جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت ختم کئے جانے کے بعد سے کشمیری عوام اپنے سینوں میں غصے کا ایک آتش فشاں لئے بیٹھے ہیں ،نفرت کا ایک الائو روشن کئے ہوئے ہیں ۔اس نفرت اور غصے کا تعلق اپنی صدیوں سے چلی آنے والی شناخت اور تشخص پر حملے سے ہے۔ غصہ اور نفرت پہلے ہی کبھی کم نہیں رہہ مگر پانچ اگست کے بعد اس میں ایک عجیب سی لاتعلقی کے عنصر کا اضافہ ہوگیا ہے ۔پانچ اگست سے پہلے ہی بھارت نے فوجی جمائو اور حفاظتی انتظامات کے نام پر وادی کشمیر میں سکوت مرگ طاری کرنے کا راستہ اختیا رکیا تھا ۔آبادی کے ایک بڑے حصے کے جذبات کی ترجمانی کرنے والے سرگرم افراد کو جن میں ستر سال کے بذرگ اور بارہ پندرہ سال کے لڑکے شامل تھے گھروں سے اُٹھا کر بھارت کی دوردراز جیلوں میں منتقل کئے جاچکے تھے ۔ہر گھر اور گلی میں فوجی پہرے بٹھادئیے گئے تھے ۔ماحول کو اس قدر خوفناک بنا یا گیا تھا کہ کسی لب پر فریاد اور احتجاج کے الفاظ نہ آسکیں۔ بولنے والے ،مزاحمت کرنے والے ،قیادت اور نمائندگی کرنے والوں سے خالی کرکے کشمیر کو گونگا اور بہرہ بنا کر رکھنے کی یہ حکمت عملی چند ماہ ہی چل سکی اور ایک غیر محسوس دبائو پر بھارت کو اپنا دبائو کم کرکے کچھ لوگوں کو محدود انداز میں رہائی دینا پڑی ۔انہی میں بھارت نواز کشمیری جماعتوں کی قیادت ڈاکٹر فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی ،سجاد لون ،مظفرشاہ بھی شامل تھے ۔اس عرصے میں وادی میں ”اپنی پارٹی ” کے نام سے بھارت نے محبوبہ مفتی کے باغیوں پر مشتمل جماعت کے ذریعے سیاست کی نئی پنیری لگانے کی حکمت عملی بھی اختیار کی مگر کشمیری سماج میں اس پر مودی کی اپنی پارٹی کی پھبتی کسی گئی اور مودی کی پارٹی کی پہچان کا مطلب کشمیری سماج میں نفرت کی علامت بن جانا تھا۔ بھارت نواز بڑی جماعتوں کی قیادت کو مقید کرکے خلاء کو پر کرنے کیلئے ”اپنی پارٹی” کا یہ چراغ لو دینے سے پہلے ہی بجھ گیا ۔نئی پنیری لگانے کی ایک کوشش ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تھا۔ بھارت کو یہ اندازہ تھا کہ نیشنل کانفرنس اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی جیسی جماعتیں جو پہلے ہی پانچ اگست کے بعد غصے سے بھری ہیںان بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی اور یوں میدان بھارتیہ جنتا پارٹی اور ا س کے اتحادیوں کے لئے خالی ہوجائے گا۔ اس طرح ماضی کی تسلیم شدہ اور بیرونی روابط رکھنے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بی جے پی زدہ نئی سیاسی پنیری سامنے آئے گی۔یہ کوشش اس وقت ناکام ہوئی جب پیپلزالائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے نام سے قائم وادی کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں نے اچانک ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔اس اعلان کے بعد وادی کی حد تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ پیپلزالائنس فار گپکار ڈیکلریشن نے وادی کا میدان بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے کھلا نہ چھوڑکر ایک کامیاب کارڈ کھیلا ۔اس سے ان جماعتوں کو کچھ حاصل ہوا یا نہیںمگر بھارتیہ جنتا پارٹی کا کھیل خراب ضرورہو۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے شاہنواز حسین جیسے نمائشی مسلمان لیڈروں کو ان انتخابات میںا ستعمال کیا۔ شاہنوازحسین نے کشمیری مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی بی جے پی مسلمانوں کی مخالف نہیں حقیقی ہمدرد ہے۔ اس لطیفے پر کشمیر ی مسلمانوں نے کیا یقین کرنا تھا جو چوہتر برس سے ہمدردی کے مظاہر دیکھ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں وادی کے عوام کی دلچسپی اور ذوق وشوق کا عالم یہ تھا کہ ایک عمر رسیدہ خاتون کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا۔ خاتون سے پوچھا گیا کہ آپ نے ووٹ کیوں ڈالا تو بزرگ خاتون نے کشمیری زبان میں نہایت معصومیت سے کہا کہ میں نے اپنی آزادی کیلئے ووٹ ڈالا۔ اس سے مجھے آزادی ملے گی، ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے انتخابات28 نومبر سے 19دسمبر تک آٹھ فیزز میں ہوئے۔ ان انتخابات کے نتائج جموں اور وادی کی حد تک دو الگ سوچوں اور الگ دھاروں کی عکاسی کرتے رہے۔ وادی کی 112نشستیں پیپلزالائنس فار گپکار نے جیت لیں۔ کانگریس نے چھبیس جبکہ آزاد امیدواروں نے انچاس نشستیں حاصل کیں۔ وادی میں مودی کے اتحادی کشمیریوں نے صرف تین نشستیں حاصل کیں۔ وادی کے عوام نے اس موقع کو انڈینائزیشن کی سرکاری کوششوں کیخلاف فیصلے کیلئے استعمال کیا۔ انتخابات کے فوراً بعد محبوبہ مفتی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ دوسال سے ہماری پارٹی کے خاتمے کی باتیں کی جا رہی تھیں یہ ان کا جواب ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی عزت اور انا کے سوال پر میں خاموش نہیں رہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ میری آخری پریس کانفرنس ہو اس کے بعد مجھے قید کر لیا جائے کیونکہ وادی میں ہزاروں لوگوں کو قید کیا گیا ہے۔ انہیں نہ تو جرم بتایا گیا نہ گھر والوں کو ان کا پتا بتایا جاتا ہے۔یہ بات نوشتہ ٔ دیوار ہے کہ اس کے بعد بھی جب اور جس انداز سے وادی کے عوام کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا رہے تو ہر بار ان کا فیصلہ یہی ہوگا کہ وہ جبری طور پر بھارتی نہیں بن سکتے۔
وادی ٔکشمیر کا فیصلہ
