عرب حمیت سے عاری ان بادشاہوں نے اپنی بادشاہت بچانے کیلئے قبلہ اول کو فروخت کر دیا ہے اور اب لائن لگا کر اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ عرب ممالک کیساتھ ساتھ ترکی نے بھی دو سال کے بعد اپنے دیرینہ تعلقات یک طرفہ طور پہ بحال کر لئے ہیں اور اسرائیل میں اپنا سفیر بھیج دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جو ان عرب ممالک کیساتھ دوستی اور قریبی تعلقات رکھتا ہے، اس کو اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹانے کیلئے پریشر بڑھایا جا رہا ہے۔
سعودیہ نے اپنی دی ہوئی امداد واپس مانگ لی ہے اور امارات وغیرہ میں پاکستانیوں کی گرفتاریوں اور انہیں حیلے بہانوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پاکستان پر فی الحال ویزوں کی پابندی الگ سے لگائی گئی ہے۔ عرب ممالک میں اس وقت عراق و شام ایسے ممالک ہیں، جنہوں نے اسرائیل کے سامنے مزاحمت کی ہوئی ہے۔ شام و عراق نے تو سی آئی اے، موساد اور عرب ممالک کی سازش جو داعش کی شکل میں ان پر مسلط کرنے کی کوشش تھی، اسے بری طرح ناکام کیا ہے۔ داعش کا وجود دراصل صیہونی سازش ہی تھی، جس کا مقصد اسرائیل کا مکمل دفاع اور اس کے راستے کی دیوار شام جو مزاحمتی قوتوں کا مرکز اور بیس کیمپ بنا ہوا تھا، کو سبق سکھانا تھا۔ جس کے اثرات عراق پر بھی پڑے اور عراق سے ہوتے ہوئے یہ اثرات ایران میں بھی آنے تھے، مگر ایران نے عراق و شام میں اس کی مزاحمت کی اور ان کے ارادوں کو اللہ کی نصرت و مدد سے ناکام کر دیا۔
اس حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ ایران نے دنیا بھر سے مجاہدین اور لڑاکے اکٹھے کرکے شام بھیجے اور انہیں اپنی جنگ کا ایندھن بنایا تو اس پر عرض ہے کہ ایران نے لڑاکے اکٹھے نہیں کئے بلکہ ایران نے شام و عراق کی مدد کی، تاکہ دنیا بھر سے لائے گئے نام نہاد مجاہدین جو داعش، النصرہ اور القاعدہ کی شکل میں جمع کئے گئے تھے، ان کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایران نے ناصرف اپنے ملک کو بچایا بلکہ اپنے ہمسائے اور ماضی کے دشمن ملک عراق اور اس کے مقدس مقامات کو بھی بچایا، وگرنہ داعش کی شکل میں سفاکیت اور درندگی کے مناظر تو دنیا دیکھ ہی چکی تھی، ان لوگوں نے ناصرف جہاد کا اسلامی تصور مسخ کیا بلکہ اسلامی نظام کے خواب اور تصور کو بھی چکنا چور کیا۔ اب پاکستان کے ہمسائے افغانستان میں منصوبہ بندی سے افغان طالبان کے مقابل انہی داعشی درندوں کو لایا گیا ہے، تاکہ افغانستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔
