ویانا(المیر باجوہ)تحریک کشمیر ڈنمارک یورپ کے زیر اہتمام یوم حق خود اردیت کے حوالے ایک ویبینارب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق تھے ۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا ہر روز کشمیریوں کی بنیادی انسانی عزت پامال ہو رہی ہے، جموں وکشمیر میں بدترین مصائب، ظلم جبر و استبداد کا سامنا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیریوں کو ان کاحق اب تک نہیں مل سکا جس کا وعدہ عالمی برادری نے کیا تھا لیکن پاکستان ہر فورم پر ان کے لیے آواز بلند کرے گا ۔
تحریک کشمیر ڈنمارک کے صدر عدیل آسی نے کہا کہ آج کا دن منانے کا مقصد عالمی برادری کو 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کی منظور کی گئی اس قرارداد کی یاد دہانی کرانا ہے جس میں کشمیری عوام سے رائے شماری کے آزادانہ انعقاد شامل ہے۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب صاحب نے کہا ہم یورپ کے ہر ملک میں ہر وقت کشمیروں کے لیے آواز بلند کریں گے، بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے اب باز آجائے اور کشمیروں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔
کشمیری کیمپین گلوبل کے صدر ظفر قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو برسوں بیت گئے تاہم کشمیریوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ تھمنے کی بجائے اور تیز ہوگیا ہے، سینکڑوں شہادتوں، پیلٹ گنوں سے معذوری اور خواتین کی عصمت دری کے واقعات کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ آزادی اور جنون پکڑ رہا ہے، کشمیریوں کا بڑا مطالبہ بھارتی تسلط سے آزادی اور حق خودارادیت ہے۔ڈاکٹر ہما خان نے کشمیر میں خواتین کے حقوق کی پامالی اور عصمت دری کے حوالے سے ایک پریزینٹیشن پیش کی۔ تحریک کشمیر ڈنمارک کے سر پر ست میاں منیر احمد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے پر امن لوگوں کو کچلنے کے لیے خواتین بچوں سمیت ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا ہے۔ ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ کانفرنس میں اٹلی سے محمود شریف اور ناروے سے میاں طیب نے بھی خطاب کیا جبکہ برطانیہ ،یورپ اور ڈنمارک سے تحریک کشمیر کے ممبران نے شرکت کی۔ کانفرنس کی نظامت تحریک کشمیر ڈنمارک کے جنرل سیکرٹری اشفاق ابدالی نے کی۔
