Input your search keywords and press Enter.

صدر آزاد کشمیر کا جیلوں میں قید کشمیریوں پر تشدد ،برین واشنگ کر کے آزادی کے مطالبے سے منحرف کرنے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار

انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروے اور اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل مداخلت کر کے ان نوجوانوں اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں،سردار مسعود خان
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت کی جیلوں میں قید ہزاروں کشمیری نوجوانوں پر بدترین تشدد اور اٴْن کی برین واشنگ کر کے انہیں آزادی کے مطالبے سے منحرف کرنے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کر کے ان نوجوانوں اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔
ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں صدر آزادکشمیر نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد تاریخ کابدترین لاک ڈاؤن لگا کر بھارتی قابض فوج نے جن تیرہ ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کر کے مخصوص نظر بندی کیمپوں میں ڈالا تھا اٴْن سے اٴْن کے والدین اور رشتے داروں کو ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی اٴْن کے بارے میں کوئی اطلاع اٴْن کے لواحقین کو فراہم کی جا رہی ہے۔

ان نوجوانوں کی گرفتاری کی تصدیق خود بھارت کی ایک غیر حکومتی تنظیم نے پورے اعداد و شمار کے ساتھ دی تھی لیکن بھارت کی حکومت ان نوجوانوں کی گرفتاری اور پر مقدمہ چلانے یا نہ چلانے یا انہیں رہا کرنے کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے جس سے ان کی صحت و سلامتی کے بارے میں کئی شکو ک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھارت کے سابق آرمی چیف اور موجودہ چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بیپن راوت کے اٴْس بیان پر شدید تشویش ہے جس میں انہوں نے برملا کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے طاقت کا کھلا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے اور کشمیر میں تعینات فوج کے سپاہی کو کسی سویلین کی طرف سے گولی چلائے جانے کا انتظار کیے بغیر گولی کا استعمال کرنا چاہیے۔
صدر آزادکشمیر راوت نے یہ بھی کہا تھا کہ کشمیر میں انتہاء پسندی (آزادی کا مطالبہ) کرنے والے نوجوانوں کو پکڑ کر اٴْن کی ڈی ریڈیکلائزیشن (برین واشنگ) کرنا ناگزیز ہو چکا ہے کیونکہ وہ گولی سے زیادہ خطرناک بات یعنی بھارت سے علیحدگی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کی یہ بات جو بھارت کی فوج کی کمانڈ کر چکا ہے نہایت خطرناک رجحان کو ظاہر کرتی ہے اور اٴْس کی اس بات سے یہ اندازہ لگانامشکل نہیں کہ بھارت نازی جرمنی کی طرز پر ایسے نظر بندی کیمپ قائم کر چکا ہے جہاں گرفتار کشمیری نوجوانوں کو تشدد اور دیگر نفسیاتی حربوں کے ذریعے آزادی اور حق خودارادیت کی سوچ بدلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر طاقت کا اندھا استعمال ہی مسائل کا حل ہوتا تو پھر جنگ عظیم دوئم کے بعد یورپ اور روس کے علاقوں پر ہٹلر کی حکومت ہوتی۔ بھارت طاقت کا استعمال ترک کر کے کشمیریوں کے جائز اور منصفانہ مطالبہ حق خودارادیت پر توجہ دے اور اس دیرینہ تنازعہ کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے