اسلام ٹائمز: اس سیشن سے بخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اہلیانِ پاکستان کا کشمیر اور فلسطین کے ساتھ نظریاتی اور جذباتی لگاو ہے۔ حکومتی سطح پر پالیسیاں بنتی اور بدلتی رہتی ہیں، لیکن عوامی سطح پر کشمیر اور فلسطین کے ساتھ پاکستانیوں کا عشق ناقابلِ زوال ہے۔ پاکستانی ایک نظریاتی قوم ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں نظریات پر سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں۔ ساری دنیا بھی اگر کشمیر اور فلسطین کو چھوڑ دے، پھر بھی پاکستانی عوام کشمیریوں اور فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
تحریر: ابو آیت
17 دسمبر 2020ء کو پانچواں آن لائن سیشن منعقد ہوا، عنوان جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات تھا۔ سیشن کا اہتمام سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم نے کیا تھا۔ سیشن کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمے سے کیا گیا۔ ایجنڈے کے مطابق مسئلہ کشمیر کے خدشات اور امکانات پر گفتگو ہوئی۔ ابتدائیے میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کے ترجمان محترم نذر حافی صاحب نے گذشتہ سے پیوستہ گفتگو کو اپنےمخصوص انداز میں خلاصہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بقولِ اقبال آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ
منفعت ایک ہے اِس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں!
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
فقط کہنے کو ہم اتحاد و اتفاق کے داعی ہیں، لیکن ہم سب اپنے اپنے فرقوں اور پارٹیوں تک محدود ہیں۔ ہر مسئلے پر تقسیم در تقسیم ہیں۔ اسی تقسیم کے باعث غلامی در غلامی کے جال میں بھی جکڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابتدائیے کے ساتھ سیشن کے پہلے معزز مقرر ماہر تعلیم جناب جواد کاظمی صاحب کو دعوتِ گفتگو دی۔ یاد رہے کہ جناب جواد کاظمی صاحب کا اپنا تعلق خود آزاد کشمیر سے ہے۔ انہوں نے مقدمے میں کشمیر و فلسطین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حوالے سے آگاہی اور شعور اجاگر کرنا بہت دانشمندانہ اور احسن عمل ہے۔ اُنہوں نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا کہ ستر سال بیت گئے ہیں، لیکن عالمی برادری ان مسائل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ خاموشی امت مسلمہ کے لئے المیہ اور سانحہ ہے۔
اُمت مسلمہ بھی اتنی بڑی امت ہو کر کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور اُمت مسلمہ کی طرف سے بطور کشمیری، بظاہر مجھے مایوسی نظر آتی ہے۔ آج بحیثیت کشمیری مجھے میری شناخت خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو ہمیں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح (رہ) کا یہ فرمان سنایا جاتا ہے کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” اور دوسری طرف کشمیر کو تقسیم در تقسیم کرکے اُس کی شناخت ہی ختم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی کتب میں درج ہے کہ کشمیر کی سرزمین چار ہزار سال سے پے در پے فتح کی جاتی رہی ہے۔ اب حالت یہاں تک آگئی ہے کہ کشمیر اپنا وجود اور اپنی شناخت کھو دینے کے قریب ہے۔ یہاں جناب جواد کاظمی صاحب فرط جذبات میں ڈوب گئے اور انہوں نے اپنی بات روک دی۔
میزبان جناب نذر حافی صاحب نے مائیک تھاما اور اس سوال کے ساتھ، مائیک ایک بار پھر جناب جواد کاظمی صاحب کے حوالے کر دیا، انہوں پوچھا کہ اب اس صورتحال کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔؟ جواد کاظمی صاحب نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے آزاد کشمیر چالیس ہزار مربع میٹر، گلگت بلتستان اٹھائیس ہزار مربع میٹر اور مقبضوضہ کشمیر تینتالیس یا چوالیس ہزار مربع میٹر ہے۔ اس طرح جموں اینڈ کشمیر کل 84 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ دنیا کی ایک سو پانچ ریاستوں میں سے ایک بڑی ریاست کشمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ابتدا میں ہی حل کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک پلانٹڈ مسئلہ ہے۔ بڑی طاقتیں چاہتی تھیں کہ دو ریاستوں کی تقسیم کے وقت ان کے درمیان یہ مسئلہ رکھ دیا جائے۔ پاکستان اور ہندوستان دو الگ اور بڑی ریاستیں ہیں۔ تقسیم کے وقت ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی سے کام لیا گیا۔
شروع میں میں استصواب رائے کی بات کی جاتی تھی، اب بہتر (72) سال بعد یہ بات بھی بھلا دی گئی ہے۔ کشمیری کیا چاہتے ہیں؟؟ یہ آج تک کسی نے نہیں جانا۔ عالمی طاقتوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل حل کرنے کے لئے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں قائداعظم کے بعد کوئی قیادت نہیں ابھری۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری یہی صورتحال ہے کہ بقول ِشاعر
احباب کیا کار ہائے نمایاں کر گئے
بی اے کیا، نوکر ہوئے، پینشن لی اور مر گئے
انہوں نے کہا کہ جب امام خمینی (رہ) سے پوچھا گیا کہ آپ انقلاب کی بات کرتے ہیں تو آپ کی فوج کہاں ہے؟ آپ نے جواب دیا "میری فوج ماوؤں کی گود میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قیادت کے بعد ہمیں بھی اپنی نسل کی ھمہ جہتی تربیت پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خلوص سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد پروگرام کے دوسرے معزز مہمان نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ دوسرے مہمان جناب رائے یوسف رضا دھنیالہ صاحب تھے۔ رائے یوسف رضا دھنیالہ صاحب ایک سیاسی و سماجی شخصیت ہیں، خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کے پاس بہت زیادہ عملی تجربہ ہے۔ وہ ٹریک ٹو یا شٹل ڈپلومیسی کے سلسلے میں اس سے قبل تین بار ہندوستان جاچکے ہیں۔ انہوں نے ایک عینی شاہد ہونے کے ناطے چناب فارمولے کے پسِ منظر پر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ واجپائی صاحب نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر دس سے بارہ مہینوں میں حل کر دونگا۔ انہوں نے کہا کہ چناب فارمولے کے مطابق دریائے چناب کے ایک طرف غیر مسلم اکثریتی علاقوں کو تقسیم ہند فارمولے کی طرح، ہندوستان کے پاس رہنے دیا جائے، جبکہ چناب کے اوپر مسلم اکثریتی جموں، وادی کشمیر، لداخ اور کارگل وغیرہ کے اضلاع کو پاکستان میں شامل کر دیا جائے۔
انہوں نے اس موقع پر ایک سفارتی وفد کا ذکر بھی کیا۔ اس وفد میں مشرقی پاکستان کے چیف منسٹر سردار ترلوتن سنگھ اور معروف زمانہ صحافی و سفارکار جناب کلدیپ نیر صاحب شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ سردار ترلوتن سنگھ نے انہیں بتایا تھا کہ جب کھلے ڈلے ماحول میں دو پنجابی ملتے ہیں تو بات کھلی ہوتی ہے۔ سردار ترلوتن سنگھ کے بقول شہباز شریف نے ملتے ہی کہا کہ سردار جی، جموں "تہاڈا تے کشمیر ساڈا” ان کے مطابق واجپائی صاحب میزائل پر نہیں مارکیٹ پر توجہ دے رہے تھے۔ ان کی نظر میں پاکستانی مارکیٹ بھی انڈیا کے پاس ہونی چاہیئے تھی۔ اس طرح سنٹرل ایشیاء، افغانستان، ایران، عراق کی منڈیاں بھی انڈیا کو مل جاتیں۔ پس یورپ کی منڈی تک رسائی آسان ہو جاتی۔ تب ممکن تھا یورپی یونین کی طرز پر سارک پارلیمنٹ وجود میں آتی۔
انہوں نے بتایا کہ اس فارمولے پر دونوں طرف کی جمہوری حکومتیں راضی تھیں۔ مگر ہماری اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے تقسیم کشمیر کے اس چناب فارمولے کو ناکام کرنے لئے کارگل کا ایشو کھڑا کر دیا۔ کارگل ایشو دراصل چناب فارمولے کو قبول نہ کرنے کی ایک چال تھی۔ کارگل کے ہیرو مارشل لا لگا کر فرنٹ پر آگئے۔ دو ہمسایہ ممالک کے مابین جنگ تو ممکن نہیں تھی۔ مذاکرات تو ہونے ہی تھے۔ پھر وہی پرویز مشرف صاحب مسئلہ کشمیر کے حل کو ایسی طرف لے کر چلے گئے کہہ جس سے یہ مسئلہ ایک گورکھ دھندہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھوں کی لگائی گئی گرہیں، دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے تینوں اصلی فریق آپس میں داخلی طور پر متحد نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایک فریق اسٹیبلشمنٹ اور دوسری سیاسی قیادت ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ بی جے پی اور دوسری کانگرس۔ چناب فارمولے پر یہ تینوں فریق ایک حل پر متفق ہو گئے تھے۔
یاد رہے شملہ معاہدے میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اب یہ آپ کا باہمی معاملہ ہے۔ آپ خود ہی یہ حل کریں۔ جب خود ہی حل کرنا تھا تو ان کے درمیان ایک ایگریمنٹ طے پا گیا تھا۔ جناب خورشید قصوری صاحب نے اس پر باقاعدہ ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس معاہدے کے ڈرافٹ کا آخری کامہ تک چیک کر لیا تھا۔ فقط اس پر دستخط ہونا باقی تھے۔ یوسف رضا دھنیالہ صاحب کے بقول جس طرح ہماری طرف سے کارگل جنگ چھیڑی گئی، اسی طرح ہندوستان کی طرف سے محترمہ سونیا گاندھی نے اس فارمولے کو ناکام کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگرس کی پردھان تھیں۔ سردار من موہن سنگھ پرائم منسٹر تھے۔ سونیا گاندھی خوش فہمی میں مبتلا ہوئیں کہ ہم الیکشن جیت جائیں گے۔ بر سر اقتدار آئیں گے۔ تب میرا بیٹا راہول گاندھی اس تاریخی معاہدے پر اپنے ہاتھوں سے دستخط کرے گا۔ لہذا اس معاہدے کو الیکشن کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا۔ لیکن کانگرس الیکشن ہار گئی اور مودی حکومت آگئی۔ اب تو مودی صاحب دوسری بار الیکش جیت چکے ہیں۔
وہ فارمولا، ابھی تک تینوں مذکورہ فریقوں کی ٹیبل پر رکھا ہوا ہے۔ اس معاہدے کی کچھ جزئیات قابل ذکر ہیں۔ گلگلت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پاکستانی علاقوں میں پاک فوج تعینات رہے گی۔ جموں اور لداخ کے غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں انڈین آرمی رہے گی۔ مسلم اکثریتی مقبوضہ علاقوں سے انڈین آرمی کا انخلا ہوگا۔ اس طرح تین علاقے عملی طور پر وجود میں آئیں گے۔ گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی اضلاع میں انتظامی امور کے لئے ملیشیا کی طرز پر فورس بنائی جائے گی۔ تین زون ہونگے۔ ملیشیا، مقبوضہ کشمیر کا اندرونی انتطام سنبھالے گی۔ اس کے پاس نیم خود مختاری رہے گی۔ یہ ایک طرح سے مہاراجہ والی ریاست ہوگی۔ کشمیری پورے کشمیر میں آجا سکیں گے۔ لداخ والے کشمیر، کشمیر والے لداخ جا سکیں گے۔ گلگت بلتستان والے بھی اسی طرح حرکت کرسکیں گے۔ تینوں علاقوں میں کشمیریوں کو آنے جانے کی آزادی ہوگی۔ یہ بغیر پاسپورٹ کے حرکت کرسکیں گے۔ اس میں بھی پیچیدگی موجود ہے۔
پاکستان کے مطابق کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے۔ ہمارا تو سلوگن ہی یہی ہے۔ انڈیا کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ لہذا اس عبوری سیٹ اپ کی مدت دس سال معین کی گئی۔ کشمیری دہری شہریت کے ساتھ، پاکستانی اور ہندوستانی شہری کہلائیں گے۔ اس طرح یہ اپنی شناخت بھی قائم رکھیں گے۔ اس عرصے میں دونوں طرف کے میل جول سے ان کی رائے پختہ ہوگی۔ دس سال بعد عبوری سیٹ اپ کو ری نیو کیا جائے گا۔ یہ ساری بات اختصار کے ساتھ بیان کی جا رہی ہے۔ ممکن ہے ذہنوں میں سوالات آئیں، ابہام ہوں۔ مگر اس پروگرام میں اسی اختصار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اب کرونا وائرس کی وبا نے اپنا کام کر دکھایا ہے۔ اس پر بھی سوچنا چاہیئے۔ آیا یہ بیالوجیکل ویپن ہے۔ اگر ایسا ہے تو سمجھ لیں کہ اب دشمن پر ایٹم بم گرانے کا وقت گزر گیا۔ اب ایسے ہتھیاروں سے جنگ ہوگی، جو فقط انسانوں پر اثر کریں گے۔
چرند پرند، نباتات، جمادات، حیوانات اور مکانات سب اپنی جگہ پر باقی رہیں گے۔ صرف اور صرف انسان درمیان سے ہٹا لئے جائیں گے۔ پس مسئلہ کشمیر کے حل کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ مذاکرات اور امن ہی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ اپنے پرائے سب دیکھ رہے ہیں۔ عربوں میں غیرت ہے نہ سکت۔ حمیت نام کی بو تک نہیں اُن میں۔ دوسری طرف فلسطینی عوام بہت تکلیف میں ہیں۔ آیندہ پاکستان، آذر بائیجان، ایران، ترکی، سنٹرل ایشیا، چائنا اور روس کا بلاک اتحاد کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ فلسطینی مزاحمت موجود رہے گی۔ عالمی سطح پر بھی مسئلہ فلسطین زندہ رہے گا۔ جلد یا بدیر اس کا بھی دو ریاستی حل ہی نظر آتا ہے۔ یہ بھی اپنے اندر بہت زیادہ پیچیدگیاں رکھتا ہے۔
تاحال فلسطین کا زیادہ تر حصہ اسرائیل ہڑپ کرچکا ہے۔ بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کا اعلان پہلے ہی کرچکا ہے۔ مگر اسرائیل سارے کے سارے فلسطین کو ہضم نہیں کر پائے گا۔ اس سیشن سے بخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اہلیانِ پاکستان کا کشمیر اور فلسطین کے ساتھ نظریاتی اور جذباتی لگاو ہے۔ حکومتی سطح پر پالیسیاں بنتی اور بدلتی رہتی ہیں، لیکن عوامی سطح پر کشمیر اور فلسطین کے ساتھ پاکستانیوں کا عشق ناقابلِ زوال ہے۔ پاکستانی ایک نظریاتی قوم ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں نظریات پر سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں۔ ساری دنیا بھی اگر کشمیر اور فلسطین کو چھوڑ دے، پھر بھی پاکستانی عوام کشمیریوں اور فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
