Input your search keywords and press Enter.

مسئلہ کشمیر: عالمی ضمیر کب جاگے گا؟

مردہ عالمی ضمیر جگانے اور اقوامِ متحدہ کو یہ یاد دلانے کے لئے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے لئے 5جنوری 1949کو سلامتی کونسل نے جو متفقہ قرار داد منظور کی تھی اس پر 72سال بعد بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا، منگل کو مقبوضہ و آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کشمیری عوام نے یومِ حقِ خودارادیت اِس عزم کے ساتھ منایا کہ بھارت کے تمام تر استبدادی ہتھکنڈوں کے باوجود حصول آزادی کے لئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور کامیابی حاصل کئے بغیر وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مقبوضہ و آزاد کشمیر اور پاکستان کے علاوہ نیویارک، لندن، برسلز اور دیگر یورپی دارالحکومتوں میں اس روز کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں زبردست احتجاجی مظاہرے اور بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ پرجوش ریلیاں اس بات کی علامت تھیں کہ ریاست جموں و کشمیر پر ناجائز بھارتی قبضہ زیادہ دیر تک قائم رہنے والا نہیں اس موقع پر سری نگر سمیت دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو یادداشتیں پیش کی گئیں جن میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی اور کشمیریوں کو حقِ خودارادی دلانے کیلئے سلامتی کونسل کی مختلف ادوار میں منظور کی

جانے والی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر اور بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہروں کے علاوہ حریت رہنمائوں نے متعلقہ دفاتر کو یادداشتیں بھی پیش کیں صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے اس دن کی مناسبت سے اپنے پیغامات میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے جموں و کشمیر کی تقسیم کے نظریے کو مسترد کر دیا اور ریاست کے پاکستان سے الحاق کی جدوجہد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا۔ راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت اور ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا گیاکہ بہادر کشمیریوں کی جدوجہد کامیاب ہو گی اور مسئلہ کشمیر ان کی مرضی کے مطابق حل ہو گا آرمی چیف نے اس موقع پر اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سینیٹ کے اجلاس میں بھی کشمیری عوام کی مکمل سیاسی اخلاقی و سفارتی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر پر جامع ایکشن پلان تیار کرنے کے لئے بات چیت کی دعوت دی، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جہاں عالمی امن کیلئے بین الاقوامی برادری کی اولین ترجیح ہونا چاہئے وہاں اقوام متحدہ کیلئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس کی سلامتی کونسل نے جو قرار داد منظور کی تھی اس پر سات عشرے گزرنے کے بعد بھی عمل کیوں نہیں ہوا؟ کیا یہ اس ادارہ کے قیام کے مقاصد کی نفی نہیں؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ انڈونیشیا اور سوڈان سے غیرمسلم علاقوں کو آزادی دلانا ہو تو اقوام متحدہ فوراً حرکت میں آتی ہے اور مشرقی تیموراور جنوبی سوڈان کی مملکتیں وجود میں آجاتی ہیں مگر کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے معاملے میں متفقہ قراردادوں اور ان ریاستوں میں بھارت اور اسرائیل کی مسلسل ستم رانیوں کے باوجود اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اپنے منشور اور مقاصد میں ناکامی اور بدعہدی کے بعد سوچنا ہوگا کہ اس عالمی ادارے کے وجود کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ اقوامِ متحدہ اور اس کی اجارہ دار قوتوں کو اپنا طرز عمل بدلنا ہو گا اور کشمیر اور فلسطین کے مسائل بھی اپنی قرار دادوں کے مطابق مزید تاخیر کئے بغیر حل کرنا ہوں گے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے