Input your search keywords and press Enter.

قراردادحق خودارادیت کے 72سال اورمسئلہ کشمیر

انعام الحسن کاشمیری

کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے عالمی وعدے کو امسال 72برس مکمل ہوچکے ہیں۔ یہ وعدہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری نے کشمیریوں کے ساتھ کیا تھا اور بھارت نے اس کی پاس داری کرنے کا بھرپور عہد کیا تھا لیکن آج 70 برسوں بعد بھی کشمیری عالمی برادری کی راہ تک رہے ہیں۔

 پانچ جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان (UNCIP)نے حق خودارادیت کی ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔ کشمیری اس دن کو ”یوم حق خودارادیت“کے طور پر مناتے ہیں۔

لیگی صدر کی عدالت پیشی کے موقع پر خواجہ سعد رفیق اور خواجہ احمد حسان میں تلخ کلامی، شہبازشریف نے بیچ بچائو کرادیا

 مہاراجہ ہری سنگھ کی درخواست پر بھارتی فوجی جب سرینگر کے ائیرپورٹ پر اترے تب مجاہدین یہاں سے چند میل کی دوری پر تھے۔ بھارت کو خطرہ محسوس ہوا کہ مجاہدین فتح یاب ہوتے ہوئے جلد ہی سرینگر پر بھی قبضہ کرلیں گے چنانچہ پنڈت جواہر لال نہرو معاملے کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گئے تاکہ شکست کی ہزیمت سے بچا جاسکے۔ یہ ہندو بنیا کی ایک شاطرانہ چال تھی جس کابنیادی مقصد فتح یاب ہوتے مجاہدین کو روکتے ہوئے مسئلہ کو مکمل طور پر ایک تنازع کا روپ دینا تھاتاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تنازع کی شدت میں کمی آئے اور پھر یہ ازخود ہی ختم ہوکر رہ جائے۔

بھارتی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرتے ہوئے جنگ بندی کی درخواست کی تھی اور اس امر کا عہد کیا تھا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں اور رائے کے مطابق ہی کیا جائے گا۔ بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں اقرار کیا کہ ریاست کے بارے میں آخری فیصلہ کشمیری عوام نے کرنا ہے۔ ہم نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو عارضی اور مشروط طور پر منظور کیا تھا۔ الحاق کے بارے میں حتمی فیصلہ کشمیری عوام کو اپنی آزادانہ مرضی سے کرنا ہے اور یہ فیصلہ ابھی ہونا ہے۔

پیپلزپارٹی کی اپوزیشن سے دوریوں کی افواہیں لیکن دراصل آصف زرداری کو حکومت سے کیا ڈر ہے؟ سینئر کالم نویس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

 سلامتی کونسل نے اولین قرارداد میں فوری طور پر کشمیر میں جنگ بندی کروادی تھی اور مسئلہ کے حل کے لئے ایک کمیشن ”اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انڈیا و پاکستان“ تشکیل دیا گیا۔ بھارت کی ہی منشا تھی تاکہ مجاہدین کو مزید پیش قدمی سے فوری طور پر روکا جاسکے۔ بعد ازاں مختلف قراردادیں پاس کی گئیں۔ 1948ء کے دوران سلامتی کونسل نے متعدد قراردادیں پاس کیں جن میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت خطے میں امن کے قیام اور ریاست کے مستقبل کے تعین کے لئے رائے شماری کے انعقاد کے سلسلہ میں کمیشن سے تعاون کریں تاکہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر رائے شماری کے ذریعے کشمیر کے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا جاسکے۔

انقلابی کون۔۔۔؟؟؟

 دسمبر 1948ء میں بھارت اور پاکستان نے کمیشن کو باور کروایا کہ وہ ریاست کشمیر میں مکمل طور پر جنگ بندی کرنے اور رائے شماری کے انعقاد پر رضامند ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد 5جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ نے ایک قرارداد پاس کی جس میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کی بات نمایاں اور واضح طور پر کی گئی۔ اس قرارداد میں جنگ بندی پر عمل درآمد اور رائے شماری کے انعقاد کے طریق کار کا واضح طور پر تعین کردیا گیا اور کہا گیا کہ یہ رائے شماری اقوام متحدہ کی نگرانی میں بالکل آزادانہ اور غیر جانبدارنہ فضا میں ہوگی اور اس کے ذریعے کشمیری عوام کو یہ موقع دیا جائے گاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں، الحاق کرلیں۔

اقوام متحدہ کی 5جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قرارداد کا متن حسبِ ذیل ہے۔:کمیشن اقوام متحدہ برائے بھارت و پاکستان نے ہرگاہ کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے ان کیے مراسلات مورخہ 23دسمبر اور25دسمبر1948ء (علی الترتیب) کے ذریعے مندرجہ ذیل اصولوں کی منظوری پالی ہے، جو کمیشن کی قرارداد منظور شدہ 13اگست 1948ء ضمیمہ ہے لہذا :

1۔ریاست جموں وکشمیر کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا مسئلہ آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے طے پائے گا۔

2۔  استصواب اس وقت ہوگا جب کمیشن کو یہ وثوق ہوجائے گا کہ جنگ بندی اور صلح نامہ کی رائے شماری سے متعلق انتظامات کی تکمیل ہوچکی ہے، جو کمیشن کی قرارداد مورخہ13اگست1948ء کے حصہ اول و دوم میں درج ہیں۔

3۔ (الف) سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،کمیشن سے اتفاق رائے کے بعد ایک ناظم رائے شماری نامزد کرے گا جو ایک نہایت اعلیٰ بین الاقوامی شخصیت کا مالک ہوگا اور بالعموم قابل اعتماد تصور کیاجاتا ہو۔ اس کا باقاعدہ تقرر حکومت جموں وکشمیر کی طرف سے عمل میں آئے گا۔ (ب) ناظم رائے شماری وہ تمام اختیارات ریاست جموں وکشمیر سے حاصل کرے گا جنہیں وہ استصواب کے اہتمام اور کارروائی اور اس کے آزاد اور غیر جانبدار ہونے کی ضمانت کے لئے ضروری خیال کرے۔ (ج) ناظم رائے شماری کو مبصرین کی امداد کے لئے ایسے عملے کے تقر ر کا اختیار ہوگا، جس کی وہ ضرورت محسوس کرے۔

4۔ (الف)کمیشن کی 13اگست 1948ء کی قرارداد کے حصہ اول و دوم پرعمل درآمد اور کمیشن کے اس اطمینان پر کہ ریاست میں پر امن حالات قائم ہوچکے ہیں، ناظم رائے شماری بھارتی حکومت کے ساتھ مشورہ کرکے بھارت اور کشمیر کی مسلح افواج کے آخری انخلا کا فیصلہ کرے گا، جس میں ریاست کے تحفظ اور استصواب کے آزادانہ ہونے کو بخوبی ملحوظ رکھا جائے گا۔  (ب) 13اگست 1948ء کی قرارداد کے حصہ دوم (الف) 2میں جس علاقے کا ذکر کیاگیا ہے اس میں مسلح فوجوں کے آخری انخلا کا فیصلہ کمیشن اور ناظم رائے شماری مقامی حکام کے مشورے سے کریں گے۔

5۔ ریاست کے اند رتمام شہری و فوجی حکام اور سرکردہ سیاسی عناصر استصواب کی تیاری اور کارروائی میں ناظم رائے شماری کے ساتھ تعاون کریں گے۔

6۔ (الف)ریاست کے ان تمام شہریوں کو جو فسادات کی وجہ سے جاچکے ہیں واپس آنے کی دعوت دی جائے گی اور اپنے تمام حقوق استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ واپس آنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے دوکمیشن مقرر ہونگے۔ ان میں سے ایک بھارت اور دوسرا پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل ہوگا۔ یہ کمیشن ناظم رائے شماری کے تحت کام کریں گے۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں نیز ریاست جموں وکشمیر کے تمام حکام ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ناظم رائے شماری سے تعاون کریں گے۔ (ب)تمام اشخاص (ریاست کے باشندوں کے علاوہ) جو 15اگست 1947ء تک یا اس کے بعد ریاست میں قانونی مقاصد کے علاوہ وارد ہوئے ہیں، انہیں ریاست سے جانا پڑے گا۔

7۔  ریاست جموں وکشمیر کے جملہ احکام ناظم رائے شماری کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس امر کے ضامن ہوں گے کہ:(الف) رائے شماری کے سلسلے میں ووٹروں کو کسی دھمکی، دباؤ، تخویف اور رشوت یا کسی اور ناواجب اثر سے مرعوب نہیں کیا جائے گا۔ (ب) تمام ریاست میں سیاسی زندگی کی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔ ریاست کے تمام باشندے بلا لحاظ عقیدہ، ذات یا جماعت بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں اپنے خیالات اور ووٹ اندازی کے معاملہ میں محفوظ ہوں گے۔ ریاست میں اخبارات کی آزادی، تقریر اور میل جول کی آزادی اور چلنے پھرنے کی آزادی ہوگی،جس میں ریاست کے اندر باہر جائز آمدورفت کی آزادی بھی شامل ہے۔ (ج) تمام سیاسی قیدی رہا کئے جائیں گے۔ (د) ریاست کے تمام حصوں میں اقلیتوں کو معقول تحفظ حاصل ہوگا (ہ) کسی پر کوئی تشدد نہیں کیا جائے گا

8۔ جن مسائل کے لئے مدد درکار ہو، ناظم رائے شماری انہیں کمیشن اقوام متحدہ برائے بھارت و پاکستان کے سامنے پیش کرے گا، اور کمیشن چاہے تو ناظم رائے شماری کو یہ ہدایت کرسکتا ہے کہ وہ اس کی قائم مقامی میں کوئی ذمہ داری انجام دے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔

9۔ استصواب کے ختم ہونے پر ناظم رائے شماری کمیشن اور حکومت جموں وکشمیر کو اس کے نتیجے سے مطلع کرے گا۔ ازاں بعد کمیشن سلامتی کونسل کے سامنے اس امر کی تصدیق کرے گا کہ رائے شماری آزادانہ اور غیر جابندارانہ ہوئی ہے یا نہیں۔

10۔ صلح نامے پر دستخط ہونے کے بعد کمیشن کی 13اگست 1948ء کی قرارداد کے حصہ سوم میں جو مشورے مدنظر ہیں، ان کے مطابق محولا بالا تجاویز کی تفصیلات  کی توضیح و تشریح کی جائے گی۔ ناظم استصواب ان مشوروں میں پوری طرح شریک رہے گا۔

 کمیشن بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے سفارش کرتا ہے کہ وہ کمیشن کی 13اگست1948ء کی قرارداد کے مطابق طے شدہ معاہدہ کی تعمیل کرتے ہوئے یکم جنوری 1949ء کی رات کے 12بجے سے ایک منٹ پہلے جنگ بندی کا حکم جارے کرنے کے سلسلے میں فوری کارروائی کریں اور طے کرتا ہے کہ وہ فی الفور ہی برصغیر میں واپس آکر ان ذمہ داریوں کو انجام دے گا جو اس پر 13اگست 1948ء کی قرارداد اور مذکورہ بالا اصولوں کے مطابق عائد ہوتی ہیں۔

اس قرارداد کی منظوری کو72برس گزرچکے ہیں لیکن افسوس کہ بھارت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان ستربرسوں کے دوران لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ 5اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد تحریک آزادی ئ کشمیر کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ بھارت کا خیال تھا کہ وہ اس تحریک کو کچل ڈالے گا لیکن نئے مرحلے کے کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی کشمیریوں کے حوصلوں اور ان کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایک صدی اور بھی گزرجائے اور کئی نسلیں اس راہ میں قربان ہوجائیں تب بھی دنیا کشمیریوں کے حوصلوں اور عزم کو چٹانوں کی طرح مضبوط ہی دیکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے